اس ’ٹریلر‘ کی فلم نہ ہو

0

چین میں موقع سرمائی اولمپک کھیلوں کا ہے، لیکن ماحول بنا ہے سیاسی گرماگرمی کا۔ جمعرات کو افتتاحی تقریب میں صرف پاکستان کے وزیراعظم عمران خان، روسی صدر ولادیمیرپوتن اور سعودی عرب کے کراؤن پرنس محمد بن سلمان شامل ہوئے۔ انسانی حقوق سے وابستہ تنازعات کے درمیان امریکہ، برطانیہ اور کناڈا کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، لتھوآنیا، کوسووو، بلجیم، ڈنمارک اور ایسٹونیا نے ان کھیلوں کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ یعنی ان ممالک کے ایتھلیٹ تو کھیلوں میں حصہ لیں گے، لیکن ان کا کوئی وزیر یا افسر اس انعقاد میں شامل نہیں ہوگا۔
ہندوستان کا رُخ بھی ایسا ہی رہا ہے، حالاں کہ اس کی وجہ بالکل مختلف ہے۔ دراصل چین نے جان بوجھ کر ایک ایسے چینی فوجی کو اولمپک مشعل بردار کے طور پر منتخب کیا جو دو سال قبل گلوان کے واقعہ میں شامل تھا۔ اس کے احتجاج میں ہندوستان نے سفارتی سطح پر اولمپک کا بائیکاٹ کیا ہے،حالاں کہ اس میں حصہ لینے والا ہمارا اکلوتا کھلاڑی طے پروگرام کے مطابق اسکینگ مقابلہ میں حصہ لے گا۔
لیکن اگر کوئی یہ سمجھ رہا ہے کہ اولمپک ختم ہونے کے ساتھ یہ تنازع بھی ختم ہوجائے گا، تو شاید وقت کے پیمانہ پر یہ اندازہ غلط ثابت ہو۔ اس بات کا پورا خدشہ ہے کہ یہ بات شروع ہی بہت دور تک جانے کے لیے ہوئی ہو۔ تنازع کی بنیاد بنی ہے جون، 2020کی گلوان جدوجہد جس میں ہمارے ایک کرنل کے ساتھ ہی تقریباً 20فوجیوں کو شہادت نصیب ہوئی تھی۔ ایک آسٹریلیائی اخبار کے انکشاف کے مطابق چین کو بھی اس جدوجہد میں اپنے کم سے کم 40فوجیوں کی جان سے ہاتھ دھوناپڑا۔ اس سے گلوان گزشتہ چار دہائیوں میں دونوں ممالک کے مابین بڑی خونیں ’جنگ‘ کا گواہ بنا۔
مستقبل اس تاریخ کو بھی بدلنے کا اشارہ کررہا ہے۔ فوجی سربراہ جنرل ایم ایم نرونے کا حال میں ہی دیا گیا بیان قابل غور ہے۔ فوجی سربراہ کا کہنا ہے کہ ہندوستان اپنی سرحدوں پر مستقبل کی جنگ کاٹریلر دیکھ رہا ہے۔ حالاں کہ انہوں نے کسی ملک کا نام تو نہیں لیا ہے، لیکن جن سرحدوں کا ذکر کیا ہے وہ چین اور پاکستان سے ملنے والی سرحدیں ہیں۔ موضوع کی رازداری اور خطاب کرنے والے کے طور پر خود فوجی سربراہ کے ہونے کے سبب اس خطاب کی حساسیت انتہائی اہم ہے۔ اس خطاب میں فوجی سربراہ نے ہندوستان کی تیاریوں کے ساتھ ہی ’دشمن‘ کی سازشوں کی ایک تصویر بھی کھینچی ہے۔ جنرل کے مطابق کل جنگ کا میدان کیسا ہوگا، اس کا اندازہ ان ٹریلروں سے کرسکتے ہیں۔ ٹریلر کا مطلب ڈوکلام، گلوان، کشمیر؟ ساتھ ہی جنرل نے یہ بھی کہا ہے کہ ہمارے مخالفین اپنے اسٹرٹیجک اہداف کو حاصل کرنے کی اپنی کوششوں کو جاری رکھیں گے جس میں ’موجودہ صورتحال‘ کو بدلنے کے لیے شاطر طریقہ سے سیدھے سیدھے جنگ سے بچتے ہوئے جارحانہ اور موقع پرستانہ کارروائی کرسکتے ہیں۔
