تاج محل کی مفت سیر19 نومبر کولیکن گنبد کاکرایہ 200

0

آگرہ (ایجنسیاں) : سیاحوں کے لیے خوشخبری ہے۔ 19 نومبر کو تاج محل، آگرہ فورٹ، فتح پور سیکری سمیت تمام یادگاروں میں مفت داخلے کی اجازت ہوگی۔آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا نے 19 نومبرہفتہ کو عالمی ثقافتی ورثہ ہفتہ کے آغاز پر ملک کی تمام یادگاروں میں مفت داخلہ فراہم کیا ہے۔ اس کے لیے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں۔ ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے اس دن سیاحوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ پہلی بار، صرف تاج محل میں داخلہ مفت ہو گا، لیکن اسٹیپ ٹکٹنگ جاری رہے گی۔ یعنی 19 نومبر کو 50 روپے کی انٹری ٹکٹ نہیں خریدنا ہوگا لیکن مرکزی گنبد پر جانے اور شاہ جہاں ممتاز کی قبردیکھنے کے لیے 200 روپے کا ٹکٹ خریدنا ہوگا۔ 2016 سے تاج کے گنبد پر لگائے گئے اضافی ٹکٹ کو عالمی ثقافتی ورثہ ہفتہ یا کسی بھی مفت انتظام پر مفت رکھا جاتا تھا۔پہلی بار اس پر ٹکٹ لگایاجارہاہے ۔ ماہر آثار قدیمہ راج کمار پٹیل نے کہا کہ تاج محل کو عالمی ثقافتی ورثہ ہفتہ میں مفت داخلے کی اجازت ہوگی حالانکہ مرکزی گنبد پر واقع شاہ جہاں ممتاز کی قبروں کی زیارت کے لیے 200 روپے کاٹکٹ برقرار رہے گا۔ یہ قدم اس بار بھیڑ پر قابو پانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔مفت ہونے کی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد مرکزی گنبد تک پہنچ جاتی ہے جس پر قابو پانا لازمی ہے۔ عالمی ثقافتی ورثہ ہفتہ 19 نومبر سے شروع ہوگا جو 25 نومبر تک مختلف یادگاروں میں منعقد ہوگا۔اے ایس آئی 19نومبر کو آگرہ فورٹ کے دیوان عام کمپلیکس میں عالمی ثقافتی ورثہ ہفتہ پر ایک پروگرام کا اہتمام کرے گا۔ اختتامی تقریب فتح پور سیکری کے پنچ محل کمپلیکس میں منعقد ہوگی۔ پورے ہفتہ صفائی مہم، ڈرائنگ اور پینٹنگ کے مقابلے اور کوئز پروگرام ہوں گے۔
سرکاری کوارٹر خالی کرنے کا معاملہ:چودھری لال سنگھ نے ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا
جموں، (یو این آئی)جموں وکشمیر انتظامیہ نے مین اسٹریم سیاسی پارٹیوں سے وابستہ کئی سینئر لیڈران یہاں تک کہ سابق وزرائے اعلیٰ کو سرکاری کوٹھیاں خالی کرنے کے ضمن میں نوٹسیں اجرا کی ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ سابق وزیر چودھری لال سنگھ نے ہائی کورٹ میں عرضی دائر کرتے ہوئے اس پر روک لگانے کا مطالبہ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ سابق وزیر چودھری لال سنگھ نے منگل کے روز جموں وکشمیر ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی جس میں کہا گیا ہے کہ انتظامیہ نے سرکاری کواٹر خالی کرنے کے ضمن میں نوٹس جاری کی ہے ۔