بچوں کو وقت دیں

0
theindianexpress

زرّین خان
جسے دیکھئے وہ اپنے موبائل میں مگن نظر آتا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اور اس کا موبائل ایک دوسرے کے لیے کافی ہیں، کسی تیسرے کی گنجائش نہیں ہے۔ لیکن آنے والے وقت میں جب اس کے برے اثرات سامنے آتے ہیں تو انسان سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے اور کف افسوس ملنے کے علاوہ کچھ نہیں کرپاتا۔ اکثر و بیشتر سفر کے دوران چاہے وہ بس میں ہو یا میٹرو میں۔ فیملی ہو، دوستوں یا طلبا کا گروپ ہو، وہ آپس میں باتیں بھی کرتے نظر آتے ہیں اور موبائل پر ان کی انگلیاں بھی چلتی رہتی ہیں لیکن طویل سفر کے دوران یہی فیملی ممبرس، دوست اور طلبا خوش گپیوں کے بجائے اپنے اپنے موبائل میں کچھ اس طرح محو نظر آتے ہیں کہ انہیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اس سفر میں تنہا ہیں اور سفر کی بوریت اور اکیلے پن کو دور کرنے کے لیے موبائل ہی واحد سہارا ہے۔لیکن اس وقت انتہائی حیرت اور تکلیف ہوتی ہے جب والدین اپنے بچوں کے ساتھ سفر کرنے کے دوران اپنے اپنے موبائل میں بزی ہوتے ہیں اور بچے بوریت محسوس کرتے ہوئے دوسرے مسافروں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں یاگاڑی سے باہر کا نظارہ کرنے لگتے ہیں اور جب باہر کی کوئی چیز انہیں اچھی لگتی ہے یا کسی مقام کے بارے میں وہ جاننا چاہتے ہیں یا اپنی رائے دینا چاہتے ہیں تو والدین غیردلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی باتوں پر ہوں ہاں کہتے ہیں جس سے تھوڑی دیر بعد بچہ خاموش ہوکر اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتا ہے اور تھوڑی ہی دیر میں اسے نیند اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ بظاہر اس میں کچھ خامی نظر نہیں آتی لیکن یہ سب باتیں بچوں کی زندگی میں بری طرح اثرانداز ہوتی ہیں۔ رفتہ رفتہ ڈپریشن انہیں اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔
سائیکولوجسٹ ڈاکٹر پرکرتی پودّار کے مطابق اگر بچے ذہن سے صحت مند ہوں گے تو پڑھائی ہو یا کھیل ہر شعبہ میں وہ اچھا کریں گے۔ آج والدین موبائل میں زیادہ بزی ہوگئے ہیں، اس وجہ سے وہ بچوں سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
وہیں یونیسیف کے ’دی اسٹیٹ آف چلڈرن-2021‘ کے سروے کے مطابق ہندوستان میں 15سے24سال کی عمر کے سات میں سے ایک مینٹل ہیلتھ کی پرابلم سے نبردآزما ہے۔ ان میں سے زیادہ تر ڈپریشن کے شکار ہیں۔ کسی کام کو کرنے میں دلچسپی نہیں لیتے ہیں۔ اس عمر میں ان کے گمراہ ہونے کا خدشہ بھی زیادہ ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موبائل نے ہر رشتہ میں دوری پیدا کردی ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ موبائل غلط چیز ہے بلکہ اس کا بے جا استعمال انسانی زندگی بالخصوص رشتوں کے لیے انتہائی غلط ثابت ہورہا ہے۔ والدین کو اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ جب بھی بچوں کے پاس ہوں، موبائل سے دور رہیں۔ بچوں کو خصوصی طور پر وقت دیں۔ ان سے باتیں کریں۔ ان کے ساتھ کھیلیں۔ اپنے بچپن کے وہ یادگار لمحے یا واقعات جنہیں یاد کرکے آج بھی چہروں پر مسکراہٹ بکھرجاتی ہے، اپنے بچوں کو انہیں دلچسپ انداز میں سنائیں تاکہ بچے پوری توجہ اور خوشی سے آپ کی بات سنیں۔ بچوں کی پڑھائی میں مدد کریں۔ ان کے ساتھ بات کرتے وقت ان کی عمر کا لحاظ رکھیں جس سے نہ صرف بچوں کی پرابلم و ذہنی کیفیت کو زیادہ اچھی طرح سمجھنے میں مدد ملے گی، بلکہ بچوں کے اندر بھی اپنے والدین سے کھل کر اپنی بات اور پریشانی کہنے کا حوصلہ ہوگا، جو ان کی آنے والی زندگی کے لیے انتہائی مثبت ثابت ہوگا۔ آج کی مصروف ترین زندگی میں بچے بری طرح نظرانداز ہورہے ہیں، ان کی ضروریات پوری کردینا، اچھے سے اچھے اسکول میں پڑھانا، ان کی پسند کے کھلونے، گیم، کپڑے، موبائل وغیرہ حتیٰ کہ ہر ڈیمانڈ پوری کردیناہی کافی نہیں ہے، بلکہ ان سب سے زیادہ ضروری بچوں کو وقت دینا ہے۔ بچے والدین کی محبت اور توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں۔ کھلونے، کپڑے و دیگر سامان اور ضروریات کی تکمیل انہیں وقتی تسلی و خوشی دے سکتی ہے لیکن والدین کی قربت، اپنائیت، محبت اور سب سے اہم وقت ان کے لیے وہ نعمت ہے جس سے نہ صرف ان کا بچپن ہنسی خوشی گزرتا ہے بلکہ آنے والی زندگی بھی خوشیوں کی نوید لے کر آتی ہے۔rvr