ایتھوپیا پھر خانہ جنگی کے دہانے پر

0

ایتھوپیا کے شمالی علاقے میں بغاوت ہے اوروہاں کی ایک بڑی آبادی علیحدہ ملک بنانے کا مطالبہ کررہی ہے۔ کئی سالوں سے تگرے پیپلزلبریشن فرنٹ (ٹی پی ایل ایف)نے حکومت کے خلاف متحدہ مسلح جنگ شروع کررکھی ہے۔ ایتھوپیا کی سرکار نے ٹی پی ایل ایف کو دہشت گرد گروپ قرار دے رکھاہے مگر پچھلے دنوں 21ماہ سے جاری جنگ بندی ختم ہوگئی ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہے ہیں۔ ٹی پی ایل ایف کا کہنا ہے کہ ایتھوپیا کی فوج نے باقاعدہ اشتعال انگیزی کرکے اس جنگ بندی کو توڑا ہے۔ دونوں فریقوں کی بات کی تصدیق غیرجانب دار حلقوں سے نہیں ہوسکی ہے۔ مگریہ بات تصدیق سے کہی جاسکتی ہے کہ تگرے کے امہارا اور افہارعلاقوں میں دونوں میں کھلم کھلا اورباقاعدہ جنگ لڑی جارہی ہے۔ تگرے علیحدگی گروپ پسند کا کہناہے کہ وہ دفاعی پوزیشن میں ہیں اور وہ جارح نہیں ہیں۔ دراصل تگرے لبریشن فرنٹ کو کئی مغربی طاقتوں کی حمایت مل رہی ہے۔ مصر اور سوڈان بھی ایتھوپیا میں علیحدگی پسندی کی حمایت کررہے ہیں۔ حالات کو ہاتھ سے جاتے دیکھ کر ایتھوپیا کی سرکار نے مغربی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے روس اور چین کے ساتھ مراسم بڑھالیے ہیں اور اس پورے علاقے میں دونون بلاکوں کے درمیان کشیدگی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ روس کا ویگنر گروپ جو کہ دنیا بھر کے کئی ملکوں میں پرائیویٹ فوجیوں کی کمپنی چلاتا ہے، اس کے کئی نمائندے اور فوجی ماہرین ایتھوپیا میں مسلسل ابی احمدحکومت کے رابطے میں ہیں۔ ظاہرہے کہ مغرب کے لیے یہ ایک تکلیف دہ بات ہے۔ افریقہ میں امن فوج کے کئی ٹکڑیاں جنگ بندی کوبرقراررکھنے کی کوشش کررہی ہیں مگر حالات اس قدر قابو سے باہر ہیں کہ آس پاس کے کئی ممالک کی افواج ایتھوپیا میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ قارئین کو یادہوگا کہ ان صفحات میں بتایاگیا تھا کہ لیبیا ، مالے اور الجیریا میں روس کے کئی فوجی اڈے ہیں، جہاں سے وہ آس پاس کے علاقوں پر نظررکھے ہوئے ہیں اورامریکہ اورفرانس کو ایسا موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ قدرتی وسائل اورمعدنیات سے مالامال اس خطے کو ان کے لیے اکیلاچھوڑ دے۔ افریقہ کے کئی ملکوں میں خانہ جنگی ہے اور پڑوسی ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ ایسے میں افریقی یونین کی امن فورس حتی الامکان کوشش کررہی ہے کہ وہ ایتھوپیا سمیت دیگر خلفشار کے شکار ملکوں میں قیام امن کو ممکن بنائے۔ افریقی یونین پر تگرے لبریشن آرمی کوبھروسہ ہے۔ ابھی حکومت کی حالیہ جنگ بندی کے خلاف اس نے ناراضگی کا اظہار کیاہے۔ اصل میں یہ پورا علاقہ بدترین فاقہ کشی کی صورت حال سے گزررہا ہے اور ایتھوپیا کی سرکار نے ناکہ بندی کرکے ان علاقوں میں عالمی برادری اور فلاحی اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی امداد پر کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس تنازع سے ابی احمدکی اس امیج کو دھکا پہنچا ہے ،جس کے تحت 2019میںانھیں نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیاتھا۔ ابی کو یہ ڈر ستا رہاہے کہ جس طرح مغربی طاقتوں نے سوڈان میں مداخلت کرکے جنوبی سوڈان کے عیسائی اکثریتی علاقے کو ایک آزاد ملک کی شکل دے دی تھی، ایسا نہ ہو کہ اس کے مغربی علاقے کا یہ خطہ اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ یہی ڈر ہے جو ایتھوپیا کی سرکار کو ستارہاہے۔ ابی احمد2018میں وزیراعظم بنے تھے۔ انہوں نے اپنی مصالحت کی وجہ سے پڑوسی ملک کے ساتھ جنگ بندی کرلی ہے۔ یہ جنگ 20سال سے چلی آرہی تھی، اس جنگ بندی کا پورا کریڈٹ ابی کو جاتا ہے۔ مگر ابی کافی چالاک لیڈر ہیں۔ انہوں نے گڈول کا استعمال کیا اور اپنے ملک میں امن قائم کرلیاہے۔ آج وہ ایک بڑے محاذ کے لیڈر ہیں لیکن علیحدگی پسندی کے خلاف ان کا رویہ انتہائی سخت ہے۔ کئی مغربی ممالک ان کی اس روش سے ناراض ہیں۔ n