کیا وزیر اعظم کو یہ زیب دیتا ہے؟

0

عبدالماجد نظامی

ہم سب ہندوستانی اس حقیقت سے واقف ہیں کہ الیکشن کے موسم میں جو سیاسی ریلیاں ہوتی ہیں، ان میں ہمارے لیڈران ووٹروں کو رجھانے اور ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے تمام حدوں کو پار کر جاتے ہیں اور ایسی باتیں تک کہہ جاتے ہیں جن کو سن کر عام انسان تک دنگ رہ جاتا ہے۔ حالانکہ الیکشن کمیشن کی ایک اہم ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کا دھیان رکھے کہ کوئی پارٹی یا لیڈر اخلاقی اصول و ضوابط کی خلاف ورزی نہ کرے لیکن شاید اب ہندوستانی سیاست کی سطح میں جو گراوٹ آئی ہے، اس کا شکار الیکشن کمیشن بھی ہوا ہے۔ جو وقار الیکشن کمیشن کو ٹی این سیشن کی قیادت میں حاصل ہوا تھا وہ اب محض تاریخ کا بھولا بسرا قصہ بن کر رہ گیا ہے۔ شاید اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ2014کے بعد ہندوستانی سیاست میں جس طرح سے دشنام طرازی کا آغاز ہوا ہے اور نہرو جی ہمیشہ جس طرح سے بات بن بات پر وزیراعظم نریندر مودی کے نشانہ پر رہے ہیں، اس سے ایک عام کلچر تیار ہوگیا ہے کہ سیاسی ماحول کو گالم گلوچ اور بے بنیاد الزامات سے گرم کر دیا جائے اور ایسے بیانات سے جمہوریت پر جو مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں ان کی پروا نہ کی جائے۔ ایسے کلچر کو پروان چڑھانے میں خود ملک کے وزیراعظم جناب نریندر مودی جی نے بڑا اہم رول ادا کیا ہے۔ ملک کے عوام کے سامنے ان کے وہ سارے ناشائستہ بیانات موجود ہیں جو انہوں نے اپنے سیاسی حریفوں کے سلسلہ میں دیے ہیں۔ ان کی تلخ کلامی اور غیر مہذب القاب سے نہ تو وہ محفوظ رہے ہیں جو اس دنیا سے جا چکے ہیںاور نہ ہی وہ محفوظ ہیں جو زندہ ہیں اور سیاست میں سرگرم ہیں۔ سابق وزرائے اعظم میں نہرو سے لے کر منموہن سنگھ تک اور دیگر اپوزیشن لیڈروں میں ممتابنرجی سے لے کر اکھلیش یادو تک سب کو انہوں نے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ حالیہ واقعہ کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی کی اس ریلی سے ہے جو یوپی کے ضلع ہردوئی میں منعقد ہوئی تھی۔ وہاں انتخابی جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے اپنے حریف اکھلیش یادو کی سماج وادی پارٹی کے انتخابی نشان سائیکل کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے ایک عجیب بات کہی جس کا وہم و گمان بھی کوئی عام انسان تک نہیں کرسکتا تھا۔ انہوں نے سائیکل کا رشتہ سیدھے طور پر دہشت گردی سے جوڑ دیا۔ اس واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ جولائی 2008 میں ایک دہشت گردانہ حملہ گجرات کے شہر احمدآباد میں وقوع پذیر ہوا تھا جس میں محض ستر منٹوں کے دوران22دھماکے ہوئے تھے۔ اس دہشت گردانہ حملہ میں 56 لوگوں کی موت واقع ہوگئی تھی جبکہ تقریباً دو سو لوگ زخمی ہوئے تھے۔ دھماکہ خیز مواد بس، کار اور کھڑی سائیکلوں پر مختلف مقامات پر رکھے گئے تھے۔ ان دھماکوں کے لیے بنیادی طور سے دو تنظیموں یعنی ’’انڈین مجاہدین‘‘ اور ’’سیمی‘‘سے وابستہ افراد کو ذمہ دار مانا گیا تھا اور 78 لوگوں کی گرفتاری عمل میں آئی تھی۔ ان میں سے ایک شخص نے سرکاری گواہ بننا قبول کر لیا تھا لہٰذا اسے معافی مل گئی جبکہ77افراد پر مقدمہ چلایا گیا۔ مقدمہ کی ساری کارروائیاں ستمبر2021تک مکمل کر لی گئی تھیں اور اس کا آخری فیصلہ18فروری2022 کو سنایا گیا۔ یہ مقدمہ احمدآباد کے بھاڈرا میں واقع سیشن کورٹ میں جاری تھا۔ اس اسپیشل کورٹ نے77میں سے28 افراد کو بری قرار دیا جبکہ38کو سزائے موت دی گئی اور ان میں سے گیارہ افراد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ شاید راجیو گاندھی کی شہادت کے ذمہ دار26قاتلوں کے بعد ملک میں پہلا واقعہ ہوگا کہ اتنی بڑی تعداد کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ احمدآباد بم دھماکہ کے ملزمین پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’’نریندر مودی کی قیادت والی سرکار کے دوران2002میں گجرات کے اندر جو مسلمانوں کا قتل عام ہوا تھا، اس کا انتقام لینے کے لیے انہوں نے یہ دھماکے کیے تھے۔