ای ڈبلیو ایس کوٹا برقراررہے گا

0
www.dnaindia.com

عدالت عظمیٰ کے فیصلوں کا انتظار پورے ملک کو رہتا ہے، خاص کر ان ایشوز پر فیصلوں کا انتظار بڑی شدت سے رہتا ہے جن سے مختلف لوگوں کی دلچسپی مختلف وجوہات سے رہتی ہے۔ ای ڈبلیو ایس کے لیے 10 فیصد ریزرویشن بھی ایسا ہی ایشو ہے۔ عدالت عظمیٰ کے پاس اس ایشو کے جانے کے بعد سے انتظار اس بات کا تھا کہ وہ کیا فیصلہ سناتی ہے، 10 فیصد کوٹا کو برقرار رکھتی ہے یا ختم کر دیتی ہے اور عدالت عظمیٰ نے اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے آج بروز پیر، 7 نومبر 2022 کو 103 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کو برقرار رکھا۔ اس نے اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ 2-3 کی اکثریت سے دیا۔ چیف جسٹس یویو للت کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بینچ میں خود جسٹس للت اور آئینی بینچ کے رکن جسٹس ایس رویندر بھٹ نے 103 ویں آئینی ترمیم سے اختلاف کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق، یہ امتیاز سے پر اور آئین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ مگر جسٹس دنیش ماہیشوری، جسٹس بیلا ایم ترویدی اور جسٹس جے بی پاردی والا نے اسے برقرار رکھنے کے حق میں فیصلہ دیا۔ جسٹس ماہیشوری نے یہ مانا کہ یہ کوٹا آئین کے اصل ضابطے اور روح کی خلاف ورزی نہیں۔ جسٹس ترویدی نے بھی غریبوں کو ملنے والے 10 فیصد ریزرویشن کو صحیح قرار دیا، البتہ یہ غور کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا کہ ریزرویشن کب تک ضروری ہے۔ ان کے مطابق، نابرابری ختم کرنے کے لیے ریزرویشن کوئی آخری حل نہیں۔ یہ صرف ابتدا ہی ہے۔ چیف جسٹس یویو للت کی بینچ نے این جی او ’جَن ہِت ابھیان‘ اور دیگر کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں دائر عرضیوں پر فیصلہ سنایا ہے۔ حکومت کے اس دعویٰ کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ’10 فیصد ای ڈبلیو ایس ریزرویشن پہلے سے درج فہرست ذاتوں/ درج فہرست قبائل (ایس سی/ایس ٹی)، دیگر پسماندہ ذاتوں (او بی سی) اور عام زمروں کو دیے گئے50 فیصد ریزرویشن سے الگ ہے۔‘
ملک کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ ملک کا ہرباشندہ ترقی کرے مگر ہر باشندہ تبھی ترقی کرے گا جب اسے سہولتیں دی جائیں گی، حکومت ان کی مدد کرے گی، انہیں یہ احساس دلائے گی کہ وہ اگر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو اپنی اقتصادی حالت اچھی نہ ہونے پر بھی ترقی کر سکتے ہیں، چنانچہ مودی حکومت نے اقتصادی حالت کی بنیاد پر ای ڈبلیو ایس یعنی اکنامی کلی ویکر سیکشن (Economically Weaker Sections) کے لیے تعلیم اور ملازمتوں میں 10 فیصد ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تو اس کو ایک اہم فیصلہ سمجھا گیا بلکہ مودی حکومت نے ملک کے مفادمیں جو اہم فیصلے لیے ہیں، ان میں اسے ایک شامل کرنا غلط نہیں ہوگا۔ ای ڈبلیو ایس زمرے کے طلبا اور لوگوں کو 10 فیصد کوٹا دینے سے ان طلبا کے لیے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا آسان ہو گیا ہے جو حالات کی مجبوری کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر پاتے تھے۔ ای ڈبلیو ایس کوٹا کے ملازمتوں میں بھی لاگو ہونے سے غریبوںکو نوکری ملے گی توان کے حالات بدلیں گے، ملک میں خط افلاس کے نیچے رہنے والوںکی تعدادگھٹے گی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حکومت پر ان لوگوں کا اعتماد مستحکم ہوگا جو خستہ اقتصادی حالت کی وجہ سے حاشیے پر ہیں اور یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان کے حالات کبھی بدلیں گے۔ عام لوگوں نے ای ڈبلیو ایس زمرے کے لیے 10 فیصد کوٹا کی اہمیت سمجھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کوٹا کے اعلان کے بعد مودی حکومت کی مقبولیت گھٹی نہیں ہے۔ پہلے ہی سے جن لوگوں کو ریزرویشن مل رہا ہے، انہیں اس کوٹا پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اب تو ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بھی اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا ہے۔ عدالت کا یہ فیصلہ بھی یہی ثابت کرتا ہے کہ حکومت کا فیصلہ صحیح تھا۔ غریبوں کی فلاح وبہبود کے لیے حکومت کویہ قدم بہت پہلے اٹھانا چاہیے تھا لیکن تاخیر سے ہی سہی، ای ڈبلیو ایس زمرے کے لیے 10 فیصد کوٹا دینے کا سلسلہ شروع کرکے اس نے ملک کے مفادمیں ایک اچھا کام کیا ہے۔ اس کی مخالفت وہی لیڈران کریں گے جو اقتصادی طور پر بدحال لوگوں کو اوپر اٹھتے ہوئے دیکھنا نہیں چاہتے، خواہ مخواہ کی سیاست میں لوگوں کو الجھائے رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اقتدار کے مزے لیتے رہیں۔
[email protected]