گجرات: بی جے پی کی حکومت 1995سے

0

الیکشن ہوتا ہے تو لوگ امیدواروںکا انتخاب بڑی امیدوں سے کرتے ہیں، انہیں یہ امید رہتی ہے کہ نئی حکومت ان کی توقعات پرپوری اترے گی، ان کے مسئلوں کو دور کرنے کی کوشش کرے گیلیکن کسی پارٹی کے لیے عوام کی توقعات پر پوری طرح سے پورا اترنا آسان نہیں ہوتا۔ اسی لیے ہر الیکشن کے وقت حکمراں جماعت کے لیے اِنٹی اِنکمبینسی بڑا مسئلہ رہتی ہے، کسی جماعت یا اتحاد کے لیے مسلسل دوبار حکومت بنانا آسان نہیں ہوتا مگر اس بی جے پی کی خوش قسمتی یہ ہے کہ وہ ایک سے زیادہ ریاستوں میں برسوں سے حکومت کر رہی ہے۔ ان میں مدھیہ پردیش اور گجرات شامل ہیں۔ 7 جون، 1980 سے 3 مارچ، 1990 تک کانگریس مسلسل اقتدار میں رہی۔ 1990 کے انتخاب میں جنتادل کو شاندار کامیابی ملی اور وہ سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری۔ اسے 70 سیٹیں ملیں لیکن ووٹوں کے معاملے میں وہ کانگریس سے پیچھے ہی رہی۔ اسے 29.36 فیصد ووٹ ملے جبکہ کانگریس کو 30.74 فیصد ووٹ ملے مگر اسے صرف 33 سیٹیں ہی ملیں۔ سیٹوں کے حصول کے معاملے میں وہ تیسرے نمبر پر رہی۔ زیادہ سیٹیں لینے کے معاملے میں بی جے پی دوسرے نمبر پر رہی۔ 67 سیٹیں ملیں مگر ووٹ حاصل کرنے کے معاملے میں وہ کانگریس اور جنتا دل کے بعد تیسرے نمبر پر رہی۔ اسے 26.69 فیصد ووٹ ملے لیکن پچھلے انتخابات کے مقابلے یہ انتخاب اس کے لیے حوصلہ افزا تھا، کیونکہ اس میں اس کی سیٹوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور اس اضافے نے اس کے لیڈروں کو یہ محسوس کرایا کہ اگر جدوجہد کچھ اور کی جائے تواقتدارکا حصول ناممکن نہیں اور اگلے الیکشن میں اس نے یہ کر دکھایا۔ 1995 کے اسمبلی انتخابات میں اس کے ووٹ فیصد میں حیرت انگیز اضافہ ہوا، اسے ان انتخابات میں 42.51 فیصد ووٹ ملے جبکہ کانگریس پارٹی 32.86 فیصد ووٹ ہی حاصل کر سکی۔ 1990 کے مقابلے بی جے پی کو 54 سیٹوں کا فائدہ ہوا اور وہ مجموعی طور پر 121 سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی۔ کانگریس صرف 45 سیٹیں ہی جیت سکی۔
1998 کے اسمبلی انتخا بات میں بی جے پی کی 4 سیٹیں کم ہوئیں مگر اسے اکثریت سے کہیں زیادہ یعنی 117 سیٹیں ملیں۔ اسے اس الیکشن میں 44.81 فیصد ووٹ ملے۔ کانگریس کو 8 سیٹوں کا فائدہ ہوا۔ اس کے باوجود وہ 53 سیٹیں ہی جیت سکی۔ اسے 34.85 فیصد ووٹ ملے۔ فروری اور مارچ، 2002 میں گجرات میں بھیانک فسادات ہوئے۔ اسی سال دسمبر میں ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی پھر اقتدارحکومت سازی کرنے میں کامیاب رہی۔ پچھلے اسمبلی انتخابات کے مقابلے اسے 12 سیٹوں کا فائدہ ہوا۔ اسے مجموعی طور پر127سیٹیں ملیں۔ بی جے پی کے ووٹوں میں بھی اضافہ ہوا۔ اسے 49.85 فیصد ووٹ ملے۔ کانگریس کے ووٹوں میں بھی 4.43 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسے 39.28 فیصد ووٹ ملے مگر پچھلے اسمبلی الیکشن کے مقابلے اسے اس بار دو سیٹوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ اسے 51 سیٹیں ملیں۔ ووٹوں کے فیصد پر اگر غور کیا جائے تو گجرات فسادات کا منفی اثر بی جے پی پر نہیں پڑا۔
2007کے گجرات اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ووٹوں میں 0.63 فیصد کی معمولی کمی آئی۔ اسے 49.12فیصد ووٹ ملے۔ 10 سیٹوں کی کمی کے ساتھ اسے 117 سیٹیں ملیں مگر اسے اکثریت ثابت کرنے کے لیے جتنی سیٹوں کی ضرورت تھی، اس سے کہیں زیادہ سیٹیں ملیں۔ دوسری طرف 1.28 فیصد ووٹ کانگریس کا بھی کم ہوا۔ اسے مجموعی طور پر 38 فیصد ووٹ ملے، البتہ پچھلے الیکشن کے مقابلے اسے 8 اضافی سیٹیں ملیں۔ اسے مجموعی طور پر 59 سیٹیں ملیں۔ 2012 کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ووٹوں میں پھر معمولی کمی آئی۔ وہ پچھلے الیکشن کے مقابلے 1.27 فیصد کم ووٹوں کے ساتھ 47.85 فیصد جیتنے میں کامیاب رہی۔ پچھلے الیکشن کے مقابلے دو کم سیٹوں کے ساتھ اسے 115 سیٹیں ملیں۔ کانگریس کے ووٹ میں 0.93 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسے 38.93 فیصد ووٹ ملے۔ پچھلے الیکشن کے مقابلے اسے دو سیٹوں کا فائدہ ہوا۔ اسے 61 سیٹیں ملیں۔ 2017 میں ایسا لگتا تھا کہ کانگریس حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی مگر ایسا نہیں ہوا۔ اسے پچھلے الیکشن کے مقابلے 16 سیٹیں زیادہ ملیں۔ اس کی مجموعی سیٹوں کی تعداد 77 تھی۔ یہ اتنی سیٹیں نہیں تھیں کہ وہ حکومت بنا سکتی۔ کانگریس کے ووٹوں میں بھی 2.57 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسے 41.44 فیصد ووٹ ملے۔ دوسری طرف پچھلے الیکشن کے مقابلے بی جے پی کے ووٹوں میں بھی 1.15 فیصد کا اضافہ ہوا۔ وہ 49.05 ووٹوں کے ساتھ 99سیٹیں جیتنے میں کامیاب رہی یعنی 2012کے اسمبلی انتخابات کے مقابلے اسے 16 سیٹوں کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔1995 سے 2017 تک بی جے پی اور کانگریس کی سیدھی ٹکر والے اسمبلی انتخابات ہوتے رہے ہیں، کہا جا رہا ہے کہ اس بار عام آدمی پارٹی بھی گجرات اسمبلی انتخابات میں اپنی موجودگی کا احساس دلائے گی مگرکیا اس کی کامیابی پنچاب والی ہوگی؟ یہ ایک سوال ہے اور اس کا جواب فی الوقت دینا مشکل ہے۔n