۔۔۔دشمن کا دشمن دوست ۔۔۔

0

اقتصادی محاذ پر اب امریکہ ہی چین سے آگے ہے۔ چینی سربراہ شی جن پنگ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک جلد سے جلد امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑدے مگر یہ اتنا آسان نہیں ہے۔ امریکہ دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت ہی نہیں، فوجی طاقت بھی ہے۔ اس کے پا س اتنے فوجی اڈے ہیں جتنے فوجی اڈے کسی بھی ملک کے پاس نہیں ہیں۔ چین اتنی ترقی کرلینے کے باوجود اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ امریکہ کی طرح متعدد ملکوں میں فوجی اڈے قائم کرسکے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ چین براہ راست امریکہ سے ٹکرانے سے گریز کرتارہاہے، البتہ امریکہ کو یہ احساس دلانے کی کوشش کر رہا ہے کہ وہ 1971 والا چین نہیں۔ ادھر گزشتہ کئی دہائی سے امریکہ کے ایران سے تعلقات خراب ہیں اور مستقبل قریب میں تعلقات استوار ہونے کی امید نظر نہیں آتی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ امریکہ کے سعودی عرب سے تعلقات ہیں۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ مستحکم ایران کی موجودگی میں اس کے لیے اس خطے کی سب سے بڑی طاقت بننا مشکل ہے۔ امریکہ کے لیے اسرائیل لاڈلا ہے اور اسرائیل کو ایران پسندنہیں، کیونکہ لبنان کی جس حزب اللہ نے اسرائیلیوں کے دانت کھٹے کردیے تھے، ایران پر اس کی مدد کرنے کاالزام عائد کیا جاتاہے۔ اسی لیے ایران کے معاملے میں اسرائیل اور سعودی عرب دونوں کی ایک رائے ہے اوران کی رائے سے امریکہ کی رائے الگ نہیں ہے۔ ایران یہ جانتاہے۔ اوباما کے وقت میں ایٹمی پروگرام پر امن معاہدہ ہوا مگر امریکہ اس معاہدے سے پیچھے ہٹ گیا۔ ٹرمپ نے معاہدے سے پیچھے ہٹ کر یہ اشارہ دیا کہ امریکہ کے لیے سعودی عرب اور اسرائیل کی خوشنودی سے زیادہ اہم کوئی معاہدہ نہیں۔ غالباً اسی لیے ایران، چین سے کچھ زیادہ قریب ہو گیا تو اس خطے میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے اور توانائی کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے چین کو بھی ایران کی ضرورت تھی۔ چین اور ایران نے امریکہ کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے اتحاد کو مضبوط کیا اور اسے مزید مضبوط کرناچاہتے ہیں۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے سہ روزہ دورئہ چین کو اسی زاویۂ نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ 2021 میں چین نے 25 برس کے لیے ایران سے ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس کے تحت وہ ایران میں 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ اس کے بدلے ایران اسے عالمی شرحوں کے مقابلے کم قیمت پرتیل، گیس اور پیٹروکیمیکل مہیا کرائے گا۔ رئیسی کے اس دورے میں چینی لیڈروں کی طرف سے جو دلچسپی دکھائی گئی ہے، اس سے چین کے لیے ایران کی بڑھتی اہمیت کا انداہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ چین کی ایران سے بڑھتی قربت کی ایک وجہ سعودی عرب پر دباؤ بنانا بھی لگتی ہے تاکہ سعودی عرب یہ سوچنے پر مجبورہو کہ چین سے اس نے ایک حد تک رشتہ مضبوط نہ کیا تو اس کا فائدہ ایران کو ہوگا۔ یہ بات طے سی ہے کہ ایران کی چین سے بڑھتی قربت امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے باعث تشویش ہوگی۔ ان کے لیے یہ بات ناقابل فہم نہیں ہوگی کہ دشمن کے دشمن سے اگر دوستی ہو جائے تو وہ دوستی بہت مضبوط ہوتی ہے۔n

 

 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS