تعلیم نسواں اور الطاف حسین حالی

0

عارف عزیز

سرسید کے قریبی رفقاء میں جن اہل قلم حضرات کے نام لئے جاتے ہیں، خواجہ الطاف حسین حالیؔ اُن میں سرِفہرست ہیں۔ وہ اُردو ادبیات میں محب وطن ، مصلح قوم ، ادیب اور شاعر کی حیثیت سے ایک بلند مقام کے مالک ہیں۔ حالیؔ نے اپنی شاعری اور نثرنگاری کو انسانی اخلاق، مادّی وسائل اور روحانی قدروں کے فروغ کے لئے ایک طاقتور میڈیم کے طورپراستعمال کیا، وہ فطرت سے دلِ دردمندلے کر دنیا میں آئے تھے، اُن کی نظم ہو یا نثر دردمندی اور خلوص سے عبارت ہیں، انسان کی یہ وہی خصوصیات ہیں جو اقبالؔ کے الفاظ میں خو ن جگر کے بغیر پیدا نہیں ہوتیں اور جو ’’سِل کو دل بنا دیتی ہیں‘‘یا سرسید کے بقول جو ’’زبان سے نکلتا ہے وہ دل میں جاکر پیوست ہوجاتا ہے‘‘۔ حالیؔ کے دل میں قوم کا درد، شخصیت میں عمل کی لگن، مزاج میں برداشت کا مادّہ اور فکر میں مذہبی تعلیمات کا ادراک رچا بسا تھا، یہی وہ اوصاف ہیں جو حالیؔ کو شعروادب اور قوم ومعاشرہ کا مصلح بنانے میں مددگار ثابت ہوئے، اُنہوں نے ہمیں نہ صرف زندگی کی عظمت کا احساس دلایا بلکہ اپنی پوری زندگی انسانیت کی فلاح، عدل وانصاف کی پاسداری ، وطن پرستی اور خودشناسی کے فروغ میں صرف کردی، قوم کو تاریخ کے پس منظر میں اپنی ہستی کا جائزہ لینے کا درس دیا اور شعروادب کے احترام کی تلقین کی۔
آل احمد سرور کے اِس تجزیہ سے شاید ہی کوئی انحراف کرے کہ ’’حالیؔ خوب جانتے تھے کہ مسلمانوں کی عظمت، اُن کی اخلاقی بلندی، جسمانی وذہنی صحت مندی، علمی و تہذیبی تونگری اور صلابت کردار کی مرہون منت تھی، جسے اُنھوں نے کھودیا‘‘ ۔
1857 کے انقلاب نے حالیؔ کے فکروذہن پرغیر معمولی اثرات مرتب کئے، انہیں اصلاحِ معاشرہ کے بغیر قوم کی کشتی پار لگتی نظر نہیں آئی، تاہم اِس اصلاح کا کوئی واضح تصور اُس وقت تک اُن کے ذہن میں نہیں تھا، جب تک کہ سرسید سے اُن کی ملاقات نہ ہوگئی، سرسید کے قریب آنے کے بعد حالیؔ نے اپنی تگ ودو کا رُخ قوم وملت کی اصلاح کی طرف موڑ دیا۔ اِس کے لئے اُنھوں نے مقصدی شاعری کو وسیلہ بنایا ، ایسے زبان و بیان کو اختیار کیا، جو صاف ستھرا اور سلیس و دلنشیں تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ اُسے اصلاح کا ذریعہ بنایا، ادب وشاعری کی نئی راہیں کھولیں ،تاکہ اُن کا پیام زیادہ سے زیادہ انسانوں تک پہنچ سکے۔
خواجہ الطاف حسین حالیؔ کو معاشرہ کی اصلاح کے ضمن میں سب سے زیادہ فکر عورتوں کے بارے میں تھی، وہ اُن کی حالت کو بہتر بنانے اور اُنہیں حقوق و اختیارات سے آراستہ کرنے کے لئے فکرمند تھے لہٰذا اُنہوں نے اپنی شاعری کو اِس مقصد کے حصول کا ذریعہ بنایا۔ حالیؔ کا نقطۂ نظر تھا کہ ایک لڑکی یا ایک عورت تعلیم سے بہرہ ور ہوجائے تو اپنے خاندان کے دیگر افراد میں تعلیم کا ذوق پیدا کرسکتی ہے، وہ کہتے تھے کہ ایک تعلیم یافتہ خاتون ہی اپنے گھر کو سلیقہ سے چلاکر سکون و اطمینان کا گہوارہ بناسکتی ہے۔ اِس مقصد کے حصول کے لئے جہاں حالیؔ نے معاشرہ میں صنفِ نازک کی دگرگوں حالت پر روشنی ڈالی، وہیں اپنی اصلاحی نظموں اور مثنویوں کے وسیلہ سے خاتونِ خانہ کی محرومی و حق تلفی کو اُجاگر کرکے ، اُس کی قربانی و برداشت کو موضوع بنایا۔
