ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک: بدعنوانوں سے کیسے نمٹیں؟

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

سپریم کورٹ نے رشوت لینے والے سرکاری ملازمین کے لیے نئی مصیبت کھڑی کر دی ہے۔ اب ان کا جرم ثابت کرنے کے لیے ایسے ثبوتوں کی ضرورت نہیں ہوگی کہ رشوت دینے والا اور رشوت لینے والا خود اعتراف کرے کہ میں نے رشوت دی ہے اور میں نے رشوت لی ہے۔ اگر وہ خود اعتراف نہ کریں یا اپنے بیان سے مکرجائیں یا ان میں سے کوئی مر جائے تو بھی عدالت کو انصاف ضرور کرنا ہوگا۔ عدالتوں کو چاہیے کہ وہ دیگر شواہد بھی تلاش کریں۔ جیسے گواہوں سے پوچھ گچھ، بینک اکاؤنٹس کی تلاش، رشوت لینے والوں کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیدادوں کی تفصیلات جمع کروائیں، ان کے اہل خانہ کے رہن سہن اور اخراجات کا کچاچٹھاتیار کروائیں، سرکاری دستاویزات کی جانچ کروائیں وغیرہ کئی ثبوتوں کی بنیاد پر رشوت کے لین دین کو پکڑا جاسکتا ہے۔ اب تک رشوت ستانی کے کئی معاملات راستے میں ہی بکھر جاتے رہے ہیں لیکن انسداد رشوت ستانی قانون کی اس نئی تشریح کے باعث اب مزید معاملات پکڑے جاسکیں گے۔ لیکن ہندوستان میں رشوت خوری یعنی بدعنوانی تو سیاسی آداب بن چکی ہے۔ اس کا بول بالا تو ہمارے پڑوسی ممالک میں اتنا زیادہ ہے کہ ہم ہندوستانی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ بعض ممالک کے لیڈروں، فوجیوں اور افسروں کے ٹھاٹ باٹ دیکھ کر آپ خود سے سوال کریں گے کہ یہ لوگ کیا ارب پتی یا کھرب پتی ہیں؟ لیڈروں کی چوٹی سے نکلی بدعنوانی کی ندی حکومت کے چپراسی تک سب کو آلودہ کرتی چلی جاتی ہے۔ سپریم کورٹ نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خود عدلیہ بھی کرپشن کی اس ندی (ویترنی) میں غوطہ کھانے سے باز نہیں آپائی ہے۔ بدعنوانی نے ہماری سیاست، انتظامیہ، انصاف حتیٰ کہ عوامی زندگی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے فی الحال جو قانونی اصلاحات تجویز کی ہیں، اس کا کچھ نہ کچھ اثر ضرور ہوگا لیکن بدعنوانی کو اگر جڑ سے ختم کرنا ہے تو ہمیں انتہائی سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ سب سے پہلے تو سیاستدانوں اور افسران اور ان کے خاندان کے افراد کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد و آمدنی اور اخراجات کی تفصیلات کو ہر سال عام کرنا لازمی قرار دیا جائے۔ دوسرا، بدعنوان لیڈروں اور افسران کے خلاف مقدمات کے فیصلوں کے لیے ایک وقت مقرر کیا جائے۔ تیسرا، بعض انتہائی کرپٹ سیاستدانوں، افسروں اور بدعنوان افراد کو عمرقید اور پھانسی کی سزا بھی دی جائے تاکہ مستقبل میں کرپشن کرنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ چوتھا، ملک میں سادگی اور غیرت کے نظریات کا پرچار خود سیاستداں، امیر سیٹھ لوگ، بیوروکریٹس، مذہبی پرچم بردار بھی کریں اور اپنی زندگیوں کو ویسا ہی بناکر لوگوں کے سامنے زندہ مثال بھی پیش کریں۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]