ملک گیر ویکسینیشن مہم سے قبل ہی کووڈ 19 انفیکشن کی رفتار سست

0

نئی دہلی:  کورونا کی وبا کے خلاف ہفتہ سے شروع ہورہے ملک گیر ویکسینیشن مہم سے قبل ہی کووڈ 19 انفیکشن کی رفتار سست ہورہی ہے، جس کی وجہ سے فعال کیسوں کی شرح کم ہوکر 2.02 فیصد رہ گئی ہے جب کہ یومیہ اموات کی تعداد دوسرے دن بھی 200 سے نیچے رہی۔
صحت کی مرکزی وزارت کی جانب سے جمعہ کو جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران انفیکشن کے 15590 نئے معاملے سامنے آئے ہیں،جس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ پانچ لاکھ 27 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔ اس دوران 15975 مریض صحت مند ہوئے،جس سے کورونا سے نجات پانے والوں کی تعداد ایک کروڑ ایک لاکھ 62 ہزار 738 ہوگئی اورری کوری کی شرح بڑھ کر 96.53 فیصد ہوگئی۔ سرگرم معاملات کی تعداد 576 کم  ہوکر 2.13 لاکھ  رہ گئے۔ اسی دوران 191 مریض فوت ہوئی۔ جس سے مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ 51 ہزار 918 ہوگئی۔ اموات کی شرح اب 1.44 فیصد ہے۔
کیرالہ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ 1134 فعال معاملے ریکارڈ ہوئے اور ان کی تعداد 66713 ہوگئی ہے۔ وہیں سب سے زیادہ 4337 مریض صحتمند بھی ہوئے، جس سے کورونا کو شکست دینے والوں کی تعداد 7.61 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جب کہ 19 مزید مریضوں کی اموات سے یہ تعداد بڑھ کر 3392 ہوگئی ہے۔ فعال معاملات میں کیرالہ پہلے نمبر پر ہے۔
مہاراشٹر میں بھی  فعال معاملوں کی تعداد میں 200 کا اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد 53744 ہوگئی ہے۔ ریاست میں کورونا سے نجات پانے والے افراد کی تعداد 18.77 لاکھ ہوگئی ہے جبکہ مزید 70 مریضوں کی اموات کی یہ تعداد 50291 ہوگئی ہے۔
قومی دارالحکومت دہلی میں سرگرم معاملات میں مسلسل کمی واقع ہورہی ہے اور اب ان کی تعداد 2937 رہ گئی ہے۔ وہیں مزید چار مریضوں کی موت ہوئی ہے، جس کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 10722 ہوگئی ہے۔ دہلی میں 6.17 لاکھ سے زیادہ مریض صحت مند ہوئے ہیں۔ جنوبی ریاست کرناٹک میں کورونا کے سرگرم کیسوں کی تعداد 8747 رہ گئی ہے۔ ریاست میں اموات کی تعداد 12155 ہوچکی ہے اور اب تک 9.09 لاکھ سے زیادہ مریض شفایاب ہوچکے ہیں۔
آندھرا پردیش میں 2338 فعال معاملات رہ گئے ہیں۔ دوسری جانب 7138 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور 8.76 لاکھ سے زیادہ افراد انفیکشن سے نجات پاچکے ہیں۔
آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران فعال معاملات 52 کم ہوکر 52010 رہ گئے۔ اس وبا کی وجہ سے 8543 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں اور اب تک 5.76 لاکھ سے زیادہ مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔
تامل ناڈو میں سرگرم کیسوں کی تعداد کم ہوکر 6488 ہوگئی ہے اور اب تک 12246 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ریاست میں 8.10 لاکھ سے زیادہ مریض انفیکشن سے نجات پاچکے ہیں۔
اوڈیشہ میں فعال کیسوں کی تعداد 11 سے بڑھ کر 2035 ہوگئی ہے جب کہ 3.28 لاکھ افراد کو اس انفکشن سے نجات ملی ہے وہیں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 1896 ہوگئی ہے۔
تلنگانہ میں سرگرم مریضوں کی تعداد 53 کے اضافے کے ساتھ  4442 ہوگئی ہے اور 1574 افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ 2.85 لاکھ سے زائد افراد اس وبا سے صحت مند ہوچکے ہیں۔
مغربی بنگال میں کورونا کے فعال معاملات 31 گھٹ کر 7272 ہوگئے ہیں اور 10010 افراد کی موت ہوئی۔ ریاست میں اب تک 5.46 لاکھ سے زیادہ افراد شفایاب ہوئے ہیں۔
پنجاب میں سرگرم کیسوں کی تعداد 50 کم ہوکر 2767 ہوگئی ہے اور انفیکشن سے راحت حاصل کرنے والے افراد کی تعداد 1.61 لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے جب کہ 5473 مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
مدھیہ پردیش میں فعال معاملوں کی تعداد میں 186 کی کمی واقع ہوئی ہے اور یہ تعداد 7108 پر آگئی ہے اور اب تک 2.39 لاکھ سے زیادہ افراد صحت مند ہوچکے ہیں جب کہ 3740 افراد اس بیماری کی وجہ سے لقمہ اجل بن گئے ہیں۔
چھتیس گڑھ میں فعال معاملات کی تعداد 373 کم ہوکر 7418 ہوگئی ہے۔ ریاست میں 2.81 لاکھ افراد انفیکشن سے پاک ہوئے ہیں جبکہ 10 مزید مریضوں کی ہلاکت کے ساتھ ہی اموات کی تعداد 3537 ہوگئی ہے۔
گجرات میں 7056 فعال معاملے ہیں اور 4357 افراد فوت ہوگئے ہیں اور 2.42 لاکھ سے زیادہ افراد بھی اس بیماری سے شفایاب ہوئے ہیں۔
بہار میں فعال معاملات کی تعداد 55 کم ہو کر 4170 ہوگئی ہے۔ ریاست میں کورونا کی وجہ سے 1447 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جب کہ 2.51 لاکھ سے زیادہ افراد انفیکشن سے پاک ہوچکے ہیں۔
ابھی تک کرونا کی وبا سے ہریانہ میں 2972​​،راجستھان میں 2744،جموں و کشمیر میں 1915،اتراکھنڈ میں 1596، آسام میں 1065، جھارکھنڈ میں 1048،گوا میں 752، پڈوچیری میں 640، تریپورہ میں 390،منی پور میں 365، چنڈی گڑھ میں 330، میگھالیہ میں 144،سکم میں 130، لداخ میں 128، ناگالینڈ میں 86،انڈومان اور نکوبار جزائر میں 56،اروناچل پردیش میں 56،میزورم میں نو اور دادر و نگر حویلی اور دمن و دیو میں دو اموات ہوئی ہے۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here