مثنوی ’’چپ کی داد‘‘ اِس کی مثال ہے۔ جس میں جاگیردارانہ نظام میں کراہتی عورت کی واقعی تصویر ملتی ہے اور اُس کی صبروبرداشت کا نہایت دلگداز انداز میں نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اِسی طرح ’’مناجاتِ بیوہ‘‘ میں اُن تمام بے رحمیوں اور ناانصافیوں کا بیان ہے ، جو بیواؤں پر معاشرہ روا رکھتا تھا اور یہ محض اِس لئے ہورہا تھا کہ کہیں عورت اپنے جائز حقوق سے آگاہ ہوکر مردوں کی ہمسری کا دعویٰ نہ کرنے لگے۔حالیؔ کی ایک اور مثنوی ’’کلمۃ الحق‘‘ میں بھی سماجی اصلاح کے اہم مقصد کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اِس مثنوی میں وہ حق گوئی و حق پرستی کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس قوم کے افراد حق پرست ہوں گے ، اُس کا کردار بھی اعلیٰ ہوگا، اِس کے برعکس جس معاشرہ میں حق گو و حق پرستوں کی تعداد محدود ہوگی،وہاں انصاف کی تلاش محال ہوجائے گی ، جھگڑے و فساد، ظلم وستم کا بول بولا ہوگا۔
حالیؔ سرسید کی طرح پرانے علوم و فنون کو جمود وانحطاط سے تعبیر کرتے تھے۔ اُن کے دل ودماغ میں یہ عقیدہ راسخ تھا کہ قدیم علوم وفنون پر جمود کی کیفیت طاری ہے، اُن کی تحصیل موجودہ عہد میں خاطرخواہ نتائج کی حامل نہیں ہوسکتی، لہٰذا قوم کو مغربی نظامِ تعلیم اپنانا چاہئے، لیکن سرسید کے یہاں یہ تعلیم صرف مردوں کے لئے محدود تھی، اِس تعلیم میں سائنس کی تعلیم کی گنجائش تو تھی، مگر ٹیکنیکل تعلیم شامل نہیں تھی، خاص طور پر عورتوں کی تعلیم کا کوئی مقام نہ تھا۔ کیا عورتوں کے لئے تعلیم ضروری ہے اور اُن کو تعلیم ملنا چاہئے ، اِس سوال کے جواب میں سرسیّد کہتے ہیں کہ ’’میری پیاری بہنو! یقین جانو دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے ، جس میں مردوں کی حالت درست ہونے سے پہلے عورتوں کی حالت درست ہوگئی ہو… عورتوں کی نسبت سے میرے وہی خیالات ہیں ، جو قدیم بزرگوں کے تھے، پس جو علوم اُس زمانے میں مفید تھے، وہ صرف دینیات اور اخلاق تھے‘‘۔
سرسید کی اِس فکر کے شدید ہونے کا اندازہ اِس سے لگایا جاسکتا ہے کہ مولوی ممتاز علی جو تحریک آزادیٔ نسواں کے بہت بڑے حامی تھے، انہوں نے عورتوں کی تعلیم اور حقوق پر ایک کتاب کا مسوّدہ خوش ہوکر سرسید کو پیش کیا کہ وہ اِسے پسند کریں گے لیکن سرسیّد کو یہ کتاب دیکھ کر اِتنا غصّہ آیا کہ اُنہوں نے اِسے پھاڑ ڈالا کیونکہ اُنہیں خدشہ تھا کہ اِس کی وجہ سے مردوں کے لئے اُن کی تعلیمی تحریک کو نقصان پہنچے گا۔
حالانکہ سرسیّد کے ہم عصروں میں کچھ مشاہیر تعلیم نسواں کے حامی تھے۔ ڈپٹی نذیر احمد، علامہ شبلی نعمانی، مولانا عبدالحلیم شررؔ اور مولوی ذکاء اللہ کے نام اِس میں شامل ہیں، اِسی طرح حالیؔ سرسیّد کے ہمنوا ہونے کے باوجود تعلیم نسواں کے بارے میں اپنا الگ نظریہ رکھتے تھے بلکہ یہ دعویٰ کیا جائے تو زیادہ صحیح ہوگا کہ حالیؔ کے دل میں ہندوستانی عورت کے لئے درد کا جو گہرا سمندر لہرے مار رہا تھا، وہ اِس دور کے کسی دوسرے مفکر، مصلح، شاعر اور ادیب کے یہاں نظر نہیں آتا۔ اُن کے نزدیک عورتوں کے جملہ مسائل کا حل، اُنہیں تعلیم یافتہ بنانا تھا۔ جس کو واضح کرنے اور بچوں کی پرورش و تربیت کے اصولوں پر روشنی ڈالنے کے لئے انہوں نے ’’مجالس النساء‘‘ تصنیف کی، یہ لاہور کے قیام کے دوران 1874 میں لکھی گئی، جو حالیؔ کی پہلی ادبی تصنیف ہے، اِس میں خواتین کی دلچسپی کا لحاظ کرکے اُن کی زبان و محاوروں کو ہی نہیں برتا گیا، اُن کے حقوق کے تحفظ کے لئے لائحہ عمل بھی پیش کیا گیا ہے۔
