گیان واپی:پوجا کیلئے عرضی پر فاسٹ ٹریک عدالت 14 نومبر کو سنائے گا فیصلہ

0

وارانسی، (پی ٹی آئی):گیان واپی-شرنگار گوری احاطہ میں ویڈیو گرافی سروے کے دوران ملنے والے مبینہ شیو لنگ کی پوجا کی اجازت دینے اور احاطہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر روک کا حکم دینے کی اپیل کرنے والی پٹیشن کی پائیداری (قابل سماعت ہے یا نہیں) پر وارانسی کی فاسٹ ٹریک عدالت اب 14 نومبر کو فیصلہ سنائے گی۔
اس سے قبل عدالت کے ذریعہ اس معاملے میں منگل کو فیصلہ سنائے جانے کا امکان تھا لیکن گرو نانک جینتی کی چھٹی ہونے کی وجہ سے اسے 14 نومبر تککے لیے ٹال دیا گیا ہے۔ ضلع اسسٹنٹ سرکاری وکیل سلبھ پرکاش نے بتایا کہ عدالت کے جج کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے اب فیصلہ 14نومبر کو سنایا جائے گا۔ ہندو فریق کے وکیل انوپم دویدی نے بتایا کہ وارانسی کی فاسٹ ٹریک عدالت میں دیوانی جج (سینئر ڈویژن) مہندر پانڈے نے اس معاملے میں 27 اکتوبر کو اپنی سماعت کے دوران دونوں فریقوں کی دلیلیں سننے کے بعد معاملے کی پائیداری پر فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔ واضح رہے کہ مدعی کرن سنگھ نے 24 مئی کو مقدمہ دائر کیا تھا جس میں وارانسی کے ضلع مجسٹریٹ، پولیس کمشنر، انجمن انتظامیہ کمیٹی کے ساتھ ہی وشو ناتھ مندر ٹرسٹ کو فریق بنایا گیا تھا۔ بعد میں 25 مئی کو ضلع عدالت کے جج اے کے وشویش نے مقدمہ کو فاسٹ ٹریک عدالت میں منتقل کر دیا تھا۔ مدعی نے اپنی عرضی میں گیان واپی احاطہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر روک، احاطہ ہندوﺅں کو سونپنے کے ساتھ ہی احاطہ میں ملنے والے مبینہ شیو لنگ کی مستقل پوجا کرنے کا اختیار دینے کی اپیل کی ہے۔
اس قبل اسی سال مئی میں دیوانی جج (سینئر ڈویژن) کی عدالت کے حکم پر گیان واپی-شرنگار گوری احاطہ کا ویڈیو گرانی سروے کرایا گیا تھا۔ اس دوران گیان واپی مسجد کے وضو خانہ میں ایک ڈھانچہ پایا گیا تھا۔ ہندو فریق نے اسے شیو لنگ بتاتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے ساتھ ہی آدی وشویشور پرکٹ (ظاہر) ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب مسلم فریق نے اسے فوارہ بتاتے ہوئے دلیل دی تھی کہ مغلیہ دور کی عمارتوں میں اسے فوارے ملنا عام بات ہے۔