مذہبی جنونیت کے نقصانات: اسباب اور تدارک

0

ڈاکٹر شجاعت علی قادری

سیاسیات کی زبان میں مذہب کی بنیاد پر صرف 6 ممالک موجود ہیں جن میں سے 5 اسلامی ہیں۔ ایک عیسائی ملک ویٹیکن ہے۔لیکن سب جانتے ہیں کہ ایک ہزار سے کم آبادی والے ملک کا سارا وجود اٹلی پر منحصر ہے۔ افغانستان، ایران، سعودی عرب، موریطانیہ اور یمن جیسے ان پانچ اسلامی ممالک میں سعودی عرب کو چھوڑ کر حالات کو کہیں بھی بہتر نہیں کہا جا سکتا۔ سعودی عرب اپنے قدرتی وسائل اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ یعنی اسلامی عقیدے کے مراکز حج پر اقتصادی انحصار کی وجہ سے عالمی انڈیکس میں بھی نمبر پر ہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف مذہب پر مبنی ریاست بلکہ مذہب کی سیاست نے ان ممالک کی ترقی اور خوشحالی کو روک دیا ہے اگر چنہ یہاں پر جمہوریت ہو، لیکن ان کا طرز عمل جنونی ہے۔

دنیا میں انسانی معیار زندگی، خوشحالی، ترقی اور شہری ریاست کے تعلقات کی بنیاد پر ‘Ligatum Prosperity Index 2021’ کی رپورٹ کے مطابق افغانستان 167 ممالک میں 163 ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح یمن 165، موریطانیہ 153، ایران 123 ویں نمبر پر ہے۔ جیسا کہ ہم نے کہا، سعودی عرب 75ویں نمبر پر ہے کیونکہ اس کی معاشی حالت بہتر ہے۔ اس رپورٹ میں بھارت 101، پاکستان 138، بنگلہ دیش 126 ویں نمبر پر ہے۔

اسی طرح ورلڈ اکنامک فورم یعنی ڈبلیو ای ایف کی رسک رپورٹ 2022 نے سماجی تعلقات کے خاتمے کو دنیا کو درپیش 10 بڑے خطرات میں چوتھا سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔ یہ تنظیم جسے ہمیشہ کاروبار اور منافع کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے، اس کا یہ بھی ماننا ہے کہ سماجی تعلقات میں گراوٹ دنیا کے استحکام کے لیے چوتھا بڑا خطرہ ہے۔

آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن نے 2017 میں مایا میرچندانی کی ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی۔ اس کا حوالہ کیرالہ کے ایک نوجوان اشفاق مجید کا ہے جو 2016 میں افغانستان ہجرت کر گیا تھا۔ اس نے اپنے گھر والوں کو بھی ‘اسلام کے گھر’ آنے کو کہا۔ تاہم اس کے اہل خانہ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی کو بتایا کہ اشفاق کہاں ہے۔ نوجوان کے گھر والے اور جاننے والے حیران رہ گئے کہ وہ کب اس قدر جنونی ہو گیا، انہیں خبر تک نہ ہوئی۔ یہ سائبر ریڈیکلائزیشن کے عمل کا حصہ ہے جو اندر سے مذہبی جنون اور انتقام کو ہوا دیتا ہے۔ اسی طرح کی تعصب نے ادے پور کے نوجوانوں میں بھی اپنا راستہ تلاش کیا ہوگا جس نے پچھلے مہینے کنہیا لال نامی درزی کو قتل کر دیا تھا۔ انٹرنیٹ پر غیر ضروری، غیر دانشمندانہ اور غیر ترمیم شدہ مواد کی دستیابی اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اسے چھانٹنا تقریباً ناممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہ کسی ڈارک ویب کے ذریعے نہیں ہو رہا ہے بلکہ کھلے پلیٹ فارمز پر دستیاب مواد کے ذریعے ہو رہا ہے جو بنیادی طور پر ویب سائٹس، یوٹیوب اور ٹیلی گرام چینلز پر دستیاب ہیں۔

