قومی راجدھانی میں تشدد اچانک نہیں بھڑکا: ہائی کورٹ

0
image:livelaw

نئی دہلی (ایجنسیاں) : دہلی ہائی کورٹ نے منگل کو کہا کہ 2020 میں قومی راجدھانی میں ہوئے فسادات کی پہلے سے منصوبہ بندی تھی۔یہاں تشدد کسی واقعہ کے بعد اچانک سے نہیں بھڑکا۔ عدالت نے اس معاملے کے ایک ملزم کو ضمانت دینے سے انکار کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا۔ واضح ہو کہ دہلی فسادات میں42 سے زیادہ لوگ مارے گئے اور قریب 200 لوگ زخمی ہوئے۔ عدالت نے کہا کہ جو ویڈیو فوٹیج عدالت میں پیش کئے گئے ، ان میں مظاہرین کا سلوک صاف دکھائی دیتا ہے۔ سرکار کے ساتھ ساتھ شہر میں لوگوں کی عام زندگی متاثر کرنے کیلئے فسادات منصوبہ بند طریقہ سے کرائے گئے۔ عدالت نے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کو ناکام بنادینا بھی شہر میں نظم و نسق کو بگاڑنے کیلئے ایک پہلے سے کی گئی سازش کی تصدیق کرتا ہے۔ عدالت نے ملزم محمد ابراہیم کو ضمانت نہیں دی ۔ جسٹس سبرامنیم پرساد نے ملزم محمد ابراہیم کی ضمانت کی اپیل خارج کردی، جسے دسمبر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ذاتی آزادی کا استعمال بہتر سماج کے تانے بانے کو خطرے میں ڈالنے کیلئے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ابراہیم کو سی سی ٹی وی کلپ میں بھیڑکو تلوار سے دھمکاتے ہوئے دیکھا گیا۔ یہ معاملہ شمالی ۔ مشرقی دہلی کے چاند باغ میں فسادات کے دوران پولیس اہلکاروں پر بھیڑ کے حملے سے جڑا ہوا ہے۔ تشدد کے دوران ہیڈکانسٹیبل رتن لال کے سر میں چوٹ لگنے سے موت ہوگئی تھی اور ایک دیگر افسرسنگین طور سے زخمی ہوگیا تھا۔
دہلی میں تشدد کے دوران شرپسندوں نے عوامی اور پرائیویٹ گاڑیوں کو آگ کے حوالے کردیا تھا۔ دہلی فسادات کو لے کر اسی ماہ دہلی کی ایک عدالت نے پولیس کو پھٹکار لگائی تھی۔ کورٹ نے کہا تھا کہ تقسیم کے بعد کے سب سے برے فسادات کی طرح جانچ دہلی پولیس نے کی ہے، یہ افسوسناک ہے۔ یہ تفتیش بے حس اور غیر فعال ثابت ہوئی ہے۔ شمال-مشرقی دہلی کے چاندباغ، کھجوری خاص، بابرپور، جعفرآباد، سیلم پور، مین وزیرآباد روڈ، کراول نگر، شیو وہار اور برہم پوری میں زیادہ تشدد ہوا۔ فسادات کے درمیان ہوئے دو طبقوں کے درمیان تشدد، آتشزنی، توڑپھوڑ کے نشانات ابھی بھی موجود ہیں۔ فسادات کے بعد کچھ لوگ تو سرکاری اور غیر سرکاری امداد سے پھر سے دوبارہ پٹری پر لوٹ آئے ہیں لیکن کچھ لوگ ابھی بھی اپنے کام کو پوری طرح سے شروع نہیں کرپائے ہیں۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here