حمنہ کبیر (وارانسی): ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

0
حمنہ کبیر (وارانسی): ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

حمنہ کبیر (وارانسی)
اسے اس حالت میں دیکھ کر مجھے بڑی حیرت ہوئی تھی۔ ہنستا، مسکراتا چہرہ ایک دم سے پھیکا اور بے رنگ ہوگیا تھا۔ متحرک رہنے والی پرتجسس روشن آنکھیں سست اور ماند پڑ گئی تھیں۔ نگاہیں ملتے ہی میں نے سلام کیا۔ سلام کرنے میں پہل کرنی چاہئے۔
’ السلام علیکم!! عرصہ بعد نظر آئے ہو۔ خیریت تو ہے؟‘
’وعلیکم السلام! ہاں شائد۔۔۔‘
قدرے بے زاری سے جواب ملا۔
’شائد؟؟؟ بھلا کیوں؟؟ یہ کیا حشر بنایا ہے اپنا۔۔۔آؤ۔۔ آؤ۔۔۔ ساتھ ہی چائے پیتے ہیں۔‘
اس نے نک چڑھی لڑکیوں کی طرح منھ کا زاویہ بگاڑا۔ یوں چہرے پر مزید بدمزگی نظر آئی، بے ڈھنگی چال چلتے ہوئے میز تک آیا ، سلیقہ سے رکھی ہوئی کرسی کھینچ کر بے ترتیب کی اور پیر پھیلا کر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گیا۔
’کافی یا چائے؟‘
میں نے خوش دلی سے پوچھا تھا۔
’دونوں ہی نہیں۔‘
’ شکریہ۔‘
میں نے لاپرواہی سے کہا اور ویٹر کو متوجہ کیا۔
’ایکسکیوز می!!! ایک چائے۔۔۔۔۔اور پلیز ایک ہی چائے۔‘
میں نے اپنے سامنے بیٹھے بے زار شخص کو فراموش کردیا تھا۔ چائے آگئی تھی۔ میں نے کپ اٹھایا اور آس پاس نظریں دوڑائیں۔ چھوٹا مگر صاف ستھرا اور سلیقے سے سجا ہوا کیفے تھا۔ چونکہ دوپہر تھی اس لئے اکثر میزیں خالی تھیں۔ چائے واقعی اچھی تھی۔
’زندگی سے مایوس ہوچکا ہوں۔‘
اچانک اس کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
’لیکن میں نے تو چائے کا پوچھا تھا۔‘
’ وجہ یہ نہیں۔ ‘ لہجہ پہلے سے زیادہ بے زار کن تھا۔
’پھر؟؟‘
’کسی کام میں دل نہیں لگتا ہے۔ نا کچھ کرنے کا جی چاہتا ہے۔ سب سے وحشت ہونے لگی ہے۔ ہر ماحول سے فرار چاہتا ہوں۔‘
’ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ تم تو محفلوں کی جان ہوا کرتے تھے۔ اتنی مایوسی اچھی نہیں۔‘
’ہوا کرتا تھا۔ اب نہیں رہا۔‘ اس نے ٹھنڈی سانس لی۔
“لیکن کیوں؟ ایسا کیا ہوگیا ہے؟ ”
’معلوم نہیں کیوں۔جینے کی خواہش بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ جی چاہتا ہے خود کو مار۔۔۔‘
میں نے فوراً اس کی بات کاٹی۔
’ اللہ کا خوف کرو۔ سب کی زندگیوں میں اتار چڑھاؤ آتے ہیں۔ لیکن اس حد تک مایوسی کہ۔۔توبہ۔۔توبہ۔۔ ‘
’پھر میں کیا کروں ؟ خود کو خوش رکھنے کے لئے بہت کوششیں کیں۔‘
’دیکھو !!! اگر تم اس حد تک مایوس ہوچکے ہو کہ موت کو ترجیح دینے لگے تو جان لو کہ اتنی جلدی ذہنی الجھنوں سے نکلنا ممکن نہیں۔ فی الحال کوشش تو کرو ، مثبت پہلوؤں پر زیادہ دھیان دو۔‘
’بتایا تو ہے کہ ہر طرح سے کوشش کرکے دیکھ چکا ہوں۔ ہر چیز سے بے زار ہوں، ہر موسم سے چڑ ہے۔ تنہائی پسند ہوتا جا رہا ہوں۔ کسی کی شکل دیکھنا نہیں چاہتا اب۔‘ اب کی دفعہ وہ چڑچڑا کر بولا تھا۔
’واقعی تمہاری حالت قابلِ رحم ہے۔ لیکن یوں گوشہ نشینی اختیار کرنے سے ذہنی الجھنیں بڑھتی ہی جائیں گی۔‘
’ یار پھر میں کیا کروں؟ ‘
’کتابیں پڑھو، سیر و تفریح کرو، دوستوں سے ملو، گھر کے افراد کے ساتھ وقت گزارو۔ ‘
’خیر تم رہنے دو۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ ‘
اس کے انداز میں مایوسی اور بے زاری تھی۔
’ تمہیں اس حال میں دیکھ کر مجھے واقعی بہت افسوس ہورہا ہے۔‘
’افسوس کے سوا کوئی میرے لئے کر بھی کیا سکتا ہے۔‘
’تم سب سے پہلے اپنے ذہن سے منفی سوچ کو نکالو۔ لوگوں کو ،ان کی باتوں کو مثبت انداز سے دیکھنا شروع کرو۔‘
’مجھے نہیں لگتا ہے کہ میں یہ بھی کر پاؤں گا۔‘
’ اچھا تو کوئی نئی مصروفیت ڈھونڈو۔ کوئی شوق پورا کرو۔کوئی نیا کام شروع کردو۔‘
’ کر تو رہا ہوں۔ ‘
’واقعی ؟ تم نے بتایا نہیں۔ کب سے؟ کیا کررہے ہو آج کل؟ ‘ میں نے خوش ہو کر پوچھا۔
’وہ۔۔۔میں۔۔۔دراصل۔۔مم۔۔ میں موٹیویشنل اسپیکر ہوں۔‘
[email protected]