‘‘ احمد آباد کے اسپیشل کورٹ کے اس فیصلہ کو بھارتیہ جنتا پارٹی نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیزی کے لیے خاص طور سے استعمال کیا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے آفیشیل ہینڈل سے ایک کارٹون ٹوئٹر پر شیئر کیا گیا جس میں مسلمانوں کو اجتماعی طور پر پھانسی کے پھندہ سے لٹکانے کا منظر پیش کیا گیا اور پوری مسلم اقلیت کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑ کر انہیں کٹہرہ میں کھڑا کرنے کی مذموم کوشش کی گئی۔ اس کارٹون کے سماج پر جو سنگین اور منفی اثرات مرتب ہوں گے، ان کو پیش نظر رکھتے ہوئے ٹوئٹر نے خود ہی اس کارٹون کو ہٹا دیا۔
ہردوئی کے انتخابی جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے جب سائیکل کا رشتہ دہشت گردی سے جوڑ کر سماج وادی پارٹی کو نشانہ بنایا تو دراصل اسی اسپیشل کورٹ کے فیصلہ کو بنیاد بناکر اپنی بات کہہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ’’سائیکل پر بم رکھے ہوئے تھے‘‘ اور سائیکل پر مزید زور ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’میں حیران ہوں کہ سائیکل کو کیوں انہوں نے پسند کیا؟‘‘ اس جملہ سے وہ صرف سماج وادی پارٹی کے انتخابی نشان سائیکل کو ہی نشانہ نہیں بنا رہے تھے بلکہ اس کے ساتھ ہی یوپی کے مسلمانوں کو بھی دہشت گردی سے جوڑ کر انہیں مزید بدنام کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جب وزیراعظم نے اپنے مقام و منصب کا لحاظ کیے بغیر سنگھ کے ایک پرچارک کا کردار نبھاتے ہوئے فرقہ وارانہ تفرقہ کے ماحول کو بڑھاوا دیا ہے۔ 2017 کے یوپی اسمبلی انتخابات میں بھی انہوں نے قبرستان اور شمشان، رمضان اور دیوالی کے ذریعہ عوام کو مذہبی بنیاد پر بانٹنے کا کام کیا تھا۔ ان کے ایسے بیانات سے یہ صاف اشارہ ملتا ہے کہ ہری دوار کے ہندو دھرم سنسد سے مسلمانوں کے قتل عام کا جو اعلان ہندو دھرم گروؤں نے کیا تھا اس کو خاموش حمایت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اعلیٰ لیڈران سے بھی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابھی تک وزیراعظم یا وزیرداخلہ یا پھر دیگر وزراء حکومت نے اس واقعہ کی مذمت نہیں کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس قسم کے بیانات وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز شخص کو زیب دیتے ہیں؟ کیا سیاسی مقصد کو حاصل کرنے سے پہلے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ ان کے الفاظ بہت دور رس اثرات رکھتے ہیں اور ان کے گہرے اثرات مرتب ہوں گے؟ جب سائیکل کا رشتہ وہ دہشت گردی سے جوڑ رہے تھے تو کیا انہیں یہ غور نہیں کرنا چاہیے تھا کہ اسی سائیکل کا استعمال غریب، مزدور، کسان، ٹیچر اور ہر وہ طبقہ کرتا ہے جو سماج کے حاشیہ پر جینے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے؟ تو کیا وہ سب صرف اس لیے قابل لعنت و ملامت قرار پائیں گے کہ انہوں نے ’’سائیکل کو پسند‘‘ کیا؟ بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار جن کے ساتھ مل کر بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کر رہی ہے، انہوں نے لڑکیوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنے کے لیے سائیکل دی تھی اور اس کا اچھا نتیجہ نکلا تو کیا وہ بھی دہشت گردی کی ’’علامت‘‘ کے ساتھ مربوط مانے جائیں گے؟ یہ بہت سنجیدہ سوالات ہیں۔ حزب مخالف کی پالیسیوں کو نشانہ بناتے وقت لیڈران کو یہ دھیان رکھنا چاہیے کہ اس سطح تک اترنا دراصل جمہوریت کے ستون کو متزلزل کرنے کے مترادف ہوتا ہے کیونکہ مضبوط جمہوریت کے لیے مضبوط اپوزیشن کا وجود ایک لازمی عنصر ہے۔ لیڈران کو اپنے بیانات میں ان پہلوؤں پر دھیان ضرور رکھنا چاہیے اور بطور وزیراعظم کوئی بیان دیتے وقت تو الفاظ کے ٹمپریچر کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
(مضمون نگار راشٹریہ سہارا اردو کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]