فوجی سربراہ کے اس الرٹ سے یہی بات سمجھ میں آتی ہے کہ آنے والے دنوں میں کشمیر سے لے کر لداخ اور اروناچل تک ہماری سرحدیں مسلسل جدوجہد کا میدان بنی رہ سکتی ہیں۔ بڑا سوال اس بات کا ہے کہ یہ جنگ ایک محاذ پر ہوگی یا دوہرے محاذ پر لڑی جائے گی؟ میرے اس سوال کی بنیاد دراصل حکومت پاکستان کے ایک لیک ہوئے سرکاری نوٹ سے نکلی معلومات ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لداخ بحران کے دوران پاکستان نے چینی فوج کے دباؤ کے باوجود ضبط کیا اور تعطل کا فائدہ اٹھانے کے لیے کشمیر میں کسی بھی طرح کے دخل سے گریز کیا۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے ہندوستانی فوجی قیادت نے بھی تسلیم کیا ہے اور جس نے گزشتہ سال اسی وقت ایل او سی پر سیزفائر کے لیے دوستانہ ماحول بنانے میں بڑا تعاون دیا۔
دو محاذ پر فوجی خطرے کی یہ تھیوری کوئی نئی بات نہیں ہے۔ تاریخ کو پلٹ کر دیکھیں تو ہمارے سیاسی اور دفاعی نظام نے سال2006سے ہی اس سمت میںکام شروع کردیا تھا۔ اس وقت کی یوپی اے حکومت نے چینی فوجیوں کو روکنے کے لیے سرحد کے بنیادی ڈھانچہ کو غیرترقی یافتہ رکھنے کی پرانی روایت کو پلٹ دیا تھا۔ یہ نسبتاً پرامن مشرقی سرحدوں کے باوجود مستقبل کے چیلنجز کو لے کر ایک پیشگی تیاری تھی۔ اس کے بعد سال 2008میں ممبئی پر پاکستان اسپانسرڈ حملے کے بعد سے ہی دونوں محاذ پر ایک ساتھ 30دنوں کی شدید جنگ اور 60دنوں کی عام جنگ کی تیاری پر کام شروع کردیا گیا تھا۔ یوپی اے کے بعد آئی این ڈی اے حکومت اور اس دور کے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی لگن اور عزم سے اس سمت میں کافی ترقی ہوئی ہے۔ جولائی 2018میں اس وقت کے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے دو محاذ کی تھیوری کو حقیقت بتاتے ہوئے ملک کو اس سے نمٹنے کے لیے ہماری بہتر صلاحیتوں کا بھروسہ دلایا تھا۔ جنوری، 2020 میں خود موجودہ فوجی سربراہ نے بھی عہدہ سنبھالنے کے بعد اس دو محاذ کی تھیوری کو دہرایا تھا۔
تو دو محاذ کا خطرہ صرف امکان نہیں، بلکہ ایک حقیقت بن کر ہماری سرحدوں پر دستک دے رہا ہے۔ اس لیے لداخ بحران کے واقعات کے باوجود یہ خدشہ برقرار ہے کہ مستقبل میں چین سے کسی بھی طرح کی مسلح جدوجہد میں ہندوستان کو دو محاذ کی لڑائی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جس میں دوسرے محاذ پر پاکستان اپنی خواہش سے یا پھر چین کے دباؤ میں کھڑا نظر آئے گا۔ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ہمیں حیران زدہ کرتے ہوئے کہیں چین اور پاکستان شمال اور مغرب دونوں سرحدوں پر ایک ساتھ اور مل کر حملہ نہ بول دیں۔ ایک دوسرا خدشہ یہ بھی ہے کہ ہندوستان-پاکستان کے مابین روایتی جنگ میں چین اسٹرٹیجک موقع پرستی کے تحت پاکستان میں سیپیک جیسے اپنے پروجیکٹ اور وہاں کام کررہے چینی شہریوں کا حوالہ دے کر ہندوستان سے غیرروایتی طریقہ کی ایک جدوجہد شروع کردے جس سے ہماری سیکورٹی فورسز دو محاذ پر تقسیم ہوجائے۔ اس سے برعکس ایک صورت حال یہ بھی ہوسکتی ہے کہ شمالی سرحد پر ہندوستان کو جدوجہد میں الجھاکر چین مغربی سرحد پر پاکستان کے لیے گھس پیٹھ کی زمین تیار کرنے کا کام کرے۔ اس امکان کو دو حقائق سے مضبوطی مل سکتی ہے۔ ایک تو یہ چین کو موقع پرست اور جغرافیائی-سیاسی طور پر زیادہ جارحانہ شبیہ بنانے سے بچا سکتا ہے۔ دوسرا یہ کہ پاکستان کے برعکس چین اپنے فوجی وسائل کی وجہ سے ہندوستان سے سیدھی لڑائی کے لیے زیادہ بہتر طریقہ سے تیار نظر آتا ہے۔
فوجی سربراہ کے بیان نے ایک اور خدشہ کے دروازے کھولے ہیں اور یہ دو محاذ کی جدوجہد سے بھی آگے کی بات نظر آتی ہے۔ دراصل ہندوستان کے سامنے خطرہ دو دشمنوں کا نہیں، بلکہ ایک متحدہ دشمن کا ہے۔ ایل اے سی پر گدھ کی نظر رکھے چینی فوجی سیپیک جیسے پروجیکٹ کی سیکورٹی کے لیے ایل او سی کے پار بھی تعینات ہیں۔ اسی طرح چینی فوج نے بھی کئی پاکستانی افسران کو مشرقی سرحد پر تعینات پی ایل اے کی فوج میں شامل کیا ہے۔
تو مستقبل کے ٹریلر کے لیے ہندوستان کی حکمت عملی کیاہونے جارہی ہے؟ انسانیت کے لیے سب سے بہتر متبادل تو یہی نظر آتا ہے کہ یہ ایسا ٹریلر ثابت ہو، جس کی فلم بنانے کا ارادہ کبھی پروان ہی نہ چڑھ پائے۔ اس کے باوجود نوبت کسی جدوجہد کی آتی ہے تو اس کے لیے حکمت عملی کا خاکہ بھی تیار کیا جاچکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہمارے فوجی نظام نے اس کی طرف کئی اشارے کیے ہیں۔ اس موضوع پر تیاری کا لب لباب یہ نظر آتا ہے کہ ہندوستانی فوج ایک مخالف کے خلاف اپنے علاقہ کی حفاظت کرتے ہوئے زیادہ جارحانہ رُخ اپنائے گی اور دوسرے مخالف کے خلاف نقصان ٹالنے کے لیے محدود فوجی آپریشن کرے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آپریشن کے طریقے ہمیں مخالف کی پہچان کے لیے کافی ’اسلحہ‘ مہیا کروا دیتے ہیں۔
جدوجہد کے میدان سے ہٹ کر دوست ممالک سے بات چیت کے دروازے کھولے رکھنے اور سرحدوں پر انفرااسٹرکچر کی ہی طرح مضبوط معیشت کی اہمیت کو بھی مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ حالاںکہ ایٹمی طاقت والے ممالک کے درمیان کسی روایتی جنگ کے امکانات مسلسل محدود ہوئے ہیں اور خود فوجی سربراہ جنرل نرونے کا بھی ماننا ہے کہ امن کو یقینی بنانے کے لیے کسی بھی صورت حال کے لیے تیار رہنا ہوگا۔ ایسے میں خطہ اور دنیا میں بڑے پیمانہ پر امن کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط ہندوستانی فوج سب سے آگے ہے۔
(کالم نگار سہارا نیوز نیٹ ورک کے
سی ای او اور ایڈیٹر اِن چیف ہیں)