کتاب میں تعلیم و تربیت کے اصول نہایت سادہ اور دل نشیں انداز میں بتائے گئے ہیں۔ یہ کتاب شائع ہوتے ہی مقبول ہوگئی تھی، اُس وقت کے ڈائریکٹر سرشتہ تعلیم کو یہ اتنی پسند آئی کہ اُنہوں نے لارڈ ناتھ بروگ گورنر جنرل ہند سے سفارش کرکے حالیؔ کو اِس کتاب کے صلہ میں چارسو روپے کا انعام دلایا، پنجاب میں لڑکیوں کے مدارس میں یہ کتاب مدتوں پڑھائی جاتی رہی۔ اُس زمانہ میں عورتوں کو تعلیم دلانا عیب و گناہ سمجھا جاتا تھا لیکن حالیؔ نے جرأت کا مظاہرہ کرکے عورتوں کے حقوق اور اُن کی تعلیم کے حق میں آواز بلند کی ، ساتھ ہی اپنے خاندان کی لڑکیوں اورعورتوں کو تعلیم کی طرف توجہ دلائی۔
واقعہ یہ ہے کہ حالیؔ مردوں اور عورتوں کے مساوات کے دل سے قائل تھے اور اپنے زمانہ کے لحاظ سے ایک ترقی پسند نظریہ رکھتے تھے، خاص طور پر عورتوں کے حقوق کی حمایت میں اُنھوں نے کسی طرح کی مصلحت یا مصالحت سے کام نہیں لیا ۔ دیکھئے اپنی نظم ’’چپ کی داد‘‘ میں وہ کس طرح عورتوں کے ساتھ جاری رویہ پر کفِ افسوس ملتے ہیں ؎
افسوس دنیا میں بہت تم پر ہوئے جور وجفا
حق تلفیاں تم نے سہیں بے مہریاں جھیلیں سدا
اور اُنھیں علم کی دولت سے محروم رکھنے پر تو حالیؔ کا دل تڑپ اُٹھتا ہے ؎
جو علم مردوں کے لیے سمجھا گیا آبِ حیات
ٹھہرا تمہارے حق میں وہ زہرِ ہلاہل سربسر
آیا ہے وقت انصاف کا نزدیک ہے یوم الحساب
دنیا کو دینا ہوگا اِن حق تلفیوں کا واں جواب
حالیؔ کی ایک اور کتاب ’’مضامینِ حالی‘‘ 1904میں شائع ہوئی، یہ مختلف مضامین کا مجموعہ ہے، اِن مضامین کے مطالعہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ تعلیم نسواں کے بارے میں حالیؔ کے نظریات سرسیّد سے کتنے مختلف تھے۔ سرسید عورتوں کی تعلیم کے مخالف نہ ہوتے ہوئے بھی ، اِس اندیشہ میں مبتلا تھے کہ کہیں تعلیمِ نسواں کی تحریک سے قوم کی توجہ جو اَب تک مردوں کی تعلیم پر مرکوز ہے، ہٹ نہ جائے اور دونوں کام ادھورے رہ جائیں، اِسی لئے سرسید یہ چاہتے تھے کہ پہلے مرد تعلیم حاصل کریں ، اِس کے بعد وہ اپنی عورتوں کو پڑھا لیں گے، جبکہ حالیؔ عورتوں کی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے کیونکہ اِس سے اصلاحِ معاشرہ کی تحریک میں مدد ملنے کی اُنہیں اُمید تھی، اِسی مقصد سے حالیؔ آریہ سماج کی تحریک کا بھی ذکر کرتے ہیں،ہندوؤں کا یہ نیا فرقہ اُس زمانہ میں معاشرتی اصلاح کے لئے کافی سرگرم تھا اور اِس کی کوششوں سے ہندو عورتیں تعلیم سے آراستہ ہورہی تھیں ، لیکن مسلمانوں میں آریہ سماج جیسی کوئی پُرجوش اور اصلاحی تنظیم موجود نہیں تھی، لہٰذا وہ اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کا انتخاب کرتے ہیں، جو اُس وقت مسلمانوں کی قومی جماعت کا درجہ رکھتی تھی، سچائی یہ ہے کہ حالیؔ نے تعلیمی واصلاحی مسائل پر کافی غوروخوض کیا اور جن نتائج پر پہنچے اُس میں اُن کی مخصوص انفرادیت نیز انقلابی فکر جھلکتی ہے حالانکہ اُن کی کسرِنفسی و اِنکساری نے اِس انفرادیت کو زیادہ نمایاں نہیں ہونے دیا۔
rvr

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS