انسانی جسم میں ہیموگلوبن یا خون کی کمی

0

لیاقت علی جتوئی
انسانی جسم میں خون کی کمی (Anemia) ایک ایسی کیفیت ہے جس میں خون کے سرخ خلیے بننا کم ہوجاتے ہیں۔ خون کے سرخ خلیوں میں ایک خاص قسم کا مادہ ہیموگلوبن ہوتا ہے، جو جسم کے مختلف حصوں میں آکسیجن کی ترسیل کا کام کرتا ہے۔ یہ مادہ آئرن اور پروٹین سے مل کر بنتا ہے۔ خون میں ہیموگلوبن کی کمی ہی دراصل انیمیا یا خون کی کمی کہلاتی ہے۔خون کے سرخ ذرات کی زندگی کا دورانیہ 120دن ہوتا ہے۔ اگر کسی فرد میں یہ کمی پائی جائے تو اس کی صحت کو کئی طرح کے مسائل لاحق ہو جاتے ہیں۔ خواتین میں یہ مسئلہ مَردوں کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔ عالمی ادارئہ صحت کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں بلوغت کی عمرمیں داخل 29 فی صد لڑکیاں، 33فی صد غیرحاملہ شادی شدہ خواتین جبکہ 38فی صد حاملہ خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں۔ اگر ہم افریقا، جنوب مشرقی ایشیااور بحرالکاہل کے مغربی خطوں کی بات کریں تو وہاں 90فی صد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں، جس سے اس مسئلے کی سنگینی ظاہرہوتی ہے۔
وجوہات:اس کی وجوہات میں درکار وٹامنز نہ ملنا، آئرن کی کمی، ہڈیوں کا گودا کم ہوجانا یا دیگر امراض شامل ہیں۔ مزید برآں تمباکو نوشی، وزن بڑھنے یا بڑھتی عمر کی وجہ سے بھی یہ مرض لاحق ہوسکتا ہے۔ سرخ خلیے ختم ہوجانے سے بھی خون میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ بہت سے لوگوں کے کمزور سرخ خلیات ذرا سے دباؤ سے ہی پھٹ جاتے ہیں۔اس کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ مریض کے والدین میں سے کسی کو خون کی کمی رہی ہو یا کسی انفیکشن کے باعث جسم میں جراثیم داخل ہو گئے ہوں۔ اس کے علاوہ جگر یا گردے کی بیماری میں جسم سے خارج ہونے والازہریلا مواد بھی جسم میں خون کی کمی کا باعث بن سکتاہے ۔ عام طور پر انیمیا کی مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہوتی ہیں۔
سانس لینے میں دشواری یا سر چکرانا :ہیموگلوبن میں آئرن کی مقدار کی وجہ سے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے، جس کا کام دوران خون جسم کو آکسیجن پہنچانا ہوتاہے۔ جب جسم کو مناسب مقدار میں آکسیجن نہیں ملتی تو نتیجے میں سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے جبکہ اکثر سر چکرانے لگتا ہے یا مریض ہلکا پن محسوس کرتا ہے۔
زرد رنگت:جسم میں اگر خون کے خلیات صحت مند اورسرخ ہوں تو جِلد صحت مند نظر آتی ہے۔ آئرن یا وٹامن بی12کے بغیر جِلد تک مناسب مقدار میں خون نہیں پہنچ پاتا، جس کے نتیجے میں اس کا رنگ زرد پڑنے لگتا ہے۔
سینے میں درد:جسم میں صحت مند سرخ خلیات کی کمی کی وجہ سے دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے تاکہ جسم کو خون کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے، اس کے نتیجے میں دل کی دھڑکن معمول سے زیادہ تیز ہوجاتی ہے اور سینے میں درد ہونے لگتا ہے۔
سبزیوں کا استعمال:ایک تحقیق کے مطابق اگرچہ جسم کو آئرن کی مناسب مقدار سبزیوں سے مل جاتی ہے مگر یہ غذا وٹامن بی 12 کی فراہمی میں ناکام رہتی ہے، جس کے نتیجے میں جسم میں اس وٹامن کی کمی ہونے لگتی ہے جو کہ انیمیا کے مرض کی وجہ بن جاتی ہے۔
شدید تھکن:شکاگو یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق انیمیا کی سب سے عام اور نمایاں علامت تھکن کا احساس ہے۔ تحقیق کے مطابق اس تھکن کی علامت کا اظہار لوگوں میں مختلف انداز میں ہوتا ہے، کچھ کو تھکن بہت زیادہ ہوتی ہے اور اس کی وجہ بھی آئرن یا وٹامن بی 12 کی کمی ہے، جو سانس کی تنگی اور سر چکرانے کا باعث بنتی ہے۔
حاملہ ہونا یا کسی وجہ سے خون کا اخراج: حاملہ خواتین میں خون کی کمی کا امکان بہت زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ان کے جسم میں بچے کی نشوونما کے لیے زیادہ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے خواتین مناسب مقدار میں آئرن کو جسم کا حصہ بنارہی ہوں، مگر مختلف وجوہات کی بناء پر خون کے اخراج کے باعث انیمیا کا شکار ہوچکی ہوں۔
سردرد کی شکایت:جسم میں آئرن کی کمی ہو تو وہ دیگر ٹشوز کے مقابلے میں دماغ کو متاثر کرنے کو زیادہ ترجیح دینے کی کوشش کرتا ہے، مگر ایسا ہونے پر بھی آکسیجن کی مقدار مناسب نہیں ہوتی، جس کے نتیجے میں دماغی شریانیں سوجن کا شکار ہوجاتی ہیں اور ہر وقت سردرد کی شکایت رہنے لگتی ہے۔
دھڑکن بے ترتیب ہونا:اگر جسم میں خون کی کمی ہو تو آکسیجن کی فراہمی کے لیے دل کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں دھڑکن بے ترتیب ہونے لگتی ہے۔ اگر اکثر ایسا ہو تو آپ کو ڈاکٹر سے معائنہ کرالینا چاہیے، کیونکہ طویل عرصے تک ایسا رہنا امراض قلب کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر جسم میں خون کی بہت زیادہ کمی ہو جائے تو پھر انتقالِ خون کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں مریض کا دل فیل ہو سکتا ہے۔
ہاتھ پیر ٹھنڈے رہنا:خون میں آکسیجن کے لیےخون کے سرخ خلیات کو آئرن کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی کمی سے دورانِ خون متاثر ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں جسم کو معمول سے زیادہ ٹھنڈ کا احساس ہوتا ہے، جس کی وجہ دورانِ خون میں آنے والی تبدیلیاں ہوتی ہیں۔ یہ احساس گرمیوں میں بھی ہوسکتا ہے اور اس وجہ سے متاثرہ فرد انیمیاکا بتدریج شکار ہوتا چلاجاتا ہے۔
احتیاط و علاج:خون کی کمی والے افراد کو فوری طور پر اپنا علاج شروع کر دینا چاہیے اور ساتھ ہی اپنے روزمرہ معمولات میں بھی تبدیلی لانا چاہیے۔٭ ماہرمعالج سے رابطہ کریں۔٭ ورزش کو روزانہ کا معمول بنائیں۔٭ اپنی خوراک میں پھل، سبزیوں اور گوشت کا اضافہ کریں۔