ڈنر سے آگے بڑھ کر سرسید کے خوابوں کو زمین پر اتارنا ہوگا:طارق انور

0
Image:The Economics Times

نئی دہلی(یو این آئی):آل انڈیاقومی تنظیم کے قومی صدر اور سابق مرکزی وزیر طارق انور نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ ڈنر سے آگے بڑھ کر سر سید کے خوابوں کو زمین پر اتارا جائے اور نئی نسل کو دین اور دنیا وی دونوں تعلیم سے آراستہ کرایا جائے، کیونکہ ایک ضرورت ہے تو دوسرا مقصد۔یہ بات انہوں نے ہندگرو اکیڈمی اور آل انڈیا قومی تنظیم کے زیر اہتمام منعقدہ سر سید ڈے ڈنر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہاکہ سرسید نے کبھی بھی دینی اور دنیاوی علوم میں فرق نہیں کیا، اس لئے آج ضروری ہے کہ ہر علاقہ میں مدنی 100جیسے پروگرام شروع کئے جائیں تاکہ مالی وسائل اور مسائل سے دو چار بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح نور نوازخان گذشتہ 24 سالوں سے سرسید کے خوابوں کو زمین پر اتارنے کی کامیاب کوشش کررہے ہیں اسی طرح اور لوگوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح آج لوگ اپنے بچوں کو بہترین تعلیم دلانے کیلئے مشنری اسکول ڈھونڈھ رہے ہیں ، اسی طرح ضروری ہے کہ سرسید کے ماننے والے بھی ایسے ادارے قائم کریں جس میں تعلیم اور تہذیب دونوں پائی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ گائوں دیہات میں جا کر جس طرح مشنری لوگ خدمت کررہے ہیں اور لوگوں کو اپنی تہذیب سے جوڑ رہے ہیں ایسے میں ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم بھی ان سے سبق لیں اور دنیا کو کچھ دینے کیلئے آگے آئیں۔
مسٹر انور نے کہاکہ دوسو سال قبل جب انگریزی تعلیم حاصل کرنا جرم سمجھا جاتاتھا ،اس وقت سرسید اکیسویں صدی کا ہندوستان دیکھ رہے تھے ۔ انہوں نے اپنی طرف اٹھنے والی تمام انگلیوں کی پرواہ کئے بنا، ایک ایسی لائیں کھینچی جس پر آج لوگ چلنے کیلئے مجبور ہیں اور سر سید کے ناقدین بھی ان کے چمن میں اپنی نسلوں کو بھیجنے پر فخر محسوس کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں عوامی تعاون حاصل کرکے ایسے ادارے بنانے ہوں گے جو سماج کی ضروریات کو معیار کیساتھ پورا کرسکیں ۔
طار ق انور نے کہاکہ تعلیم کیساتھ ساتھ ہمارے اندر سیاسی شعور بھی ضروری ہے۔ آج ہمارے ہی اندر کچھ ایسے نادان لوگ ہیں جو فرقہ پرستوں کے ہاتھوں کا آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینا ہوگا، تبھی ہم سماج کیلئے فائدہ مند بن سکتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ جس طرح کسی سماج میں اقلیتوں کی صورتحال دیکھ کر اس سماج کے مہذب ہونے کا اندازہ لگایا جا تا ہے اسی طرح ہمیں اکثریتی فرقہ پرستی کیساتھ ساتھ اقلیتی فرقہ پرستی کی بھی سختی سے مخالفت کرنے کی ضرورت ہے اور دنوں ہی سماج کیلئے زہر ہے۔ اس موقع پر ہند گرو اکیڈمی کے ڈائرکٹر نور نواز خان نے تعلیم کے میدان میں اور محنت کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ جب تک لوگ اس علاقہ کو تعلیم کے ہب کے لئے نہ جاننے لگیں تب تک کوشش جاری رہے گی اور معیار سے کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے طارق انور کی پیشکش کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ ہم جلد ہی کٹیہار میں بھی ہند گرو اکیڈمی کی برانچ شروع کریں گے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here