دہلی پولیس نے 1861 میں پہلی ایف آئی آر اردو میں درج کی، جرم جان کر آپ حیران رہ جائیں گے

0
image:navbharattimes.indiatimes.com

نئی دہلی (ایجنسی): کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے شہر میں پہلی ایف آئی آر کب اور کس جرم میں درج ہوئی تھی؟ پہلی ایف آئی آر 160 سال پہلے قومی راجدھانی دہلی میں درج کی گئی تھی۔ یقین نہیں ہورہا ہے۔لیکن یہ سچ ہے۔ ان دنوں یہ ایف آئی آر کی کاپی سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہی ہے۔ اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ دہلی پولیس کی طرف سے درج پہلی ایف آئی آر ہے۔خود دہلی پولیس اس وائرل کاپی کو شیئر کیا ہے۔ وائرل تصویر کے مطابق پہلی ایف آئی آر 160 سال پہلے 18 اکتوبر 1861 کو دہلی پولیس نے درج کی تھی۔ یہ ایف آئی آر اردو زبان میں لکھی گئی ہے اور جس جرم کے لیے شکایت درج کی گئی ہے وہ کافی حیران کن ہے۔ وائرل کاپی کے مطابق 18 اکتوبر 1861 کو درج

کی گئی اس ایف آئی آر میں اس شخص نے اپنے ہکے اور دیگر برتنوں کی چوری کی شکایت درج کرائی تھی۔
کٹرہ شیش محل کے رہنے والے معین الدین ولد محمد یار خان نے اپنے گھر سے


45 انے (اس وقت تقریباً 2.81 روپے) کا سامان چوری کرنے کی ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ شمالی دہلی کے سبزی منڈی پولیس سٹیشن میں درج شکایت میں ایک ہکا (تمباکو نوشی کا پائپ) کھانا پکانے کے برتن اور ایک کلفی (آئس کریم) کی چوری شامل ہے۔ اس وقت دارالحکومت میں صرف 5 پولیس اسٹیشن تھے۔ سبزی منڈی کے علاوہ


منڈکا،مہرولی،سردرر بازار اور صدر بازار کے تھانے اہم تھے۔ حکام کے مطابق اس دور کی کئی ایف آئی آر آج بھی سبزی منڈی اسٹیشن پر محفوظ رکھی گئی ہیں۔
30 اپریل 1895 کو ایک خچر کے ضائع ہونے پر ایف آئی آر درج کرائی گئی جب کہ 16 فروری 1891 کو 2 آنوں کے 11 سنگتروں کے ضائع ہونے کی رپورٹ بھی لکھی گئی۔ اس کے علاوہ 15 مارچ 1897 کو 5 آنوں کا ایک پاجامہ چوری ہونے کی شکایت درج کرائی گئی۔

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
1
+1
0
+1
8
+1
2
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here