گیان واپی : اکھلیش اور اویسی کے بیان پر عدالت سماعت کےلئے تیار

0
Jsnewstimes

وارانسی، (ایجنسیاں) عدالت نے آج سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو اور مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی اور دیگر کے خلاف وارانسی گیان واپی مسجد کیس کے بارے میںبیان بازی پر مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست پر اپنا حکم سنایا۔اے سی جے ایم پنچم/ایم پی ایم ایل اے عدالت نے اس کیس کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے اگلی تاریخ 29 نومبر مقرر کی ۔ غور طلب ہے کہ گیان واپی کیس فی الحال عدالت میں زیر غور ہے۔مئی 2022 میں وارانسی کے سول جج کے حکم پر گیان واپی میں کورٹ کمیشن کی کارروائی چل رہی تھی۔ اس کارروائی کے آخری دن ہندو فریق کی طرف سے شیولنگ ملنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ اسدالدین اویسی اور اکھلیش یادو نے مبینہ شیولنگ کو ملنے پر بیان دیا۔اس معاملہ میں مسلمانوں کی عرضی کو عدالت پہلے ہی خارج کرچکی ہے۔وکیل نے معاملہ میں گیان واپی مسجد کی انتظامیہ کمیٹی کے صدر مولانا عبدالباقی، مفتی بنارس مولاناعبدالباطن نعمانی ،کمیٹی کے جوائنٹ سکریٹری سیدمحمد یٰسین اوربیان دینے والے دیگر لیڈروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مانگ کی ہے ۔ بیان پر وارانسی کی سول کورٹ کے ایڈووکیٹ ہری شنکر پانڈے نے سی آر پی سی کی 156/3 کے تحت ایک درخواست داخل کی اور عدالت سے ان دونوں اور دیگر لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
اکھلیش نے بیان دیا ہے کہ اگر آپ پیپل کے درخت کے نیچے جھنڈا لگاتے ہیں تو وہ بھگوان اور شیولنگ ہے۔
اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی اور ان کے بھائی ہندوو¿ں کے مذہبی معاملات اور آدی وشویشور کے خلاف مسلسل توہین آمیز باتیں کہہ رہے ہیں۔ ان لیڈروں کی باتیں عوامی جذبات کے خلاف ہیں۔ اس لیے ان لوگوں کے خلاف مقدمہ چلنا چاہیے۔ اس پر وارانسی کے اے سی جے ایم پنچم اجول اپادھیائے کی عدالت نے آج اپنا حکم سنایا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ آج وارانسی کے اے سی جے ایم 5ویں اجول اپادھیائے کی عدالت نے ایس پی صدر اکھلیش یادو اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی مانگ سے متعلق عرضی قبول کر لی ہے۔ گیان واپی کیس کے تعلق سے اشتعال انگیز بیانات دینے کے علاوہ یہ عرضی وہاں ملنے والے مبینہ شیولنگ سے متعلق ہے اور شیولنگ کے قریب اسے گندا کرکے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے سے متعلق ہے۔ ایڈوکیٹ گھنشیام مشرا نےکہا کہ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ درخواست قابل سماعت ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ 29 نومبر مقرر کی گئی ہے۔