ہندوتوا کا ایسا ہی غیر ترمیم شدہ، بے سمت اور گمراہ کن مواد بھی موجود ہے۔ بہت سے واقعات میں ہم ویڈیو بناتے ہوئے مسلمانوں کو لنچ کرنے یا شمبھولال ریگر نے ادے پور میں کیمرہ آن کر کے ایک مسلم مزدور کو کلہاڑی سے مار ڈالاتھااس طرح کے ویڈیو تو ہم دیکھ سکتے ہیں۔، لیکن انٹرنیٹ کے ذریعے گمراہ کن پیغامات ویڈیوز اور مواد پر کنٹرول نہیں کر پاتے ہیں۔
امن کے ساتھ معاشی صورتحال پر تحقیق کرنے والی تنظیم IEP یعنی ‘The Institute of Economy and Peace’ کی جانب سے 2022 کے لیے جاری کی جانے والی رپورٹ میں 163 ممالک کو شامل کیا گیا ہے، جس میں ہندوستان کی درجہ بندی 135 ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک میں امن کی یہ حالت نچلی سطح یعنی ‘نیچے’ کی ہے۔ پاکستان کی رینکنگ 147 اور اسرائیل کی 134 ہے۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ان تمام ایشیائی ممالک میں مذہبی جنونیت کا کیا حال ہے۔

اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 5 پر کہا گیا ہے کہ جن ممالک میں امن میں سب سے تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے وہ بھارت، کولمبیا، بنگلہ دیش اور برازیل ہیں۔ بھارت کے تناظر میں امن اور ترقی کے تعلقات پر رپورٹ جاری کرنے والی باڈی صفحہ 23 پر لکھتی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مسلسل فرقہ وارانہ تشدد کی وجہ سے ملک کی ترقی رکی ہوئی ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہندوستان کی عالمی درجہ بندی 135 ہے جو بلاشبہ پاکستان اور افغانستان سے اوپر ہے۔ لیکن غور طلب ہے کہ بھوٹان جیسے چھوٹے ملک کی رینکنگ 19، نیپال 73، سری لنکا 90 اور بنگلہ دیش 96 ہے۔ یہ رپورٹ سری لنکا کے معاشی بحران سے پہلے شائع ہوئی تھی۔ مذہب کی بنیاد پر تشدد کے تناظر میں یہ رپورٹ کئی مقامات پر ہندوستان کا حوالہ دیتی ہے۔ صفحہ نمبر 37 پر بھی اس کا ذکر ہے۔ تشدد کی شرح کو دیکھتے ہوئے، ہندوستان میں نقصان کا تخمینہ 10 ملین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے۔

ہم نے یہاں چار قسم کی مثالیں دیکھی ہیں۔ سیاسی طاقت کی بنیاد پر مذہب کی بنیاد پر ریاست کی حقیقت، عالمی خوشحالی کا اشاریہ، ورلڈ اکنامک فورم کی رسک رپورٹ اور امن اور ترقی کے درمیان تعلق پر تفصیلی رپورٹ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ گرتے ہوئے سماجی تعلقات اور تعصب کی وجہ سے دنیا چیلنجز سے گزر رہی ہے۔ جو ممالک یہ نہیں مانتے کہ وہ مذہب کی سیاست نہیں کرتے ان کی پوزیشن بتانے کے لیے کئی طرح کی تحقیق اور رپورٹیں دستیاب ہیں۔ صرف افغانستان یا سعودی عرب ہی نہیں بلکہ ایشیا میں یمن، شام، پاکستان، بنگلہ دیش، مالدیپ، ازبکستان، تاجکستان اور اسرائیل بھی اس آگ میں جل رہے ہیں۔ بھارت اور چین کے سامنے مذہبی تعصب اور مذہب کی سیاست کی مثالیں موجود ہیں جو کسی بھی طرح ان ممالک کے مفاد میں نہیں۔

انسان کو انسانیت کی خدمت کے لیے مذہب کی ضرورت ہوتی ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج مذہب انسانوں پر جرم کا باعث بنتا جا رہا ہے۔ اونچ نیچ اور اچھوت نے اس میں اضافہ ہی کیا ہے۔یہ بدقسمتی ہو گی اگر ہم دنیا کو امن کا درس دینے والے ملک سے ہٹ کر تشدد پسند ملک بن گئے۔ ہندوستان کو بچانے کا مطلب ہمیشہ اس کے سماج کے بچانے سے ہی ہوگا۔

(مضمون نگار مسلم اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آف انڈیا کے چیئرمین ہیں)
ٹویٹر @shujaatQuadri

Disadvantages of Religious Bigotry: Quotations and Diagnosis

_By: Dr Shujaat Ali Quadri_

In the strict sense of political science, only six countries are based on religion. Five of them are Islamic. The Vatican is a Christian country, but everyone knows that the entire existence of a country with a population of less than a thousand depends on Italy. Out of these five Islamic countries like Afghanistan, Iran, Saudi Arabia, Mauritania and Yemen, a relative peace prevails only in Saudi Arabia because of its better economic condition. Saudi Arabia ranks better in the global indices of human living condition and quality of life due to its natural resources and economic dependence on the pilgrimage to Mecca and Medina, i.e. Hajj, the centers of the Islamic faith. We mean that not only the religion based state but the politics of religion has stopped the development and prosperity of those countries which may be democracies, but their conduct is fanatic.

 

According to the report of ‘Ligatum Prosperity Index 2021’ on the basis of human living standards, prosperity, development and citizen-state relations in the world, Afghanistan is ranked 163 out of 167 countries. Similarly, Yemen is ranked 165, Mauritania 153, Iran 123. As we said, Saudi Arabia is ranked 75 because its economic condition is better. This report gives India 101 ranking, Pakistan 138, Bangladesh 126.

 

 

Similarly, the Risk Report 2022 of the World Economic Forum i.e. WEF has considered the ending social relationship as the fourth biggest threat among the 10 major threats facing the world. The organisation, which has always been viewed on the basis of business and profit, also believes that the decline in social relations is the fourth biggest threat to the stability of the world.

 

The Observer Research Foundation published a detailed report by Maya Mirchandani in 2017. It refers to a young man from Kerala, Ashfaq Majeed, who migrated to Afghanistan in 2016. He also asked his family members to come to the ‘House of Islam’. His family did, however, tell the National Investigation Agency about his whereabouts. The young man’s house and acquaintances were astonished that when he became so fanatical, they remained clueless. It is part of a process of cyber radicalisation that fuels religious fanaticism, isolation and vengeance from within. Similar bigotry must have found its way into the youth of Udaipur who killed Kanhaiyalal, a tailor, last month. The availability of unnecessary, unintelligent and unedited material on the Internet has become so enormous that it is becoming almost impossible to sort it out. This is not happening through the dark web but through content available on open platforms, which are easily available on websites, YouTube and Telegram channels.

 

Similar unedited, directionless and misleading content of Hindutva also exists. In many such incidents, one gruesome one was the incident of lynching of Muslims being live-streamed as in the case of Shambhulal Raigar killing a Muslim labourer with an axe in same Udaipur. Ironically, such heart-wrenching incidents somehow can be controlled. But misleading messages and calls for revenge in the wake of such killings come unaccounted for through the Internet. It is very difficult to control such videos.

 

One more factor that makes it difficult to monitor and check such malignant content is the selective approach of the government regarding such content.

 

In its report for 2022, The Institute of Economy and Peace, an organisation researching the economic situation with peace, 163 countries have been included, in which India’s ranking is 135. According to the report, this state of peace in the country is at a low level. Pakistan’s ranking is 147, while Israel has been ranked at 134. Needless to say that religious bigotry has marred peace and prosperity of these countries.

 

On page number 5 of this report, it has been said that the countries, which have seen the fastest decline in peace, are India, Colombia, Bangladesh and Brazil. In the context of India, the body that released the report on the relationship of peace and development writes on page 23 that the continuous communal violence between Hindus and Muslims is the reason for such decline in the country. As we mentioned in this report, India’s global ranking is 135, which is undoubtedly above Pakistan and Afghanistan. But it is worth noting that the ranking of a small country like Bhutan is 19, Nepal 73, Sri Lanka 90 and Bangladesh 96. This report was published before the economic crisis of Sri Lanka. In the context of religion-based violence, this report makes reference to India at many places. Taking the rate of violence, the damage has been estimated in India to be more than 10 million dollars.

 

We have seen four types of examples here. The reality of a religion-based state based on political power, the World Prosperity Index, the World Economic Forum’s Risk Report, and a detailed report on the relationship between peace and development. All these reports and global rankings indicate that crumbling social relations and religious bigotry have given rise to an increasing number of challenges in the world. There are many countries that feign to be non-religious in their political character, however various reports raise the curtain from their hypocrisy. According to such reports, countries like Saudi Arabia and Yemen are not alone that are reaping results of religious fanaticism, there are others in this category like Syria, Pakistan, Bangladesh, Maldives, Uzbekistan, Tajikistan and Israel.

 

India and China, two giants of Asia, are also staring at rising mountains of bigotry, social intolerance and disorder. Unless they will control such negative impulses, their march into the future will be impeded drastically.

 

It is widely recognised that man needs religion for the service of humanity. But it is a pity that today religion is becoming a cause of crime against human beings. Racial discrimination and untouchability have only added more serious dimension to problems. It will be unfortunate if we go from being a country that teaches peace to the world to become a violent country. To save India, we will have to save its society from getting degenerated. And this task belongs to us all.

 

_(The author is the chairman of Muslim Students Organisation of India)_

 

(Twitter @shujaatQuadri)