دہلی فساد معاملہ: دہلی ہائی کورٹ نے جانچ کو بتایا مضحکہ خیز

0

نئی دہلی (اظہارالحسن، ایس این بی) :دہلی فسادات کے ایک معاملے کی جانچ لا پروائی سے کرنے پر دہلی ہائی کورٹ نے بھجن پورا تھانہ پولیس کی سرزنش کی اور ایس ایچ او سمیت ایک دیگر پر 25ہزار روپے کا جرمانہ لگایا ہے۔ کڑ کڑ ڈوما کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ونود یادو نے کہا کہ جانچ بہت ہی لا پروائی سے کی گئی ہے اور پولیس ڈائری لکھنے میں ضابطوں کا عمل نہیں کیا گیا ہے۔اس معاملے میں ایک الگ سے ایف آئی آر درج کی جانی چاہئے تھی، جو پولیس نے نہیں کی۔
جسٹس نے اپنے حکم کی کاپی پولیس کمشنر کو بھیجنے کا حکم دیا، تاکہ وہ اس معاملے میں مناسب کارروائی کرسکیں۔ جسٹس نے یہ فیصلہ فسادات میں زخمی ایک شخص محمد ناصر کے معاملے میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت کے حکم کے خلاف دہلی پولیس کی داخل اپیل پر سنوائی کرتے ہوئے دیا۔ جسٹس نے مجسٹریٹ کے حکم کے خلاف دہلی پولیس کی اپیل کو بھی خارج کردیا ہے۔شکایت گزار ناصر نے پولیس سے 19مارچ کو شکایت کی تھی کہ 24فروری کو فسادیوں نے اس پر گولی چلائی، جس سے وہ زخمی ہوگیا ۔پولیس نے جب اس کی شکایت پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی تو وہ عدالت کی پناہ میں گیا ۔میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے اکتوبر میں پولیس سے اس کی شکایت پر ایک الگ سے ایف آئی آر درج کرنے کو کہا۔ پولیس نے اس حکم کے خلاف سیشن عدالت میں اپیل کی تھی، جو خارج ہوگئی۔ پولیس کا کہنا تھا کہ اس واردات کے تعلق سے پہلے ہی ایف آئی آر درج کی جاچکی ہے اور اس میں شکایت گزار کے نام کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ شکایت گزار نے جو 7 افراد کے نام بتائے ہیں، ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملے ہیں ۔ملزم بنائے گئے 2 لوگ دہلی سے باہر تھے، جبکہ تیسرا اس کے پاس موجود تھا ۔جسٹس نے کہا کہ واردات 24فروری کی تھی اور ایف آئی آر 25فروری کو درج کی گئی تھی،وہ بھی موہن پور موجپور کے معاملے میں۔ پولیس والے کو پتہ تھا کہ واردات میں کچھ لوگ زخمی ہوئے ہیں، اس کے باوجود دفعہ307اور آرمس ایکٹ کی دفعہ نہیں لگائی گئی۔ اس معاملے میں کیس ڈائری لکھنے کے دوران ہائی کورٹ کے ذریعہ طے ضابطوں پرعمل نہیں کیا گیا۔
واضح رہے کہ عدالت نے کہاکہ پولیس افسران اپنی جانچ کے دوران آئینی فرائض کو ادا کرنے میں ناکام ہوئے۔ ایڈیشنل سیشن جج ونودیادو نے اس آرڈر کی کاپی پولیس کمشنر کو بھی بھیجی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس معاملے کی جانچ اور نگرانی کامعیار پولیس کمشنر کی نظر میں بھی آنا چاہئے۔ پولیس کی جانچ مضحکہ خیز رہی۔ عدالت نے پولیس کمشنر سے کہاکہ اس معاملے کو دیکھتے ہوئے اصلاحات کیلئے قدم اٹھائے جائیں۔
غورطلب ہے کہ اکتوبر 2020میں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ نے دہلی پولیس سے کہاتھا کہ محمد ناصر کی شکایت پر 24 گھنٹے کے اندر ایف آئی آر درج کی جائے۔ ناصر نے اپنی شکایت میں کہاتھاکہ 24فروری2020کو اس کے اوپر فائرنگ کی گئی۔ ایک گولی اس کے بائیں آنکھ میں لگی تھی۔ ناصر نے اپنی شکایت میں نریش تیاگی، سبھاش تیاگی، اتم تیاگی، سوشیل، نریش گوڑ اور دیگر لوگوں کو ملزم بنایاتھا۔ اس کے باوجود جب کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی تو ناصر عدالت پہنچے۔ اے ایس جے ونودیادو نے اپنے آرڈر میں کہاکہ محمد ناصر کے ساتھ واقعہ 24فروری کی شام کو شمالی گھونڈا میں پیش آیاتھا، لیکن دہلی پولیس نے ایف آئی آر 25فروری کو موہن پور-موج پور کے سلسلے میں درج کی۔ عدالت نے یہ بھی کہاکہ گولی لگنے سے زخمی ہوئے 7لوگوں کے بارے میں جانچ ایجنسی کو جانکاری تھی، لیکن پھر بھی ایف آئی آر درج کرتے ہوئے آئی پی سی کی دفعہ 307اور آرمس ایکٹ کی دفعہ 25نہیں لگائی گئی۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here