اساتذہ سے تاریک راہیں روشن ہوتی ہیں

0

محمودہ قریشی
(ریسرچ سکالر دہلی یونیورسٹی دہلی)

شمع علم و آگہی سے دل منور کر دیا
مجھ کو مٹی سے اٹھایا اور فلک پر کر دیا
دے جزا اللہ تو اس باغبان علم کو
جس نے غنچوں کو کھلایا اور گل تر کر دیا
ہندوستان میں 5 ستمبر کو یومِ اساتذہ کے طور پہ منایا جاتا ہے،۔ پانچ ستمبر کو عظیم مفکر، دانشور اور عبقری شخصیت ڈاکٹر سرو پلی رادھا کرشنن کے یوم پیدائش کو ہم یومِ اساتذہ کی شکل میں مناتے ہیں۔
جبکہ عالمی یوم اساتذہ 5 اکتوبر کو منایا جاتا ہے,جو 1994 سے جاری ہے۔ UNESCOنے اس رسم کی ایجاد کی۔ اس کے علاوہ بہت سارے ممالک ہیں۔ جو مختلف تاریخوں میں یومِ اساتذہ منایا کرتے ہیں۔
اب آئے غور کرتے ہیں کہ یومِ اساتذہ منانے کا مقصد کیا ہے۔؟
اس کو منانے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔استاد ایک چراغ ہوتا ہے جو تاریک راہوں میں روشنی کے وجود کو برقرار رکھتا ہے۔ اُستاد وہ پھول ہوتا ہے جو اپنی خوشبو سے معاشرے میں امن، مہر ومحبت و دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے۔دراصل اُستاد ایک ایسا رہنما ہے جو انسان کو زندگی کی گم راہوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے۔
اور ماں باپ کے بعد ایک استاد ہی ہوتا ہے جو زندگی کا مقصد سمجھاتا ہے۔بلکہ صحیح معنوں میں انسان بناتا ہے۔اس لئے اس کی کار گزارویوں کو یاد کرنے کا مخصوص کوئی ایک دن نہیں ہوتا۔
اللہ رب العزت قران میں فرماتا ہے۔،(”آؤ! غور کرو، فکر کرو، جستجو کرو،مشاہدہ کرو آسمان کی بلندیوں اور زمین کی تہوں سے رب کا ئنات کے پوشیدہ رازوں اور خزانوں کو ڈھونڈ نکالو اور ان پر تحقیق کرو۔،،۔)
یعنی اسلام سائنسی اصول کی روشنی میں تحقیق کی ،تعلیم کی دعوت دیتا ہے۔ جو ہمارا سماجی حق بھی ہے اور مذہبی حق بھی۔علم ہی انسان کو اشرف المخلوقات میں شمار کراتا ہے۔
طالب علم جب علم حاصل کرنے نکلتا ہے تو تعلیم سے اس کا مقصد ذہنی،جسمانی، اور روحانی نشود نمائی کرنا ہوتا ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے میں طلبہ کو قابل قدر اساتذہ کا انتخاب کرنا ہوتا ہے، جو حصول تعلیم کا مقصد حل کرنے میں اس کی مدد کرے، اس کے ذہن کو جلا بخشے، اس کو سمجھنے کا صحیح اسلوب سیکھائے،اس میں نظری اور تنقیدی نگاہ قائم کرے۔اور طلبہ کو فکری اجتہاد کے قابل بنائے۔
جیسا کہ،،رابرٹ فراسٹ،، نے کہاں ہے۔
’میں پڑھاتا نہیں جگاتا ہوں‘
اور سوامی ویویکانند کا کہنا ہے کہ۔
”تعلیم اچھا انسان بننے کے لیے سب سے اعلی مظہر ہے”۔
اور حصول مقصد کو حل کرنے میں اگر طالب علم کو صحیح استاد مل گیا اور اس نے طالب علم کو صحیح راہ پر ڈال دیا تو اسے کامیاب ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔اس طرح ایک انسان کی کامیابی میں اس کے اساتذہ کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔
زندگی میں دو ہی شخص حقیقت میں انسان کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں چونکہ وہ اصل میں خود ان کی کامیابی ہوتی ہے، پہلا باپ اور دوسرا استاد۔ کسی بھی انسان کی کامیابی کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے۔ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ لوگ جن کی زندگی میں اچھے اساتذہ میسر آجاتے ہیں۔ ایک معمولی سے نوخیز بچے سے لے کر ایک کامیاب فرد تک سارا سفر اساتذہ کا مرہون منت ہے۔ وہ ایک طالب علم میں جس طرح کا رنگ بھرنا چاہیں بھر سکتے ہیں۔ دراصل استاد ہی زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔اور طالب علم بھی اپنے اساتذہ سے یہ توقع رکھتا ہے چونکہ بچپن میں اساتذہ ہی طالب علم کے رول ماڈل ہوتے ہیں اگر اساتذہ کا کردار خود مثالی ہوتا ہے تو ظاہر ہے طالب علم میں ان خوبیوں کا آنا فطری ہے۔ایک بہ ذہین طالب علم اپنے اساتذہ کی ہی نقل کرتے ہیں۔ان کے اساتذہ کا پڑھانے کا انداز کیسا ہے,یا وہ کس طرح سے سمجھاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس کو ذہن نشین ہو جاتا ہے۔اکثر طلبہ کو یہ کہتے ہوئے سنا جاتا ہے کہ مجھے فلاح استاد کی کلاس لینا بہت اچھا لگتا پے۔,”مجھے فلاح استاد کا سمجھانے کا انداز بہت اچھا لگتا ہے,” ایک استاد ہی ہوتا جس کی صرف ایک بات, ایک انداز طالب علم کو وہ فکری نظر بخش سکتی ہے۔جس سے طالب علم کی پوری زندگی بدل جاتی ہے ۔اور وہ صحیح راہ پر کامزن ہوتا ہے -جیسا کہ ہماری مشفق استانی پروفیسر ارجمند آرا میم کا ایک قول کہ” ان افسانوں کی دنیا سے باہر نکلوں لیٹریچر ادب میں اور بھی بہت کچھ ہے عالمی فکشن پڑھوں” ”اس وقت تو شاید یہ بہت برا لگا لیکن جلد ہی یہ احساس ہو گیا کہ اب تک جو پڑھا وہ تو پاپیولر ادب تھا ۔اصل فکشن کا لطف تو اب آ رہا جب تحقیق کے دوران نئے نئے موضوعات پر تحقیق کر عالمی فکشن کی کڑیاں ایک دوسرے سے پیوست کی جا رہی ہیں- میم کے صرف ایک قول نے تحقیق کی راہ میں چراغ روشن کر دئیے – اور شاید یہ ہی اصل استاد کی پہچان بھی ہوتی ہے –
جیسا کہ ہمارے ایک استاد پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی سر ان کی ایک کلاس جس نے ہمیں وہ فکری نظریہ بخشا اشرفی سر ہمیں غزل نہیں پڑھاتے تھے بلکہ وہ ہمیشہ تنقید و تاریخ پڑھایا کرتے تھے ایک دن انھوں نے ہمارے اسرار پر غالب کی ایک غزل پڑھائی غزل تھی۔
عشرت قطرہ ہے دریا میں فنا ہو جانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہو جانا
تجھ سے قسمت میں میری صورت قُفل ابجد
تھا لکھا بات کے بنتے ہی جدا ہو جانا
اور غزل میں جب یہ شعر پڑھا کر اس کی تشریح اس طرح کی کہ اس دن سے ہمارے ذہن کا ایسا قُفل ابجد کھلا جس نے ہمیں غزلوں کو سمجھنے کا ایک نیا ہی شعور بخشا غزل کو کس لہجے میں پڑھنا چاہئے اس میں کس طرح سے نئے نئے معانی مفہوم تلاش کر سکتے ہیں یہ ہم نے غزل کی اس اسپیشل کلاس میں سیکھا ہے۔
اس کے علاوہ ایسی ہی ایک اور خاص کلاس جو کہ ہماری استانی ڈاکٹر نسرین بیگم نے لی تھی وہ ہمیں ترقی پسند تحریک پڑھا رہی تھی شاید اس وقت ترقی پسند ادب کو اس معانی مفہوم میں نہیں سمجھا ہو- لیکن میم کے دو جملے جس میں پریم چند کے قول کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ
