دہلی سرکار کا قابل تقلید بجٹ

0

دہلی ملک کی راجدھانی ہے۔ سیاست اور اقتصادیات کے جو معیار یہاں طے کیے جائیں گے، اس کے کم یا زیادہ اثرات ملک بھر میں پڑیں گے۔ اسی لیے دہلی سرکار کے بجٹ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے نہیں، ملک کی راجدھانی کے بجٹ کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اس بار کے بجٹ کو سرسری طور پر بھی دیکھنے پر یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ کجریوال سرکار نے عام آدمی کا خیال رکھتے ہوئے بجٹ تیار کیا ہے۔ گزشتہ اسمبلی انتخابات سے پہلے کے بجٹ میں اس نے عورتوں کے لیے فری بس سروس مہیا کرائی تھی تو یہ بات کہی جا سکتی تھی کہ ایسا اس نے انتخابات کے مدنظر کیا ہے مگر اسی سرکار نے اس سے پہلے ہر ماہ 200 یونٹ بجلی اور 20 ہزار لیٹر فری پانی دے کریہ اشارہ دے دیا تھا کہ عام لوگوں کے لیے چھوٹی چھوٹی بچتکی اہمیت سے وہ واقف ہے۔ ان کاموں کے پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو کجریوال سرکار کا بجٹ امید بندھانے والا ہے، خاص کر ان لوگوں کے لیے یہ امید افزا ہے جو کورونا یا بڑھتی مہنگائی کی وجہ سے حالات سے نبردآزما ہیں اور یہ بات ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ کہاں خرچ کریں کہاں نہ کریں، گھٹتے روزگار میں روزگار کیسے حاصل کریں، خط افلاس سے کیسے نکلیں۔
2022-23 کے لیے دہلی سرکار کا بجٹ نائب وزیراعلیٰ منیش سسودیا نے پیش کیا، کیونکہ وہی وزارت خزانہ بھی دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’گزشتہ برس آپ سرکار نے دیش بھکتی بجٹ پیش کیا تھا، اس بار کا ہمارا بجٹ روزگار بجٹ ہے۔۔۔۔ سرکار کا ہدف اگلے پانچ برسوں میں دلی کے لوگوں کو 20 لاکھ نوکریاں دینا ہے۔‘ یہ واقعی بڑا ہدف ہے۔ اس میں دہلی سرکار اگر پوری طرح کامیاب ہوگئی تو یہ اس کی مثالی کامیابی ہوگی، اگر نصف کامیاب بھی ہوئی تو یہ بھی اس کی بڑی کامیابی ہوگی، کیونکہ اگلے پانچ سال میں اس نے جتنی نوکریاں دینے کا عزم کیا ہے، اگر اتنی نوکریاں بھی سبھی ریاستی حکومتیں دینے لگیں تو بے روزگاری ملک کے لیے کوئی بڑا ایشو نہیں رہے گی مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ بے روزگاروں کا خیال اکثر حکومتوں کو انتخابات کے وقت آتا ہے اور اب تو اس کی بھی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔ حال ہی میں پانچ ریاستوں میں ہو رہے انتخابات کے دوران ریلوے ریکروٹمنٹ بورڈ کے امتحان کے سلسلے میں احتجاج کرنے والے طلبا پر پولیس نے جس طرح لاٹھی چارج کیا، وہ اپنی مثال آپ ہے مگر دہلی کے حالات مختلف ہیں۔ گزشتہ 10 برس میں اس نے ترقی کی ہے۔ خود منیش سسودیا کا کہنا ہے کہ ’ملک کی جی ڈی پی میں دہلی کی حصہ داری 2011-12 میں 3.94 فیصد سے بڑھ کر 2021-22 میں4.21 فیصد ہوگئی ہے جبکہ اس کے تناسب میں یہاں کم لوگ رہتے ہیں۔‘ بڑی بات یہ ہے کہ سرکار نے یہ کامیابی رہائش، بجلی، پانی، تعلیم، آمدورفت کے لیے فری سروس وغیرہ پر توجہ دے کر حاصل کی ہے۔ اس سے راجدھانی کے لوگوں کی زندگی آسان ہوئی ہے۔ دہلی سرکار نے اس بار جو 75,800 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے، اس میں نوکریاں پیدا کرنے کے علاوہ صحت، نائٹ لائف، مارکیٹ، گرین اینرجی، ریٹیل سیکٹراور ہر بار کی طرح تعلیمی نظام کو مزید بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔ اس کی ترجیحات کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ بجٹ میں تعلیم کے لیے 16278کروڑ، صحت کے لیے 9669کروڑ اور ٹرانسپورٹ کے لیے 9539 کروڑ روپے مختص کیے ہیں۔
منیش سسودیا کے مطابق، دہلی سرکار دہلی کے سبھی شہریوں کو ای ہیلتھ کارڈ مہیا کرائے گی۔ ایک ہیلپ لائن نمبر بھی شروع کیا جائے گا تاکہ کارڈ ہولڈرس کو بیماریوں کے علاج میں سہولتیں ہوں۔ دہلی سرکار کی طرف سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ راجدھانی میں فوڈ ہب کی پہچان کی جائے گی، رات 8 بجے سے 2 بجے تک فوڈ ٹرک لگ سکیں گے۔ اس سے دہلی میں رات کی رونق بڑھے گی، روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے مگر سوال یہ ہے کہ رات کی چہل پہل کو برقرار رکھنے کے لیے سرکار نے کیا نظم و ضبط کو بہتر رکھنے کا منصوبہ بھی تیار کیا ہے، کیونکہ دہلی رات میں ہونے والے واقعات، خاص کر عصمت دری کے واقعات کی وجہ سے بدنام ہوتی رہی ہے۔ اس کے علاوہ رات میں فوڈ مارکیٹ کو فروغ دینے کے لیے سرکار کو آمد و رفت کی سہولتوں پر بھی توجہ دینی ہوگی جبکہ اس وقت زیادہ تر لائنوں کی میٹرو ٹرینیں اپنے ابتدائی اسٹیشنوں سے 12 بجے تک ہی چلتی ہیں، رات میں بسیں بھی کم ہی چلتی ہیں۔ ویسے آمد ورفت کی سہولتیں دینے اور نظم و نسق کو بہتر رکھنے سے دہلی میں فوڈمارکیٹ ڈیولپ کرنے میں زیادہ دشواری پیش نہیں آئے گی، یہ شہر لذیذ پکوانوں کے حوالے سے بھی جانا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر دہلی سرکار کا بجٹ اچھا اور قابل تقلید ہے۔
[email protected]