سعودی عرب میں ابشر پر سہولتوں میں مزید اضافہ

0

ریاض، (یو این آئی)
سعودی عرب میں حکومتی ڈیجیٹل پلیٹ فارم ابشر کی استعداد میں مزید اضافہ کردیا گیا جس کے بعد اس سے مزید 3 نئی سہولتیں حاصل کی جاسکیں گی۔اردو نیوز کے مطابق سعودی وزیر داخلہ شہزادہ عبد العزیز بن سعود کی سرپرستی میں نائب وزیر ڈاکٹر ناصر الداوود نے بدھ کو سالانہ ابشر فورم میں شرکت کی۔ڈاکٹر ناصر الداوود نے وزارت داخلہ کے مختلف شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی کے حوالے سے نمایاں خدمات کو سراہا۔نائب وزیر داخلہ نے نئی الیکٹرانک سہولتوں اور انیشی ایٹوز کا افتتاح کیا-
ان میں سعودی پاسپورٹ کا آن لائن اجرا اور تجدید بھی شامل ہے ، مقامی شہری آن لائن قومی شناختی کارڈ بھی جاری کروا سکتے ہیں اور فیس بھی آن لائن ادا کر سکتے ہیں۔مقیم غیر ملکیوں کو اپنی فیملی کے افراد کی ڈیجیٹل آئی ڈی کی سہولت بھی دی گئی ہے ۔معاون وزیر داخلہ شہزادہ ڈاکٹر بندر بن عبد اللہ بن مشاری کا کہنا ہے کہ نئی آن لائن سہولتوں کا افتتاح اس بات کا ثبوت ہے کہ وزارت داخلہ میں ڈیجیٹل تبدیلی اور ٹیکنالوجی کے فروغ کا سلسلہ جاری ہے ۔
وزارت داخلہ نے 350 سے زیادہ الیکٹرانک سہولتیں مقامی شہریوں اور مقیم غیرملکیوں کو فراہم کی ہیں جن سے 6 ملین سے زیادہ افراد کو فائدہ ہو رہا ہے ۔سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے دی جانے والی نئی آن لائن سہولتوں کے حوالے سے محکمہ پاسپورٹ نے تفصیلات جاری کی ہیں۔سعودی محکمہ پاسپورٹ کا کہنا ہے کہ نئی سہولت کے تحت بری راستے سے بحرین روانگی سے قبل آن لائن بکنگ ابشر سفر کے ذریعے کی جاسکتی ہے ۔محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان ناصر العتیبی کا کہنا ہے کہ جو سعودی شہری یا مقیم غیر ملکی کنگ فہد پل کے راستے بحرین جانا چاہتے ہوں وہ روانگی سے قبل آن لائن بکنگ ابشر سفر کے ذریعے کرسکتے ہیں۔محکمہ پاسپورٹ نے 3 نئی سہولتوں کا اضافہ کیا ہے ، ابشر سفر کی سہولت ان میں سے ایک ہے ، باقی دو سہولتوں کا اجرا مرحلہ وار ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کنگ فہد پل پر رش کی صورت میں ایس ایم ایس بھیجا جائے گا، اس طرح شہری اور غیر ملکی انتظار کی زحمت سے بچ جائیں گے ، گاڑی کا ڈرائیور بکنگ کر کے اپنی نجی معلومات اور گاڑی میں موجود فیملی کے افراد، رشتہ داروں اور دوستوں کی ضروری معلومات درج کروائے گا۔
محکمہ پاسپورٹ کے ترجمان نے بتایا کہ سعودی پاسپورٹ کے اجرا اور تجدید کی کارروائی کے لیے ابشر کے ذریعے آن لائن ادائیگی کی سہولت بھی دی گئی ہے ، اب تک یہ سہولت بینکوں تک محدود تھی۔