ڈاکٹرسراج الدین ندویؔ: فروغ اردو میں مدارس کا کردار

0

ڈاکٹرسراج الدین ندویؔ
اردو زبان وادب اور نوابوں کے درباری جھولوں میں لوریاں سنتی ہوئی، صوفیوں اور مبلغوں کے بوریوں پر کھیلتی ہوئی ، دہلی کی داخلیت سے کرب واضطراب اور فرحت وانبساط کی متضاد کیفیات سے سرشار ہوتی ہوئی، لکھنؤ میں زیور خارجیت سے سنورتی ہوئی، سرزمین پنجاب کے جذب وشوق سے مسحور ہوتی ہوئی، رام پور کی رعنائیوں سے معمور ہوتی ہوئی، میخانوں سے کیف وسرور کی مستیاں سمیٹی ہوئی، صحن مسجد ومدرسہ میں اپنے دامن کو تقدس وپاکیزگی سے معمور کرتی ہوئی آج دنیا کی مقبول ترین زبان بن گئی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں اردو بولنے والے، لکھنے والے سمجھنے والے پائے جاتے ہیں۔
اردو زبان کی تشکیل نشوونما، فروغ وارتقاء میں مدارس ومکاتب کا بڑا اہم رول رہا ہے۔ اردو کے صرفی ونحوی قواعد، فصاحت وبلاغت کے اصول مدارس ہی کی دین ہیں بقول پروفیسر ملک زادہ منظور:
’’یہ ہماری بدنصیبی ہے کہ ہماری زبان کے ناقدین ان پھولوں کو تو دیکھ لیتے ہیں جو صحن میخانہ میں کھلتے ہیں مگر ان کی نگاہیں ان تاریخ ساز ادیبوں اور دانشوروں کو نظر انداز کرجاتی ہیں جن کی دانشوری مسجد میں پروان چڑھی اور انہوںنے تصنیف وتالیف کے دریا بہادیے۔ انہوںنے انسانیت کی کردار سازی کی۔‘‘(مقدمہ پیاری اردو)
خواجہ گیسودراز کی کتاب’’دستورِ عشاق‘‘ کو پہلی نثری کتاب تسلیم کیا جاتا ہے۔ شاہ رفیع الدینؒ اور شاہ عبدالقادر ؒکا ترجمہ قرآن شاہ اسمٰعیل شہید کی’’تقویۃ الایمان‘‘ اردو نثر کی بنیادی اینٹیں ہیں۔سرسید احمد خاںؒ، علامہ شبلیؒ، الطاف حسین حالیؒ، ڈپٹی نذیر احمد، محمد حسین آزاد، مولوی عبدالحق ؒ، مولانا سید سلیمان ندویؒ، مظہرالدین ؒ شیر کوٹی، علامہ تاجور نجیبؒ آبادی، حفیظ جالندھری ؒ، ماہر القادریؒ، عبدالماجد دریا آبادیؒ، مناظر احسن گیلانیؒ تمام اصحاب قلم مدرسوں سے وابستہ رہے۔انہوںنے ادبی پہلوئوں کو وسعت بھی بخشی اور اردو کی لفظیات وتراکیب میں گراں قدر اضافہ بھی کیا ہے۔
ترقی پسند اور جدید ادب کے بہت سے معماروں کا تعلق بھی مدرسہ سے رہا ہے جن میں موجودہ نمایاں نام مجروح سلطان پوری، کیفی اعظمی ، جون ایلیا، فضا ابن فیضی ،رئیس جعفری، فتح نیاز پوری کے نام قابل ذکر ہیں۔
بہت سے فارغین مدرسہ آج بھی افریقی وخلیجی اور یوروپی ممالک میں اردو کی ترویج کی اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔دارالعلوم دیوبند، ندوۃ العلماء لکھنؤ، مدرسہ الاصلاح سرائے میر اور ان کے نظام ونصاب کے مطابق چلنے والے ہزاروں تعلیمی اداروں نے اردو زبان وادب کی ترویج واشاعت میں قابل قدر حصہ لیا ہے۔
دینی مدارس میں ذریعہ تعلیم اردو زبان ہے اس لیے ہر طالب علم کے لیے اردو زبان کا سیکھنا ،لکھنا پڑھنا ازحد ضروری ہوتا ہے اور یہ لاکھوں طلبہ اردو کو زندہ وتابندہ زبان بنائے ہوئے ہیں۔ اسلامی مدارس میں تدریس کا ذریعہ بھی اردو زبان ہے اور ترسیل کا ذریعہ بھی۔ بعض مدارس میں اردو ادب باقاعدہ نصاب تعلیم کا لازمی جز ہے اور وہاں طلبہ کی ادبی و تہذیبی تربیت بھی ہوتی ہے۔مدارس کی وجہ سے آسام، بنگال، اڑیسہ، کرناٹک کے دینی طلبہ بھی اردو خوب بولتے اور لکھتے پڑھتے ہیں مدارس کے فارغین صرف ایشیا وافریقہ ہی میں نہیں بلکہ امریکہ ویورپ میں بھی اردو کے چراغ کی لوفروزاں کئے ہوئے ہیں۔
علماء نے اردو زبان کو نہ صرف ذریعہ تدریس بنایا بلکہ اس کو سیکھنے اور سکھانے کو دینی فریضہ قرار دیا کیوں کہ دینی علوم وثقافت کا ایک بڑا حصہ اردو میں موجود ہے چنانچہ مولانا اشرف علی تھانوی ؒکی یہ تحریر آج بھی محفوظ ہے۔
’’اردو کی خدمت ہر مسلمان پر حسب استطاعت فرض ہے۔‘‘ (رسالہ النور رمضان1340ھ)
روزانہ ہزاروں جگہ علماء کے مواعظ وخطبات کی مجلسیں منعقد ہوتی ہیں۔ان مواعظ کی زبان بھی اردو ہوتی ہے۔ اس طرح عوام اردو زبان سے جڑی ہوئی ہے ۔مدرسہ سے وابستگان کی ایک بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوںنے تالیف وتصنیف کے ذریعہ اردو کو ہمیشہ زندہ زبان کی حیثیت سے آگے بڑھایا، اپنے اپنے دور میں علماء نے عصری اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے اردو زبان کو نئی جہتیں عطا کیں۔ زیادہ تر کتابیں اگرچہ مذہبی نقطۂ نظر سے لکھی گئی ہیں مگر ان میں نئی تراکیب اور نئے دروبست بھی نظر آتے ہیں مثالوں ،محاوروں ، کہاوتوں اور قصوں کے ذریعہ اردو کو مالا مال کیا گیا ہے۔مدارس سے نکلنے والے اردو رسالے اور میگزین بھی اردو کے تحفظ وبقا اور فروغ میں نمایاں کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ ادبی رسالے جنہیں اردو کا خادم تصور کیا جاتا ہے، ان کی تعداد اشاعت سیکڑوں یا زیادہ سے زیادہ ایک ڈیڑھ ہزار تک ہوتی ہے۔جب کہ مدارس سے نکلنے والے رسالوں کی تعداد اشاعت کئی ہزار تک ہوتی ہے۔مدارس میں طلبہ کی انجمنیں قائم ہیں جہاں طلبہ اردو زبان میں تحریر وتقریر کی مشق کرتے ہیں۔ ان کے مقابلاتی پروگرام ہوتے ہیں۔ طلبہ ایک دوسرے سے بڑھ کر زیادہ شگفتہ اور شستہ زبان کا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح اردو کی صیانت وحفاظت کا ایک اہم کام انجام پارہا ہے۔ ان انجمنوں کے اپنے ’’وال میگزین‘‘ بھی ہوتے ہیں جن میں طلبہ اپنے مضامین شائع کراتے ہیں۔کسی زبان کی بقا اس کے رسم الخط پر منحصر ہوتی ہے۔ مدارس میں طلبہ کو عموماً اردوخوش خطی سکھائی جاتی رہی ہے۔ خوشخطی کی روایت اب تک چلی آرہی ہے۔ تمام اخبارات ورسائل کو کاتب مدارس ہی سے دستیاب ہوتے رہے ہیں۔ آج کمپیوٹر کا دور ہے اور کتابت کا دور ختم ہورہا ہے مگر آپ کو اردوComposingکے لیے عموماً مدارس کے طلبہ ہی ملیں گے۔اگر آپ کالجز اور یونیورسٹیوں کے قیام کی کوششوں کا جائزہ لیں تو ان میں مدارس کے فیض یافتہ حضرات کا سراغ ملے گا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام میں سرسید احمد خاںؒ اور ان کے ساتھیوں کی نشوونما بھی صحن مدرسہ ہی میں ہوئی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے قیام کی ضرورت ومنصوبہ کو دارالعلوم دیوبند کے مایہ ناز سپوت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ ہی نے پیش کیا تھا۔
کابل میں پہلی یونیورسٹی مولانا عبیداللہ سندھی کی کوششوں سے قائم ہوئی تھی، جامع ازہر مصر اور مدینہ یونیورسٹی کا قیام بھی علماء کا مرہونِ منت ہے۔حال ہی میں لکھنؤ انٹرگرل یونیورسٹی ندوۃ العلماء کے مہتمم اور مشہور عالم دین مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوہ کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
مدارس سے فارغ علماء نے مختلف اکیڈمیاں اور تصنیفی ادارے قائم کئے۔ ندوۃ المصنفین دہلی، دارالمصنفین اعظم گڑھ،(جو اب شبلی اکیڈمی ہے) اور ادارہ تحقیق وتصنیف علی گڑھ دنیا کے نامور ادارے ہیں جن کی تاریخی و ادبی اور تحقیقی کتابیں سند کا درجہ رکھتی ہیں۔ان اداروں کی کتابیں اردو زبان میں شائع ہوتی ہیں۔
ملک بھر میں ہزاروں کتب خانے ہیں ،جہاں زیادہ تر کتابوں کی زبان اردو ہے۔صرف دیوبند میں درجنو ںمکتبے ہیں جن کے کئی کئی ٹائٹل ہیں صرف مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تصانیف کی تعداد ایک ہزار سے زائد ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اور مولانا مودودیؒ کی کتابوں نے پوری دنیا کو متاثر کیاہے۔
مذکورہ بالا چندنکات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اردو کے فروغ وارتقاء اور اس کے دوام وتسلسل میں مدارس دینیہ کا ناقابلِ فراموش رول ہے اور یہ بات بڑے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جب تک مدارس قائم ودائم ہیں اردو زبان بھی زندہ وسلامت ہے۔
البتہ بعض مشاکل ومسائل بھی ہیں جنہیں ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔
مدارس اسلامیہ کے طلبہ میں احساس کمتری پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے بہت سے طلبہ کی خوابیدہ صلاحیتیں مرجھا کررہ جاتی ہیں۔ مدارس کو سازگار حالات اور شگفتہ ماحول درکار ہے۔
مدارس میںجدید تعلیمی وسائل کا عموماً فقدان ہے جس کی وجہ سے طویل عرصہ تک بھی وہ معیار حاصل نہیں ہوپاتا جو قلیل عرصہ میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔ضرورت ہے قدیم صالح روایات کے ساتھ مفید ونافع جدید وسائل وسہولیات سے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا جائے اور اسے خلافِ شریعت نہ سمجھا جائے۔ تمام جدید انکشافات ووسائل کارگاہِ خداوندی میں غوروفکر کا نتیجہ ہیں ان کاغلط استعمال انہیں ناجائز بناتا ہے اور ان کا صحیح استعمال انہیں جائز بناتا ہے۔
اس سلسلہ میں دوتجاویز پیش ہیں۔
-1مدار س میں اردو شعبہ جات کا ایک فیڈریشن تشکیل دیا جائے جو مختلف ذرائع اختیار کرتے ہوئے مدارس میں اردو زبان وادب کے فروغ وبقاء ،پیش آمدہ مسائل کے حل کے لیے منصوبہ بندی بھی کرے اور اس کے نفاذ کے فرائض بھی انجام دے۔
-2اردو اساتذہ کی تربیت اور فنی مہارت کے لیے ٹریننگ کیمپ منعقد کئے جائیں جن میں تدریس کے اصول اور گربتانے کے ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت سے واقف کرایاجائے اور جدید رجحانات ووسائل سے واقفیت بہم پہنچائی جائے نیز ان کی عملی تربیت کا بھی اہتمام کیا جائے۔حقیقت یہ ہے کہ مدارس اور اردو کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اردو کا نامیاتی ارتقاء اور تسلسل مدارس سے وابستہ ہے اور مدارس کی زندگی اردو پر منحصر ہے۔
[email protected]