موت کا ماک ڈرل

0

کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر مسیحاہوتے ہیں، دکھی انسانیت کا علاج ہی ان کا نصب العین ہوتا ہے۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہمدردی، انسان دوستی اور دکھوں کو دور کرنے کے خصوصی ہنر سے باوصف ڈاکٹروں کے اس طبقہ میں ایسے افرادکی اکثریت ہوتی جارہی ہے جن کا مقصد مریضوں کا علاج نہیں ہے۔ اترپردیش کے آگرہ میں واقع پارس ہاسپیٹل میں پیش آنے والاواقعہ یہی بتارہاہے،جہاں آکسیجن کی کمی کا ماک ڈرل کرکے 22 مریضوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس غیر انسانی واقعہ کو صرف لاپروائی نہیں کہاجاسکتا ہے کیوںکہ جان بوجھ کر اور سوچ سمجھ کر آکسیجن کی سپلائی بند کی گئی تھی جو کسی کا قتل کرنے جیسا ہی سنگین جرم ہے۔ یہ سوچ کر ہی روح کانپ اٹھتی ہے کہ کوئی اسپتال، بستر پر پڑے ہوئے لاچار مریضوں کی آکسیجن بند کردے جب کہ اسے اچھی طرح معلوم ہو کہ جو مریض اس کے اسپتال میں داخل ہیں وہ زندگی اور موت کی لڑائی لڑرہے ہیں، اگر کوئی لاپروائی ہوئی ان کی جان ختم ہوسکتی ہے۔ باوجود اس کے آکسیجن بند کرکے ماک ڈرل کرنابے رحمی، سنگ دلی اور بربریت کا بدترین عمل ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے ظالمانہ واقعات اس لیے بھی زیادہ سنگین ہوجاتے ہیں کہ لوگ اسپتال میں ڈاکٹروں کے پاس نئی زندگی کی امید لے کر جاتے ہیں لیکن اسپتال اور ڈاکٹر ہی جب موت بانٹنے لگیں تو اس سے زیادہ بھیانک صورتحال دوسری کوئی نہیں ہوسکتی ہے۔سر کاری اسپتالوں کی بدنظمی، سہولتوں کی کمی اور ڈاکٹروں کے رویہ سے عاجزتھوڑا بہت خرچ برداشت کرنے کے اہل افراد نسبتاً بہتر علاج کیلئے پرائیویٹ اسپتال جاتے ہیں مگر آگرہ کے پارس اسپتال کے واقعہ نے بتادیا ہے کہ اب پرائیویٹ اسپتالوں میںبھی مریضوں کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہے اور یہ اسپتال مریضوں کی زندگی سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ پارس اسپتال کا جو ویڈیو سامنے آیا ہے، اس میں اسپتال کا مالک دعویٰ کررہاہے کہ اس نے27اپریل کو اپنے اسپتال میں5منٹ کیلئے ماک ڈرل کے طور پر آکسیجن کی سپلائی بند کردی تھی۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے اسپتال کے مالک ڈاکٹر ارنجے جین کا کہنا ہے کہ وہ ان مریضوں کی شناخت کرنا چاہتا تھا جن کی موت آکسیجن نہ ملنے کی وجہ سے ہوسکتی ہے۔ وائرل ہونے والے ویڈیو کلپ میں ڈاکٹر جین کہہ رہاہے کہ ہمیں بتایاگیا ہے کہ وزیراعلیٰ تک کو آکسیجن نہیں مل پارہی ہے، اس لیے ہم نے مریضوں کو ڈسچارج کرنا شروع کردیا۔مریضوں کے گھر والوں کو سمجھایا، ان میں سے کچھ رضامند ہوگئے لیکن کچھ ایسے بھی تھے جنہوں نے اسپتال سے جانے سے ا نکارکردیا۔اس کے بعد ڈاکٹر ارنجے جین کہہ رہاہے کہ آکسیجن کی کمی سے کون مرسکتا ہے اور کون زندہ رہے گا، اس کا پتہ لگانے کیلئے ہم نے 27اپریل کی صبح7بجے آکسیجن بند کرکے ماک ڈرل کیا،اس وقت اسپتال میں96مریض تھے۔اس ماک ڈرل کا کسی کو پتہ نہیں چلا اور اس کے بعد 22 مریضوں کی موت ہوگئی۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ اپریل کے مہینہ میں پورے ملک میں آکسیجن کی سنگین قلت تھی اور مختلف اسپتالوں میں آکسیجن کی کمی سے موت کے واقعات سامنے آئے تھے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ وینٹی لیٹر پر پڑے مریض کی ہی آکسیجن بند کر دی جائے۔ایک ڈاکٹر کو یہ اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ وینٹی لیٹر پر پہنچ جانے والے مریض کیلئے آکسیجن کی اہمیت کیا ہوتی ہے۔یہ معلومات عامہ میں سے ہے کہ وینٹی لیٹر پر پہنچ جانے والے کسی مریض کے دماغ میں صرف تین منٹ کی آکسیجن ہوتی ہے اور اگرمریض کی حالت زیادہ خراب ہے تو وہ زیادہ دیر بغیر آکسیجن کے نہیں رہ سکتا ہے اوراس کے بعد دماغ کو آکسیجن نہ ملے تو مریض کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ باوجود اس کے ڈاکٹر ارنجے جین نے یہ ظالما نہ اور وحشیانہ کام کیا اور 5منٹ تک آکسیجن سپلائی بند کرکے 22مریضو ں کی جان لے لی۔
ایسا نہیں ہے کہ کورونا کی اس مہلک وبا کے دوران اسپتالوں میں جان لیوا حادثے نہیں ہوئے ہیں مگر ان میں سے زیادہ تر حادثوں کی وجہ لاپروائی اور غلطی تھی لیکن آگرہ کے پارس اسپتال میں 22 مریضوں کی موت صریحاً سوچا سمجھاقتل ہے۔ ہر چند کہ اسپتال مالک کے خلاف ڈیزاسٹرمینجمنٹ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے اسپتال کو سیل کردیاگیا ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔ موت کا ماک ڈرل کرنے والے ڈاکٹر اورا سپتال کے خلاف قتل عمد کا مقدمہ قائم کرکے اسے سخت ترین سزادی جانی چاہیے تاکہ مستقبل میں کوئی ڈاکٹرا ور اسپتال مریضوں کی جان سے کھلواڑ کی ہمت نہ کرسکے۔اس کے ساتھ ہی پرائیویٹ اسپتالوں کی نگرانی کا میکانزم وضع کرنے کی بھی سخت ضرورت ہے جیسا کہ مغربی بنگال حکومت نے ویسٹ بنگال کلینیکل اسٹیبلشمنٹ ریگولیٹری کمیشن قائم کرکے کیا ہے۔ چار سال قبل بنایا گیا یہ نگراں کمیشن اسپتالوں پر عقابی نظر رکھے ہوئے ہے اور لاپروائی سے لے کر اوور بلنگ تک معاملات میںنمایاں حد تک کمی آگئی ہے۔اس طرح کا کمیشن ہر ریاست میں قائم کیاجاناچاہیے تاکہ اسپتالوں کو لگام لگائی جاسکے۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0
+1
1

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here