انتہاپسند عناصر اور اسرائیل کی نئیصف بندی

0

انتخابی نتائج آنے کے دوماہ بعداسرائیل میں ایک منتخب سرکارکے لئے امکان پیدا ہوا ہے۔ نیتن یاہو کی پارٹی اوران کی قیادت والا محاذ اگرچہ اکثریت حاصل کرچکا ہے مگر نئی حکومت جو بنجامن نیتن یاہو کی قیادت میں معرض وجودمیں آرہی ہے مگر کس کو کیا عہدہ ملے گا اس پراتفاق ہونے کے بعد اب ایک مستحکم حکومت بننے کے آثارپیدا ہوگئے ہیں۔ مگرعالمی برادری مسلسل اس بات پر تشویش ظاہرکررہی ہے کہ یہ سرکار سخت گیر عناصر والی حکومت ہوگی۔
مغربی ایشیا اور دنیا کے سب سے متنازع ریاست ’جمہوریت‘ اسرائیل میں لگاتار چارانتخابات میں ایک مستحکم اور دیرپا حکومت دینے میں ناکام رہی اور پانچویں الیکشن کے نومبرکے اوائل میں نتائج آنے کے بعد اب دوماہ میںایک مستحکم حکومت کی امید پیدا ہوئی ہے۔ بنجامن نیتن یاہو کی قیادت میں معرض وجودمیں آنے والی مجوزہ حکومت میں کس حلیف کے پاس کون سی ذمہ داریاں ہوںگی اس پر تنازع چل رہا ہے اور تازہ ترین اطلاعات یہ ہیں کہ بہت جلد اسرائیل میں حکومت بن جائے گی۔ سابق فوجی، سخت گیر لیڈر اور وزیر دفاع رہ چکے نیتن یاہو ایک سخت گیر وزیراعظم کے طورپر شمارکئے جاتے ہیں اوران کی قیادت میں مجوزہ حکومت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اب تک کی سب سے سخت گیر لیڈروں پر مشتمل حکومت ہوگی۔ اسرائیل کے خلاف اور بڑی تعداد میں غیرملکی لیڈر بشمول امریکہ اس بابت تشویش کا اظہار کرچکے ہیں کہ اسرائیل کی مجوزہ حکومت مذہبی اور سخت گیر عناصر کی حکومت ہوگی۔ نیتن یاہو نے اتفاق رائے بنانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس کے مطابق جیوش پاور پارٹی (Jewish Power Party) کے وزارت تحفظ کے سربراہ ہوںگے جبکہ Religious Zionism Party کے پاس جنوبی کنارے میں یہودی آبادیوں کی توسیع کی وزارت ہوگی۔ Religious Zionism پارٹی Benzalel Smotrtich کی پارٹی ہے۔ یہ دونوںپارٹیاں چاہتی ہیں کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کو اقتدار اعلیٰ حاصل ہوجائے۔ دونوں فلسطینیوں کو آزاد ریاست نہیں دینا چاہتے ہیں اور دو ریاستیں ان کے خلاف ہیں۔ ان دونوںپارٹیوںکا موقف اسرائیل فلسطین اور عالمی برادری کے امن فارمولے کے خلاف نیتن یاہو کی سرکار میں ایک اورمذہبی پارٹی شاس پارٹی (Shas Party) کے رکن Aryuh Deri دوسال کے لئے وزارت مالیات کی ذمہ داری سنبھالے گی جبکہ دوسال کے لئے Religious Zionist Party کے لیڈر Smotrich وزیر مالیات رہیںگے۔
عالمی براری اور لبرل سمجھے جانے والے حلقوںکا کہنا ہے کہ نئی مجوزہ حکومت ہم جنس پرستوں کے حقوق کولے کر فکرمندی کا اظہار کرچکے ہیں۔ اسسول اعلامیہ پر بھی اسرائیل کی مذکورہ بالا تینوں پارٹیوں کا موقف سامنے آیا ہے۔ سخت گیر عناصرہم جنس پرستوں کو اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہیں۔صدر اسرائیل اسحاق ہرگوز نے نئی حکومت کے کئی امورپر ایک نقطہ نظر پر تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ یہ موقف اسرائیل کے روایتی اخلاقی موقف کے خلاف ہے۔
کئی حلقوں میں نیتن یاہو کے بدلتے ہوئے موقف پر کافی بحث ہورہی ہے۔ نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ وہ عام طبقات کو یکساں حقوق دیے جانے کے حامی ہیں۔
فلسطینیوں کو بھی نیتن یاہو کی قیادت والی مجوزہ سرکار کے قیام کولے کر تشویش ہے۔ ہر روز چوراہوںاور سرعام زدوکوب ہونے والے فلسطینیوں کا اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں ان کے لئے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
نومبر کے الیکشن میں Religious Party نے 120سیٹوں والے ایوان Knessetمیں محض 14سیٹیں جیت کر زیادہ اہمیت اختیارکرلی ہے۔ ایتاماربین گلویر جیوش پاورپارٹی (Jewish Power Party) عرب مخالف نسل پرست یہودی ہیں۔ جو کھلم کھلا عربوں کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ پتھربرسانے والے فلسطینیوں کو گولی مارنے اور غدار وطن فلسطینیوں کو ملک بدر کرنے کے حامی ہیں۔
ایتامار بین گویز (Itamer Ben-Gvir) عربوں کے خلاف نسل پرستانہ بیان بازی کرنے کے لئے مجرم قرار دیے جاچکے ہیں۔ ان کو غیرقانونی اور نسل پرستانہ موقف اختیار کرنے کی وجہ سے سیاسی طورپر الگ تھلگ کردیا گیا تھا مگراس الیکشن میں کامیابی اور سرکار میںاہم عہدہ حاصل کرنے پر اپنے نظریات اورطریقہ کار کی توسیع کا موقع ملے گا۔ ٭٭٭

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS