اپوزیشن اتحاد کے لئے کوششیں

0

اگلا پارلیمانی الیکشن زیادہ دورنہیں ہے ۔ 2024کی دوسری سہ ماہی میں ہوگا، لیکن بی جے پی اوراپوزیشن پارٹیاں ابھی سے کمر بستہ ہوگئی ہیں۔ ایک طرف جہاں ریاستی امور کے انچارجوں کی تقرری کے بعد وزیر اعظم نریندرمودی اوربی جے پی کے سینئر لیڈران ریاستوں کے دورے کرکے وہاں تیاریوں کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ مقامی لیڈران وکارکنان کے حوصلے بڑھانے کا کام کررہے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں بھی صف بندی کیلئے سرگرم نظرآرہی ہیں ۔ماضی میں ایک کوشش مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتابنرجی کرچکی ہیں لیکن وہ بے سود ثابت ہوئی۔ اب وہ اس تعلق سے خاموش بھی ہیں ۔اب بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے اس کی کمان سنبھالی ہے ۔وہ لیڈران سے ملاقاتیں کررہے ہیں اوراسٹیج شیئر کررہے ہیں ۔بہارمیں بی جے پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے اورعظیم اتحاد کے ساتھ سرکار بنانے کے بعد وہ مسلسل اپوزیشن اتحاد کے لئے کوشاں ہیں ۔پچھلی بار جب انہوں نے دہلی کا دورہ کیا تھا تو کانگریس کے لیڈرراہل گاندھی،سماج وادی پارٹی کے لیڈر ملائم سنگھ یادواوراکھلیش یادو،سی پی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری اور دہلی کے وزیراعلیٰ اروندکجریوال سے ملاقات کی تھی ۔اس بار جب دہلی آئے تو سب سے پہلے ہریانہ جاکر انڈین نیشنل لوک دل(آئی این ایل ڈی ) کے بانی چودھری دیوی لال کی 109ویں جینتی پر پارٹی کی ایک مہاریلی میں اپوزیشن لیڈران کے ساتھ اسٹیج شیئر کیا۔ جن میں آئی این ایل ڈی کے اوم پرکاش چوٹالہ ،این سی پی کے صدر شردپوار، راشٹریہ جنتادل کے لیڈرتیجسوی یادو، شیوسینا کے اروندساونت، شرومنی اکالی دل کے سکھ بیر بادل اورسی پی ایم کے سیتارام یچوری شامل ہیں ۔بعد میں نتیش کمار اور لالوپرساد یادونے کانگریس کی صدر سونیاگاندھی سے ملاقات کی ۔بہارکے وزیراعلیٰ کے دہلی دورے کے دوران ایک اہم پیش رفت یہ ہوئی کہ تلنگانہ کے وزیراعلیٰ کے چندرشیکھر رائو نے بہارکا دورہ کرکے وہاں کے وزیراعلیٰ نتیش کمار اورنائب وزیراعلیٰ تیجسوی یادوسے ملاقات کی تھی ۔
نتیش کمارکی سرگرمیوں میں ایک اہم بات یہ نوٹ کی جارہی ہے کہ اس میں ترنمول کانگریس کا ذکر نہیں ہورہا ہے اورنہ ہی اس کے لیڈران کے ساتھ ملاقاتیں ہورہی ہیں ۔جبکہ ممتابنرجی نے بھی کانگریس کے لیڈروں سے ملاقات کی تھی اورنتیش کماربھی مل رہے ہیں لیکن کانگریس کی طرف سے بی جے پی کے خلاف اپوزیشن اتحاد میں کوئی خاص دلچسپی نظر نہیں آرہی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی انفرادی ملاقات کا حصہ تو بن رہی ہے لیکن اجتماعی نہیں یعنی اسٹیج شیئر نہیں کررہی ہے ، حالانکہ اپوزیشن میں قومی سطح کی سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی وہی ہے ،اس کے بغیر اپوزیشن اتحاد کوئی معنی نہیں رکھتا اور نہ ہی وہ زمین پر مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ جس بی جے پی کو 2024کے پارلیمانی انتخابات میں ہرانے کے عزم کا اظہار اپوزیشن پارٹیاں کررہی ہیں ، وہ خواب کانگریس کے بغیر ادھورا رہے گا۔ اپوزیشن اتحاد میں کانگریس کہاں اورکس پوزیشن پر ہوگی،یہ مسئلہ نہ پہلے حل ہوا اورشاید آگے بھی حل نہیں ہوگا ۔کچھ پارٹیاں کانگریس کو اتحادمیں شامل کرنے کی حامی ہیں لیکن بہت سی پارٹیاں کانگریس کے بغیر تیسرا محاذ بنانے کی وکالت کرتی ہیں ۔اپوزیشن میں بڑی تعداد میںایسی پارٹیاں ہیں ، جو نہ خود کانگریس کے ساتھ اپنی ریاست میں اتحاد کرناچاہتی ہیں اورنہ کانگریس ان کو حلیف بناناپسند کرے گی ۔جو کانگریس کبھی ’اکیلاچلو‘کی پالیسی پر چلتے چلتے چند ریاستوں میں سمٹ کررہ گئی ، اپنی اپنی ریاستوں میں مضبوط علاقائی پارٹیاں اپنے یہاں تو ’اکیلاچلو‘ کی پالیسی پر عمل پیراہیں اوردوسری ریاستوں میں گرفت مضبوط کرنے کیلئے اتحاد چاہتی ہیں۔یہی حال کانگریس کا ہے ۔
اپوزیشن اتحاد میں صرف کانگریس کی حیثیت ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وزیراعظم کے عہدے کے دعویدار کے طور کسی چہرے کا سامنے نہ آنا بھی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ کسی مضبوط ومقبول چہرے کے بغیر بی جے پی کو شکست دینے کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا۔ کبھی ممتابنرجی کے چہرے کو پیش کیا جارہا تھااوراب نتیش کمار کے چہرے کو ، لیکن ان ناموں پر اپوزیشن کے درمیان اتفاق ہوسکے گا؟ دوسری بات یہ ہے کہ اگلے پارلیمانی انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے کیلئے صرف ملاقاتیں اوراسٹیج شیئر کرنا کافی نہیں ہے بلکہ بھارت جوڑو یاتراکی طرح بڑی تحریک چلانے کی ضرورت ہے ۔تبھی بات بنے گی اورآگے بڑھے گی ۔اس کیلئے پارٹی مفادات سے اوپر اٹھ کر سوچنا اور زمین پر کام کرنا ہوگا ۔
[email protected]

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS