گجرات الیکشن: نرودا پاٹیا فساد کے مجرم کی بیٹی کو بھی بی جے پی نے ٹکٹ دیا

0

حمد آباد، (پی ٹی آئی) :بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے آئندہ گجرات اسمبلی انتخابات کے لیے احمد آباد کی نرودا سیٹ سے اس بار 2002 کے گودھرا سانحہ کے بعد نرودا پاٹیا قتل عام کے معاملے کے قصوروار کی بیٹی پائل ککرانی کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ 30 سالہ پائل ککرانی کے والد منوج ککرانی نرودا پاٹیا فسادات کے 16 مجرموں میں سے ایک ہیں جس میں 97 مسلمان مارے گئے تھے۔ اس بار برسراقتدار پارٹی کے ذریعہ انتخابی میدان میں اتارے گئے سب سے کم عمر امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک اینستھیٹسٹ ہیں۔ گجرات ہائی کورٹ نے 2018 میں نرودا پاٹیا فسادات کیس میں منوج ککرانی اور 15 دیگر کی سزا کو برقرار رکھا تھا۔ عمر قید کی سزا پانے والے ککرانی فی الحال ضمانت پر باہر ہیں۔بی جے پی کی جانب سے ٹکٹ ملنے کے بعد پائل ککرانی نے کہا کہ میں وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ، ریاستی بی جے پی صدر سی آر پاٹل، وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل اور پارٹی کے تمام کارکنان اور اراکین کی شکر گزار ہوں۔ ککرانی خاندان کا تعلق سندھی برادری سے ہے جو اس علاقے پر غالب ہے۔ موجودہ ایم ایل اے بلرام تھوانی کو ایک اور موقع دینے کے بجائے بی جے پی نے اس بار پائل ککرانی کو میدان میں اتارا ہے۔ علاقے میں بی جے پی کے کچھ کارکنوں نے اس کی امیدواری پر ناخوشی کا اظہار کیا ہے کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ اس کی شادی ایک غیر سندھی سے ہوئی ہے اور اس لیے وہ اب کمیونٹی کی رکن نہیں رہی۔ بی جے پی کی سابق وزیر مایا کوڈنانی بھی نرودا پاٹیا فسادات کیس میں مجرموں میں سے ایک تھیں، لیکن 2018 میں ہائی کورٹ نے انہیں بری کر دیا تھا۔ کوڈنانی نرودا سیٹ سے 3 بار ایم ایل اے منتخب ہوئی تھیں۔ انہیں 2009 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ نرودا گام فسادات کے معاملے میں بھی ایک ملزم ہیں جو گودھرا ٹرین آتشزدگی واقعہ کے بعد ہونے والے 9 بڑے فرقہ وارانہ فسادات میں سے ایک ہے۔ ان معاملات کی تحقیقات خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) نے کی تھی۔
نرودا اسمبلی سیٹ 1990 سے بی جے پی کے پاس ہے۔ کوڈنانی 1998 میں ایم رکن اسمبلی بنیں اور 2002 اور 2007 میں بھی یہ سیٹ برقرار رکھی۔ نرودا پاٹیا فسادات کیس میں کل 61 ملزمان میں سے خصوصی ایس آئی ٹی عدالت نے اگست 2012 میں 32 لوگوں کو قصوروار ٹھہرایا تھا اور 29 دیگر کو بری کر دیا تھا۔ اپریل 2018 میں اس کیس میں اپیل پر اپنے حکم میں ہائی کورٹ نے 16 لوگوں کو مجرم قرار دیا تھا۔ گودھرا میں سابرمتی ایکسپریس کو آگ لگانے کے ایک دن بعد 28 فروری 2002 کو احمد آباد کے نرودا پاٹیا علاقے میں 97 افراد جن میں سے زیادہ تر اقلیتی برادری سے تھے، ایک ہجوم کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔ 27 فروری 2002 کو گودھرا ٹرین جلانے کے واقعہ میں 59 ’کار سیوک‘ مارے گئے تھے جس کے بعد گجرات کی تاریخ کے بدترین فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تھے جس میں 1000 سے زیادہ لوگ مارے گئے، جن میں زیادہ تر اقلیتی برادری کے تھے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS