جہیز، ایک لعنت

0

ابوشحمہ انصاری

دوپہر کا وقت تھا، سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ دور کہیں سے ڈھول بجنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ شاید محلے میں کسی کی شادی تھی لیکن صائقہ تو اپنی ہی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی کہ اس کی شادی ابھی تک کیوں نہیں ہو رہی۔ صائقہ ایک انتہائی غریب باپ کی معصوم سی بیٹی تھی جس کا باپ صبح سے رات گئے تک مزدوری کرتا۔ وہ پوری کوشش کرتا کہ اپنی بیٹی کے جہیز کے لیے کچھ کر سکے لیکن وہ اتنا ہی کما پاتا تھا کہ اہل خانہ مشکل سے دو وقت کا کھانا کھا پاتے تھے۔ ہو بھی تو بوڑھا گیا تھا، کام بھی کم ہی ملتا تھا۔ اس کی غیرت یہ بھی گوارا نہ کرتی تھی کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے۔
صائقہ نہ جانے کب سے یہی سوچ رہی تھی کہ کیا غریب ہونا اتنا برا ہے کہ لوگ غریب کی بیٹی کو اپنی بہو بنانا ہی پسند نہیں کرتے؟ ہاں! اسے یاد تھا کہ جب لڑکے والے اس دیکھنے آئے تھے اور اتنی خاطر تواضع کے بعد یہ کہہ کر ٹھکرا گئے تھے کہ آپ تو رہتے ہی کرائے کے گھر میں ہیں، اپنی چھت تک نہیں ہے سر پر تو اپنی بیٹی کو جہیز میں کیا دیں گے۔ تب اس کے ماں باپ کتنا روئے تھے کہ وہ اپنی بیٹی کے لیے کچھ بھی نہیں کر پا رہے۔
ہاں! صائقہ کو یہ بھی یاد تھا کہ دوسری دفعہ بھی جب کوئی اور لڑکے والے اسے دیکھنے آئے تھے تو ایک گاڑی اور15 تولہ سونا کا مطالبہ کیا تھا جہیز کے نام پر۔ جب والد صاحب نے عرض کیا کہ وہ نہیں دے سکتے تو یہ کہہ کر چلے گئے کہ اپنی بیٹی کو ہی تو جہیز میں دینا ہے، کون سا ہمیں دینا ہے۔ اپنی بیٹی کو اتنا بھی نہیں دے سکتے تو ہم نے رشتہ ہی نہیں کرنا۔
دوسری دفعہ بھی ٹھکرائے جانے پر صائقہ بالکل ٹوٹ گئی تھی۔ نہ جانے کتنی دیر تک آنسو بہاتی رہی تھی۔ پڑھ بھی تو نہ پائی تھی کہ آج خود ہی کوئی نوکری کر لیتی، کیونکہ پڑھائی کے لیے بھی تو پیسے ہی چاہئیں۔ پیسے کے بغیر تو کوئی علم دینا بھی گوارا نہیں کرتا۔ بیچارا غریب بوڑھا باپ ہر دفعہ خود کو شرمندہ محسوس کرتا، ہر دفعہ ایک الگ اذیت سے گزرتا تھا لیکن وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔ صائقہ جانتی تھی کہ اس کا باپ اس کے لیے بہت کچھ کرنا چاہتا ہے لیکن وہ بے بس ہے۔
آنسو ٹپ ٹپ صائقہ کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ دل بار بار یہی خواہش کر رہا تھا کہ کاش! وہ غریب گھرانے میں پیدا نہ ہوئی ہوتی لیکن ایک طرف اس کے دل میں امیروں کے لیے نفرت بھی پیدا ہو گئی تھی۔ آخر ہمارے معاشرے کے امیروں نے بیٹیوں کو جہیز میں زیادہ زیادہ دے کر جہیز کو ایک رسم ہی تو بنا دیا ہے۔ لوگوں کو شادی کر کے لڑکی دو نہ دو، انہیں جہیز ضرور چاہیے ہوتا ہے۔ کیا غریب کو معاشرے میں جینے کا کوئی حق نہیں؟ کب تک غریب کی بیٹی کنواری بیٹھی رہے گی؟
صائقہ ابھی انہیں سوچوں میں گم تھی کہ اچانک اسے خیال آیا کہ آج بھی تو لڑکے والے اسے دیکھنے آ رہے ہیں۔ اسے یقین تھا کہ لڑکے والے اس دفعہ بھی آئیں گے، کھائیں گے، پئیں گے، جہیز کا مطالبہ کریں گے اور آخر میں یہ کہہ کر چلے جائیں گے کہ وہ تو غریب ہیں ، جہیز تو دے ہی نہیں سکتے۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اٹھی، آنسو پونچھے، ہاتھ منہ دھویا اور الماری کھولی۔ کپڑے تو اچھے اس کے پاس نہ تھے لیکن جو تھے، انہیں میں سے کچھ بہتر والا لباس زیب تن کیا اور مہمانوں کے آنے کا انتظار کرنے لگی۔
کچھ ہی دیر میں مہمان آ گئے۔ ان سب سے مل کر صائقہ چائے بنانے چلی گئی۔ چائے بناتے ہوئے بھی وہ یہی سوچ رہی تھی کہ اس دفعہ بھی اسے جہیز کی وجہ سے ٹھکرا دیا جائے گا۔
جب صائقہ مہمانوں کو چائے پیش کر رہی تھی تو اس کے باپ نے لڑکے والوں کو بتایا کہ وہ اسے جہیز نہیں دے سکتے۔ تب بھی صائقہ کے ذہن میں یہی تھا کہ ابھی یہ لوگ چند باتیں سنائیں گے اور اسے ٹھکرا کر چلے جائیں گے لیکن صائقہ کی سوچ کے برعکس لڑکے والوں نے اسے قبول کر لیا، یہ کہہ کر کہ انہیں صرف لڑکی چاہیے، جہیز نہیں۔
صائقہ نے اللہ کا شکر ادا کیا اور اس کے ماں باپ نے بھی خوشی خوشی بنا سوچے سمجھے فوراً حامی بھر لی۔
ایک ہفتے بعد ہی سادگی سے نکاح اور رخصتی کا فیصلہ کیا گیا۔
صائقہ کے ماں باپ بھی ایک ہفتے بعد ہی رخصتی کی بات فوراً مان گئے۔ ان کے لیے یہی بہت تھا کہ کوئی ان کی بیٹی کو بنا جہیز کے قبول کر رہا ہے۔ ان کی خوشی کی تو انتہا ہی نہ تھی۔
ایک ہفتہ کیسے گزرا، پتہ ہی نہ چلا اور صائقہ سادہ سے ہی لباس میں انتہائی سادگی کے ساتھ رخصت ہو کر سسرال آ گئی۔
صائقہ نے اپنی شادی کے سلسلے میں بہت سے خواب دیکھے تھے لیکن یہاں آ کر اسے پتہ چلا کہ اس کا شوہر تو شرابی ہے اور سسرال والوں نے بھی اسے بہو نہیں بلکہ ملازمہ سمجھ کر بیاہا ہے۔ اس کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے تھے۔ سسرال والے خود کرسیوں پر بیٹھ کر کھاتے اور اسے نیچے بیٹھ کر کھانے کو کہتے۔ اگر وہ غلطی سے کبھی کرسی پر بیٹھ جاتی تو کہا جاتا کہ یہ تم اپنے گھر سے جہیز میں نہیں لائی ہو۔ ایسے ہی بات بات پر اسے جہیز کا طعنہ دیا جاتا۔ شوہر بھی روزانہ آ کر پیسوں کا تقاضہ کرتا تاکہ وہ اپنی شراب، جوئے کی لت جاری رکھ سکے لیکن صائقہ تو پیسے دے نہ سکتی تھی تو وہ اسے روز مارتا پیٹتا۔ غرضیکہ صائقہ کی زندگی سسرال آ کر عذاب بن گئی تھی۔ اس نے تو شادی کے بعد کی زندگی کے بارے میں بہت سے اونچے خواب دیکھ رکھے تھے۔ کتنے ہی ارمان جڑے تھے اس کے اس سب سے لیکن سب کچھ الٹا ہو گیا تھا۔ بیچاری صبر کے گھونٹ پیتے پیتے تھک چکی تھی۔
صائقہ جیسے تیسے کر کے حالات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی تھی۔ یہی سوچتی رہتی کہ کاش! وہ غریب گھر میں پیدا نہ ہوتی تو اسے بھی جہیز کے ساتھ رخصت کیا جاتا، اس کی بھی سسرال میں عزت ہوتی اور وہ بھی ہنسی خوشی زندگی گزار سکتی لیکن وہ تو غریب کی بیٹی تھی اور غریب کو ہمارے معاشرے میں جینے ہی کون دیتا ہے۔ صائقہ کو بھی اس سب سے فرار کی بس ایک ہی راہ نظر آئی اور اس نے وہی راہ اپنا لی۔ ہاں! اس نے خودکشی کر لی مگر اس نے ماں، باپ کے بارے میں کیوں نہ سوچا، اس نے خودکشی کیوں کی، وہ جدوجہد اور حالات سے نمٹنے کے کوئی اور راستے بھی تو تلاش کر سکتی تھی؟ یہ سوال اس کی تدفین کے بعد بھی جواب طلب تھے۔n
Saadatganj,Distt.Barabanki-225206

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS