حافظؔ کرناٹکی: پنڈت جواہر لعل نہرواور یوم اطفال

0

حافظؔ کرناٹکی
پنڈت جواہر لعل نہرو آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ لیکن اس سے بڑھ کر یہ کہ وہ جدّو جہد آزادی کے بڑے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے ملک کی آزادی کے لیے بہت قربانیاں دی تھیں۔ گاندھی جی، مولانا آزاد اور سردار پٹیل کے لیے وہ سب سے قابل اعتماد رہنماؤں اور کانگریسیوں میں سے ایک تھے۔ ان کے والد موتی لعل نہرو بھی ہندوستان کی جدّوجہد آزادی کے رہنماؤں میں سے ایک تھے۔ کانگریس کے ابتدائی رہنماؤں میں اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے والوں میں موتی لعل نہرو کا نام کافی نمایاں ہے۔پنڈت جواہر لعل نہرو اپنے ملک اور اپنی قوم سے محبت کرنے والے ایسے لیڈر اور انسان تھے جنہیں اپنے ملک اور ملک کے باشندوں کے بارے میں کوئی بھی ایسی بات سخت ناگوار گزرتی تھی جس سے ان کی توہین کا پہلو نکلتا تھا۔
پنڈت جواہر لعل نہرو کی تعلیم و تربیت بہت ہی اعلیٰ اور عمدہ انداز میں ہوئی تھی۔ انہیں جس قدر اپنے ملک سے محبت تھی اسی قدر اپنے ملک کے ہر چھوٹے بڑے انسان سے محبت تھی۔ تعصب اور تنگ نظری سے وہ بے نیاز تھے، ان کی نظروں میں سارے ہندوستانی برابر تھے۔ وہ ایک روشن خیال انسان اور دوراندیش سیاسی مفکر تھے۔ وہ بڑے اچھے انشاپرداز بھی تھے۔ انہیں اردو اور انگریزی میں یکساں مہارت حاصل تھی۔وہ بچوں سے محبت کرنے والے ایک سیاسی لیڈر ہی نہیں تھے بلکہ وہ بچوں کے ادیب بھی تھے۔ انہوں نے بچوں کے لیے بہت ساری کہانیاں لکھی ہیں۔ ان کی کئی کہانیاں اور بچوں کے لیے مفید چیزیں، پیام تعلیم میں شائع بھی ہوئی ہیں۔ بات دراصل یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر حسین جو بعد میں ہندوستان کے صدر بنے تھے اور پنڈت نہرو کے اچھے تعلقات تھے اور دونوں کو بچوں اور بچوں کے ادب سے محبت تھی۔ ڈاکٹر ذاکر حسین بھی بچوں کے لیے کہانیاں لکھتے تھے اور غالباً انہیں کی ایما پر پنڈت جواہر لعل نہرو بھی بچوں کے لیے کہانیاںاور دوسری چیزیں لکھتے تھے۔کہنے کا مطلب یہ کہ پنڈت جواہرلعل نہرو کو بچوں سے بہت لگاؤ اور پیار تھا۔ وہ یہ جانتے تھے کہ بچے دنیا کے سب سے انمول تحفے اور قدرت کا سب سے بہترین عطیہ ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آنے والی زندگی اور ملک و قوم اور دنیا جہان اور بنی نوع انسان کی ترقی کا مدار بچے ہیں۔ اس لیے وہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کا خاص خیال رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب لوگوں نے ان سے کہا کہ ان کا یوم پیدائش منانے کی اجازت دی جائے تو پہلے تو انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا مگر جب دوستوں اور چاہنے والوں کے اصرار بڑھتے ہی چلے گئے تو انہوں نے کہاکہ اگر میرا یوم پیدائش منانا ہے تو اسے بچوں کے دن کے طور پر مناؤ۔