”اب ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا ”۔
ہماری کسوٹی پر وہ ادب کھرا اترے گا۔جس میں تفّکر ہو, آزادی کا جزبہ ہو,حسن کا جوہر ہو, تعمیر کی روح ہو ,زندگی کی حقیقی روشنی ہو, جو ہمیں سلائے نہیں بلکہ ہم میں حرکت اور ہنگامہ پیدا کرے چونکہ زیادہ سونا موت کی علامت ہوگا۔”
یہ دو جملے کہ ‘جو ہمیں سلائے نہیں,بلکہ ہم میں حرکت و ہنگامہ پیدا کرے , یہ حرکت اور ہنگامے شاید اب پروفیسر ارجمند آرا میم نے جگا دئے کہ وہی حرکت اور ہنگامے اب صفحہ قرطاس پر بکھرنے لگے –
آج ہم جو تھوڑا بہت لکھ پڑھ پا رہے ہیں اس کے پیچھے ہمارے اساتذہ کا ہی ہاتھ ہے۔ہماری یہ خوش قسمتی رہی ہے ہمیشہ سے ہی اردو ٹیچرز ہمیں ایسے مخلص ملے ہیں، اور اب فن افسانہ نگاری کی بات کرے تو یہاں فنی باریکیاں سیکھانے کا سہرا محسن خاں کے سر ہے۔ہمارا افسانہ مکمل ہوتے ہی سب سے پہلے وہی پڑھتے ہیں -جس کو پڑھ کر وہ اپنے قیمتی مشوروں سے بھی نوازتے ہیں۔ان کی مخلصانہ تنقیدی رائے ہم جیسے نو مولود طلبہ کے لئے قیمتی آرا سے کم نہیں ہیں -یو وہ بھی ہمارے لئے استاد کی حثیت رکھتے ہیں ۔
جیسا کہ البرٹ آئن اسٹائن لکھتے ہیں۔
”تخلیقی اظہار اور علم کی روشنی ذہنوں میں منور کرنا استاد کا اعلیٰ فن ہے۔
ان کے علاوہ ہمارے اساتذہ کی ایک لمبی فہرست ہے۔جن سے ہر مقام پر ہم نے کچھ نہ کچھ سیکھا ہے اور سیکھنے کا یہ سلسلہ جاری ہے اللہ ہمارے اساتذہ کو صحت و سلامتی کے ساتھ عمر دراز عطا فرمائے آمین۔آمین۔آمین
چونکہ استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعے سے مفید ہے ہوتی ہے۔دراصل استاد ایک جوہری کے مانند ہوتا ہے۔وہ اپنے ہر درجے کے طالب علموں میں سے ان طلبہ کو اپنی حسن نظر سے ایک ہی نظر میں پہچان لیتا ہے جس میں واقعی کچھ کر گزرنے کا جزبہ ہوتا ہے۔اور وہ جوہری کی طرح ان کو تراش کر ایسا چمک دار بنا دیتا ہے کہ اس کی چمک دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ماضی اورحال کو وہ مستقبل کے روشن ستاروں میں پیوست کر دیتا ہے۔ استاد ایک معمولی سے آدمی کو آسمان پر پہنچا دیتا ہے۔ استاد مینار نور ہے جو اندھیرے میں ہمیں راہ دکھلاتا ہے۔ ایک سیڑھی ہے جو ہمیں بلندی پر پہنچا دیتی ہے۔ اور وہ ہمارے لئے قدرت کا ایک انمول تحفہ ہے جس کے بغیر انسان ادھورا ہے۔
دیکھا نہ کوئی کوہ کن فرہاد کے بغیر
آتا نہیں ہے کوئی فن استاد کے بغیر
معلم صرف درس نہیں دیتا بلکہ ہمارے معاشرے کی نیو ڈال رہا ہوتا ہے- جس پر ہمارے معاشرے کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔بقول علامہ اقباؔل، ”استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بنانا انھیں کے سپرد ہے”۔ استاد کی محنت کی وجہ سے انسان بلندیوں تک پہنچتا ہے اور حکمرانی کی گدی پر جلوہ نشین ہوتا ہے – استاد ہی کی محنت کی وجہ سے وہ آسمانوں کی سیر کرتا ہے۔ بغیر استاد کے انسان اس اندھے کی مانند ہے جو بغیر سہارے کے سفر میں نکل جاتا ہے۔اللہ تعالی ہمیں اپنے اساتذہ کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ qqq

q

q

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS