اردو یونیورسٹی میں “ایک محفل اردو کے نام”۔

0
اردو یونیورسٹی میں

حیدرآباد/ 21 جنوری (امام علی فلاحی) انجمن طلباء قدیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کی جانب سے رنگا رنگ ثقافتی پروگرام ایک محفل اردو کے نام زیر سرپرستی پروفیسر نجم الحسن بروز ہفتہ، 21 جنوری، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔

اس پروگرام کا انعقاد مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انجن طلباء قدیم بتعاون سینٹرل پبلک اسکول خلوت حیدرآباد عمل میں آیا ۔
اس موقع پر ڈائریکٹر آف سنٹرل پبلک اسکول خلوت ظفر اللہ فہیم نے کہا کہ “آج ہمارے درمیان سے اردو زبان جو صرف ایک زبان ہی نہیں بلکہ ایک تہذیب ہے وہ رخصت ہوتی جا رہی ہے، اسی لئے میں نے یہ خیال کیا کہ میں اپنے اسکول کے سالانہ جلسے کے موقع پر جو پروگرام کروں گا وہ گانے اور ڈانس والا نہیں بلکہ ایک ایسی ادبی محفل سجاؤں گا جو اردو کے نام سے ہوگی، تاکہ ہماری تہذیب و ثقافت سے نوجوان نسل واقف ہو سکے اور اردو زبان دوبارہ ہمارے درمیان زندہ ہو سکے” ۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ سینٹرل پبلک اسکول خلوت شہر حیدرآباد کا ایک انگلش میڈیم اسکول ہےجہاں انگریزی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اس اسکول نے اردو زبان اور ادب کو نسل نو سے جوڑنے کے لئے اپنے سالانہ جلسے میں اردو زبان وادب کے بے مثال ثقافتی و تہذیبی مظاہرے طلباء کے ذریعے کراے تھے جو کہ پورے شہر حیدرآباد میں کافی مقبول ہوئے، اسی کے پیش نظر انجمن طلباء قدیم مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نے ڈین المونی کے تعاون اور پروفیسر نجم الحسن کی رہبری میں سینٹرل پبلک اسکول کے طلباء ، اساتذہ اور انتظامیہ کو مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی نظامات فاصلاتی کے آغا حشر کاشمیری اڈوٹیریم میں ایک محفل اردو کے نام کے تحت مدعو کیا تھا، جس میں سینٹرل پبلک اسکول خلوت کے طلباء نے اردو زبان وادب کے مختلف رنگا رنگ ثقافتی پروگرام پیش کئے جس میں سارے فنون لطیفہ اور اردو کے سارے اصناف سخن شامل تھے۔
اس محفل میں طلباء نے کل سات پروگرام بیش کیے جو سارے ہی اردو کے مشہور اصناف پر مبنی تھے، جس کے بل بوتے اردو زبان نے دنیا بھر میں اپنی اہمیت کا لوہا منوایا۔ جس میں حمد، نعت، نظم، دعا، ڈرامہ، قوالی اور مشاعرہ شامل تھے۔
“حمد” جو کہ اردو کی ایک مشہور صنف ہے، اسکی تعریف عائشہ فاطمہ نے دلچسپ پیرائے میں پیش کی جبکہ درجہ آٹھ کے طالب علم سبحان اور انکے رفقاء نے حمد پیش کی‌۔
اردو زبان کی ایک اور مشہور صنف “نعت” ہے، جسکی تعریف دسویں جماعت کی طالبہ زینب نے پیش کی اور اسی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے طالبعلم “خواجہ” نے نعت پیش کی۔
ایک اور صنف “نظم” اس کی تعریف دسویں جماعت کی بتول فاطمہ نے کی اور آٹھویں جماعت کے خضر نے نظم پیش کی۔
“دعا” بھی اردو زبان کی ایک خوبی ہے یہی وجہ ہے کہ تقریباً سارے ہی شعراء نے اپنے انداز شعر میں خدا سے کسی چیز کی التجاء کی ہے، “دعا” کی تعریف اسکول کی طالبہ “فردوس” نے بیان کی اور آٹھویں جماعت کے ایک گروپ نے سعدیہ تبسم کے ساتھ دعا پیش کی‌۔
ڈرامہ جو اردو ادب میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے،‌ اسی ڈرامے کی تعریف سعدیہ فاطمہ نے کی اور فلک فاطمہ، احمدی بیگم، محمد عاقب، حذیفہ اور مجاہد اللہ نے ڈراما پیش کیا ۔
“قوالی” دسویں جماعت کے طالب صدیق بن محسن نے پیش کی‌۔
آخر میں ایک تمثیلی مزاحیہ مشاعرہ منعقد ہوا جسکی نظامت دسویں جماعت کے محمد حنظلہ نے کی تھی۔

مانو انجمن طلبہ قدیم کے صدر اعجاز علی قریشی، ڈین المونی پروفیسر نجم الحسن، اسوسیئیٹ پروفیسر محمد مصطفیٰ علی سروری اور ڈائریکٹر سنٹرل پبلک اسکول خلوت ظفر اللہ فہیم صاحب نے اس پروگرام میں اظہار خیال کیا ، مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کے طلبہ یونین کے صدر محمد فیضان، نائب صدر یونین مصباح ظفر، جوائنٹ سکریٹری ماریہ ہدایت، اور خازن محمد قاسم کو تہنیت پیش کی گئی اس موقع پر پر طلباء یونین کے قایدین نے اردو محفل کے انعقاد پر میزبان حضرات کو مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ سنٹرل پبلک اسکول خلوت کے طلباء کو بہت جلد دوبارہ اردو یونیورسٹی کے پلیٹ فارم پر اپنا منفرد ثقافتی مظاہرہ پیش کرنے کے لئے مدعو کیا جاے گا، پروگرام میں مانو المونی ایسوسی ایشن کے عہدیداران ایوب خان اور محترمہ افسر بیگم اور محمد تحسین الدین بھی موجود تھے۔