پنڈت نہرو کو لگا کہ اگر ملک بھر میں لوگ ان کی تاریخ پیدائش کو یوم اطفال کے طور پر منائیں گے تو کم از کم سال میں ایک بار سارے ملک کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بچے بنیں گے۔ وہ بچے جو ہمارے ملک اور قوم کا مستقبل ہیں۔ وہ بچے جو غربت کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پارے ہیں وہ بچے جو مزدوری کی وجہ سے نظر انداز کردیے جاتے ہیں۔ وہ بچے جو کچروں میں زندگی بسر کرتے ہیں اور کوڑا کرکٹ چن کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں۔وہ بچے جو تعلیم سے محروم اپنی کم عمری کے باوجود مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے سوچا ہوگا کہ ہندوستانی سماج میں لوگ عام طور پران بچوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ اگر ان کی یوم پیدائش کے موقع سے لوگوں کی توجہ بچوں کی طرف ہوگی تو لوگ آہستہ آہستہ بچوں کی قدر وقیمت سے آگاہ ہوں گے۔ اور ایک دن سارے لوگ مل جل کر بچوں کے لیے کچھ نہ کچھ کرنے پر بھی آمادہ ہوں گے۔ اور جب بچوں کے لیے پوری قوم کچھ نہ کچھ کرنے پر آمادہ اور تیار ہوجائے گی تو پھر بچوں کی زندگی کے راستوں پر روشنی پھیل جائے گی تو جہ کی، لگاوٹ کی، اپنائیت کی، تحفظ اور تعلیم و تعلم کی۔ اس طرح ہندوستان کا مستقبل محفوظ ہوجائے گا۔
اگر دنیا کی بناوٹ اور اس کے روشن مستقبل کے بارے میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کا مستقبل بچوں کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ جب تک بچوں کو اچھی تعلیم، اچھی صحت، اور اچھی تربیت نہیں ملے گی تب تک دنیا کا مستقبل محفوظ نہیں ہوسکے گا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو بے شک ہندوستان کے پہلے وزیراعظم تھے اور وہ بچوں کے لیے بھی بہت کچھ کرنا چاہتے تھے۔ مگر وہ خوب جانتے تھے کہ بچوں کے لیے محض حکومت کی سطح سے کچھ کرنا پیاسے کو اوس چٹانے کے مترادف ہوگا۔ کیونکہ ہندوستان جیسے بڑے اور کثیر آبادی والے ملک میں بچوں کی تعداد نہ کل کم تھی اور نہ آج کم ہے۔ اس لیے انہوں نے کوشش کی کہ ان کی تاریخ پیدائش کے موقع سے یوم اطفال کا اہتمام کرکے ہندوستان بھر کے لوگوں کی توجہ بچوں کی طرف مبذول کی جائے۔ جب ہندوستان کا ہر شہری بچوں کے حقوق کے متعلق اپنی ذمہ داری محسوس کرنے لگے گا تو پھر بچوں کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی۔ کوئی بچوں کا استحصال کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔جب ہندوستان کے سارے شہری ہندوستان کے سارے بچوں کو ملک کی امانت اور اس کے خزانے کا گوہر مان لیں گے تو سارے لوگ مل کر اس کی حفاظت میں لگ جائیں گے اس طرح ایک بہت بڑا کام بہت سارے لوگوں کے تعاون سے آسانی کے ساتھ انجام پذیر ہوجائے گا۔
اساتذہ بچوں کو بہترین تعلیم و تربیت دیتے ہوئے محسوس کریں گے کہ وہ ملک اور قوم اور انسانیت کے مستقبل کو تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ان کا علاج کرتے وقت محسوس کریں گے کہ وہ ملک اور قوم کو صحت مند بنانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ وکیل اور جج ان کے حقوق کی حفاظت پر نظر کرتے ہوئے اس پر کیے جانے والے مظالم اور ان پر لگائے گئے جرائم کے الزامات کی جرح اور سماعت کرتے ہوئے محسوس کریں گے کہ اگر بچے ہی محفوظ نہ ہوں گے تو پھر ملک کل کس کے ہاتھوں میں محفوظ رہے گا۔ وہ یہ بھی سمجھ پائیں گے اور لوگوں کو سمجھاپائیں گے کہ بچوں کے ساتھ کیے جانے والے ہر جرائم اور ظلم کو قوم پر کیے جانے والے ظلم کے طور پر دیکھا جائے گا۔بچوں کا استحصال کرنے والے بچوں کے معاون بن کر کھڑے ہوں گے اور محسوس کریں گے کہ وہ ملک کے مستقبل کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب یہ ساری باتیں ہمارے ذہن میں آرہی ہیں تو پنڈت جواہر لعل نہرو تو بہت دور اندیش،پڑھے لکھے، دانشور اور مفکر تھے۔ انہوں نے نہ جانے اور کیا کیا سوچاہوگا اپنی پیدائش کے دن کو یوم اطفال کے طور پر منانے کے حوالے سے۔ کیونکہ انہیں اپنے ملک اور اپنے ملک کے باشندوں سے بے اندازہ محبت تھی۔ بچوں سے ان کی محبت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بچے انہیں چچا نہرو کہہ کر پکارتے تھے۔ ہندوستان کے عوام سے ان کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے ایک دوست یوروپ کی سیر سے واپس آئے تو ان سے ملنے کے لیے حاضر ہوئے۔ اور جتنی دیر تک بیٹھے رہے یوروپ والوں کی شرافت، تہذیب اور صفائی پسندی کی باتیں کرتے رہے۔ ایک بار جب انہوں نے یوروپ کے لوگوں اور وہاں کے شہریوں کی تعریف کرتے ہوئے ہندوستان اوریہاں کے لوگوں کی برائی کی تو پنڈت نہرو غضبناک ہوگئے اور کہا کہ آپ ایسا کیوں نہیں کرتے کہ سارے گنوار ہندوستانیوں کو سمندر میں غرق کردیں اور یوروپ کے لوگوں کو یہاں لگا کر بسادیں۔ پھر انہوں نے نرمی سے کہا کہ دیکھو بھائی ہمارے ہندوستانی جیسے بھی ہیں ہمارے اپنے ہیں۔ اور ہمیں انہیں کے درمیان رہ کر کام کرنا ہے اور انہیں مہذب اور تعلیم یافتہ بنانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنڈت نہرو جنہوں نے دولت کی چمک دمک کے ماحول میں آنکھیں کھولیں، زندگی کی عیش و عشرت کے سامان کے ساتھ پرورش پائی انہوں نے جب محسوس کیا کہ ملک کو ان کی ضرورت ہے تو انہوں نے اپنا سارا عیش و آرام تج دیا، اور معمولی زندگی گزارنے پر آمادہ ہوگئے۔ کیا یہ بات قابل توجہ نہیں ہے کہ جس انسان کی ابتدائی زندگی مخمل کے فرش پر گزری اس نے وطن کی محبت میں اپنے وطن کی جلتی اور دھول سے اٹی زمین پر ننگے پاؤں چلنے میں زیادہ راحت محسوس کی۔ جس شخص نے ریشم و کم خواب کے کپڑے پہنے اس نے ملک کی محبت میں ریشم اتار کر کھدرپہننے میں راحت اور فخر محسوس کی۔ جو شخص آرام دہ اور نرم و ملائم بستر پر بے فکری کی نیند کے مزے لینے کا عادی ہو چکاتھا اس نے دیس واسیوں کی محبت میں بے خوابی اور پتھریلے بستر کو اس خلوص اور محبت سے اپنایا کہ وہی اس کی زندگی کا حصّہ بن گیا۔ سچ یہ ہے کہ کسی ملک اور قوم کا سچا لیڈر وہی ہوتا ہے یا بن پاتا ہے جس کے دل میں اپنے وطن اور اپنے وطن کے رہنے والوں کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوتی ہے۔ جن کے دلوں میں ایثار اور قربانی کی مشعل روشن ہوتی ہے۔ جو لوگ ملک گیری اور ہوس گیری کی حیثیت سے لیڈری کے چکر میں پڑتے ہیں وہ بہت جلد اپنی لالچ کا شکار ہو کر فنا ہوجاتے ہیں۔ مگر سچے جذبے کے ساتھ ملک اور ملک کے باشندوں کی خدمت کرنے والے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اور محبت کے ساتھ یاد کیے جاتے ہیں۔ چوں کہ پنڈت جواہر لعل نہرو کو اپنے وطن اور اپنے وطن کی ایک ایک چیز سے محبت تھی اسی لیے وہ یوم اطفال کے موقع سے بچوں کا پیار بن کر ان بچوں کے والدین کے دلوں میں زندہ رہتے ہیں بلکہ بچوں کی یادداشت، اس کی تعلیم و تربیت اور ان کے حقوق کی پاسداری کے حوالے سے بچوں کے دلوں میں بھی روشنی بن جاتے ہیں۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ کسی ملک کی اصل دولت اس ملک کے بچے ہوتے ہیں۔ باصلاحیت، صاحب کردار، اخلاق مند، تعلیم یافتہ اور اپنے ملک و قوم سے محبت کرنے والے بچے اور ان بچوں کو لائق و فائق بنانے میں قربانیاں پیش کرنے والے رہنما، اساتذہ، اتالیق، اور والدین گویا بچوں کے حوالے سے پورا ملک ایک مرکز پر ایک نقطے پر سمٹ آتا ہے۔ کیونکہ زندگی کی ساری جدّوجہد کا محور اور مقصد بچہ ہی ہوتا ہے۔ ہر انسان دنیا میں جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کا محرک بچہ ہوتا ہے۔ بچہ یعنی اس کا آنے والا کل ۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو کی یوم پیدائش کو یوم اطفال کے طور پر مناکر ہم سب حسی طور پر زندگی کے دونوں سروں سے بندھ جاتے ہیں۔ ایک سرے پر بچہ ہوتا ہے تو دوسرے سرے پر قوم کا لیڈر اور ہم جانتے ہیں کہ ان دونوں کے بیچ ڈور اور پتنگ کا رشتہ قائم کرنے کے لیے ہم سبھی دھاگے کا کام کرتے ہیں۔یعنی پنڈت نہرو جانے کے بعد بھی ہم سارے ہندوستانیوں کو متحد رہنے اور اتحاد کی ڈور کو مضبوطی سے تھامے رہنے کا سبق پڑھانے کے لیے ہر سال یوم اطفال کے موقع سے آجاتے ہیں۔ اور ہمیں اچھی طرح ذہن نشین کراجاتے ہیں کہ ہمارے پاس جو بچے ہیں وہ اللہ کی امانت اور ملک و قوم کی دولت ہیں۔ اور ہمیں نہایت ایمانداری سے اس امانت کو سنبھال کر رکھنا ہے۔ اس دولت کی حفاظت کرنی ہے۔ کیوں کہ اسی دولت پر ملک کے مستقبل کا مدار ہے۔
اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو لوگ اپنی قوم، اپنے ملک، اپنی مٹی اور بنی نوع انسان کی خدمت کا سچا جذبہ رکھتے ہیں، اس کی محبت کی خوشبو کو اپنی روح میں بسالیتے ہیں وہ کبھی نہیں مرتے ہیں۔ بلکہ ان کی یادوں سے مردہ دلوں میں بھی زندگی کی آگ پیدا ہوجاتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ ہم اپنے ایسے باکمال، مخلص، باہنر اور سبھوں کی محبت سے لبریز دل والے رہنماکی یاد کو زندہ رکھیں اور اسے ایک امانت کی طرح آنیوالی نسل کے حوالے کردیں تا کہ ذمہ داری اور امانت داری کا یہ سلسلہ یونہی جاری رہے۔
[email protected]