کسانوں کی خودکشی

0

ملک میں کسانوں کی خودکشی ایک ایسی حقیقت ہے ،جس کا سرکارنہ کھل کر اعتراف کرتی ہے اور نہ انکار ۔یہ اوربات ہے کہ خود کشی کے اعدادوشمار ذرائع سے آتے رہتے ہیں ،لیکن وہ کبھی بھی سیاست میں موضوع بحث نہیں بنتے ۔اس پر بھی بات نہیں ہوتی یا غور وفکر کے لئے کوئی کمیٹی تشکیل نہیں دی جاتی کہ آخر کسانوں کی خودکشی کے سلسلہ کو کس طرح بند کیا جائے ۔اب تو کسانوں کے مسائل پر بات بھی کم ہوتی ہے ۔جبکہ حالات دن بدن خراب ہوتے جارہے ہیں ۔یوں تو پورے ملک میں کہیں کم توکہیں زیادہ کسان خودکشی کرتے ہیں لیکن عموما رپورٹیں مہاراشٹر سے آتی ہیں ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہوکہ وہاں خودکشی کے اعدادوشمار جمع کئے جاتے ہیں ۔ تازہ رپورٹ یہ ہے کہ مراٹھواڑ ہ علاقے کے جالنہ، اورنگ آباد، پربھنی ، ہنگولی ، نانڈیڑ، لاتور ، عثمان آباد اوربیڈ 8اضلاع میں سال 2022میں 1,023 کسانوں نے خودکشی کی، جبکہ اس سے ایک سال قبل 2021 میں 887کسانوں نے خودکشی کی تھی ۔یہ اعدادوشمار اورنگ آباد ڈویژنل کمشنریٹ دفتر کے ہیں ۔بڑی بات یہ ہے کہ کہاں2001میں صرف ایک کسان نے خودکشی کی تھی اورکہاں2دہائی میں 10,431 کسانوں کی خودکشی۔ اس کامطلب یہ ہوا ،حالات اچانک خراب نہیںہوئے بلکہ مسلسل بدسے بدترہورہے ہیں ۔ 21ویں صدی کی پہلی دہائی 2001سے 2010کے درمیان 2006 میں سب سے زیادہ 379کسانوں نے خودکشی کی تھی ۔جبکہ 2011سے 2020 کی دہائی میں سب سے زیادہ 2015میں کسانوں کی خودکشی کے سب سے زیادہ 1,133 معاملے درج کئے گئے تھے۔ خودکشی کا معاملہ ویسے ہی تشویش ناک بات ہے ، اس سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ جن کسانوں نے گزشتہ 2دہائی میں خودکشی کی ، ان میں7,605 ایسے تھے ، جن کو سرکاری ضوابط کے مطابق امداد ملی تھی ۔سوال یہ پیداہوتا ہے کہ پھر انہوں نے خودکشی کیوں کی؟ کیا انہیں زیادہ نقصان ہوگیا ؟کیاوہ زیادہ مقروض ہوگئے تھے ؟ یا انہیں ضرورت کے مطابق سرکاری امداد نہیں ملی تھی ؟کیونکہ سرکاری امداد ملنے کے بعد یہی امید کی جاتی ہے کہ خودکشی بندہوجائے گی ، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس کامطلب یہ ہوا کہ ان کی مجبوری سرکاری امدادسے کہیں زیادہ تھی ۔
ابھی تک جو بھی باتیں سامنے آئی ہیں، ان سے پتہ چلتاہے کہ کسانوںکی خودکشی کے 3-4ہی اسباب ہوتے ہیں ، ایک فصلوں پر موسم کی مار اوران کی تباہی ، دوسرے زیادہ مقروض ہونا اور قرضوں کی ادائیگی سے قاصر ہونا ، تیسرے زراعت میں استعمال ہونے والی اشیا جیسے کھاد ، بیج وغیرہ آسانی سے نہ ملنا یا بہت زیادہ قیمتوں پر بلیک میں ملنا جس کی شکایت ہر سال آتی رہتی ہے ۔ چوتھی بات یہ ہے کہ عموما کسانوں کو خرچ کے حساب سے فصلوں کی اچھی قیمت نہیں ملتی ۔ جس کی وجہ سے اچھی پیداوار ہوبھی جائے پھر بھی وہ پریشان رہتے ہیں ۔موسم ، سیلاب یا خشک سالی کی وجہ سے فصل تباہ ہوگئی تو کسان بھی برباد ہوجاتے ہیں ۔کسانوں پر قرض بھی کئی طرح کے ہوتے ہیں ، کچھ بینکوں کے ہوتے ہیں ، جنہیں وہ سرکار سے معاف کرانے کی تگ ودو کرتے رہتے ہیں ۔اس میں وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں ۔لیکن لوگوں یا دکانوں کے قرض معاف نہیں ہوتے ۔فصل بربادہونے کے بعد ان کی پریشانی کافی بڑھ جاتی ہے اوردبائو بھی بڑھتاہے ۔جس کی وجہ سے وہ خودکشی جیساقدم اٹھانے سے گریز نہیں کرتے ۔ایسی بات نہیں ہے کہ سرکار کسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے پالیسیاں نہیں بناتی ۔سرکار پالیساں بھی بناتی ہے اورکسانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے قدم بھی اٹھاتی ہے ، لیکن سرکار جو سوچتی ہے یا کہتی ہے ، اتنا فائدہ کسانوں کو نہیں پہنچتا۔شاید اسی لئے ہمیشہ کسانوں کی بدحالی کے لئے سرکارہی کوذمہ دار ٹھہرایاجاتاہے ۔
اس بار کی خودکشی کی رپورٹ میںایک نئی چیز سامنے آئی ہے ۔وہ یہ کہ پہلے جولائی اوراکتوبر کے درمیان کسانوں کی خودکشی کی خبریں آتی تھیں ، لیکن اب پیٹرن بدل گیا ہے ۔ دسمبر اور جون کے درمیان خودکشی کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سرکار پالیسیاں تو بناتی ہے اورکسانوں کی بہبود وترقی کے لئے فیصلے بھی کرتی ہے ، لیکن ان پالیسیوں اورفیصلوں کا زمین یا کسانوں پر کتنا اثرپڑرہاہے ، اس کاجائزہ سرکاری سطح پر مسلسل نہیں لیا جاتا ہے ۔تاکہ اسی کے مطابق فیصلوں اورپالیسیوں میں وقتافوقتاترمیم کی جاسکے ۔یہ ایک مسلسل عمل ہونا چاہئے ۔تبھی ملک کے کسانوں کے حالات میں بہتری کی امید کی جاسکتی ہے اوران کی خودکشی کو روکا جاسکتا ہے ۔
[email protected]