تیسری لہر کا خطرہ

0
Jammu and Kashmir, June 02 (ANI): Red Cross supporters wearing red spiky accessories as Coronavirus helmet take out a COVID-19 awareness campaign, in Jammu on Wednesday. (ANI Photo)

مہنگائی غربت اور بے روزگاری میں عذاب ناک اضافہ، قومی املاک کی فروخت، پڑوسی ملک افغانستان میں حالات کی تبدیلی جیسے سلگتے موضوعات کے درمیان ہندوستان میں کورونا کی تیز ہوتی لہر پر توجہ کم ہوگئی ہے۔گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے انفیکشن میں23فیصد کا اضافہ ہوا ہے اور 50ہزار کے قریب نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔اس کے ساتھ یہ عقدہ بھی صاف ہوگیا ہے کہ ویکسین کورونا سے بچائو کا ذریعہ نہیں ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ویکسین کی دونوں خوراکیں لے لینے کے باوجود کورونا سے متاثر ہونے کا خطرہ برقرار ہے۔ جمعرات کو وزارت صحت نے باقاعدہ اس کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے کہا ہے کہ ویکسین کورونا انفیکشن سے تحفظ کی ضمانت نہیں دیتی ہے۔اس لیے ویکسین لینے کے باوجود ماسک پہننا لازمی ہے۔
وزارت صحت کے سکریٹری راجیش بھوشن نے کہا کہ کوروناکی دوسری لہر ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور آنے والے دو مہینے ستمبر اور اکتوبر انتہائی اہم ہیں۔ آنے والے یہ دو مہینے تہواروں کی گہماگہمی والے ہیں، ان ہی مہینوں میں تیسری لہر آنے کا بھی اندیشہ ہے۔ انڈین کائونسل آف میڈیکل ریسرچ کے ڈائریکٹر جنرل بلرام بھارگوا نے بھی کم و بیش یہی باتیں کہیں ہیں۔بھارگوا کا کہنا ہے کہ ویکسین بیماری کو روکنے کے لیے نہیں بلکہ یہ بیمارہوجانے کے بعد انسان کے اندر بیماری سے لڑنے کی قوت میں اضافہ کرتی ہے۔
ماہرین کی بات سے انکار ممکن نہیں ہے۔بلومبرگ کی حالیہ رپورٹ میں بھی اسی طرح کی باتیں کہی گئی ہیں۔بلکہ اس رپورٹ نے تو خدشات میں اضافہ ہی کردیا ہے۔ رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ مکمل ویکسین لینے والو ں میں اس وائرس کی ترسیل میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے اوراس کے شواہد بھی ملے ہیں کہ ویکسین لینے والوں کے لیے ایک بار انفیکشن ہوجانے پر یہ وائرس انتہائی خطرناک بھی ثابت ہورہاہے۔یو ایس سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کا بھی کم و بیش یہی کہنا ہے کہ کوئی بھی ویکسین وائرس کے خلاف صد فیصد کارآمد نہیں ہے۔
گزشتہ ایک ہفتہ سے کورونا کیسز میں آنے والے اچھال سے بھی ان خدشات کو تقویت مل رہی ہے۔ کیرالہ اور مہاراشٹر میں جس تیزی سے کورونا وائرس کے انفیکشن میں اضافہ ہوا، اس سے بھی یہی لگ رہاہے کہ مستقبل قریب میں اس خطرہ سے نجات ملنا ممکن نہیں ہے۔ ملک کے 41اضلاع میں اب بھی انفیکشن کی شرح 10فیصد سے زیادہ ہے۔ کیرالہ میں زیر علاج کورونا مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے اور روزانہ ہی وہاں 30ہزار سے زیادہ کیسزسامنے آرہے ہیں۔ گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران کسی ایک ریاست میں اب تک کے سب سے زیادہ کیرالہ میں 31445کیسزسامنے آئے ہیں۔ دوسرے نمبرپر مہاراشٹر ہے جہاں انفیکشن بے قابو تو نہیں ہے مگریہ بھی نہیں کہاجاسکتا ہے کہ خطرہ کم ہوگیا ہے۔معمولات زندگی بحال تو ہوگئے ہیں لیکن خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔
باوجود اس کے لوگ جس طرح احتیاطی تدابیر سے بے پروا اپنے روزمرہ کے کاموں میں مشغول ہیں، وہ تیسری لہر کو دعوت دینے کا سبب بن سکتا ہے۔ حکومت اور ماہرین بھی بار بار تیسری لہر کا اندیشہ ظاہر کررہے ہیں۔نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ بھی تیسری لہر کا خدشہ ظاہر کرچکا ہے۔این ڈی ایم کا کہنا ہے کہ تیسری لہر ستمبر اور اکتوبر کے درمیان آسکتی ہے اور اس دوران انفیکشن کے روزانہ معاملات تیس لاکھ سے بھی زیادہ ہوسکتے ہیں۔اس خطرہ کا انحصار وائرس کے ویریئنٹ پر بھی ہوگا کہ کون سا اور کتنا خطرناک ویریئنٹ لوگوں کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔
دوسری لہر کے دوران جس طرح سے وائرس کا ڈیلٹا ویریئنٹ قہر بن کر ہندوستان پر ٹوٹ پڑا تھا، وہ ابھی لوگ بھولے نہیں ہیں۔انفیکشن میں بے لگام اضافہ اور اموات کی وجہ سے ہندوستان دنیا کے پہلے دو ممالک میں شامل ہوگیا تھا۔اب اگر تیسری لہر آئی تو حالات اس سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم نے اب تک تیسری لہر سے نمٹنے کی کوئی معقول تیاری بھی نہیں کی ہے۔ ویکسی نیشن کی رفتار بھی اتنی نہیں ہے کہ اگلے ایک ہفتہ کے دوران پورے ملک کو ٹیکہ لگایا جاسکے۔ وزارت صحت کے مطابق اب تک 60,38,46,475 لوگوں کو ہی ٹیکہ لگایاجاسکا ہے جو ہندوستان کی مجموعی آبادی کا تقریباً45فیصد ہے اور وہ بھی اس آبادی کو صرف پہلی خوراک ہی دی گئی ہے۔ دونوں خوراک لینے والی آبادی فقط 13,69,65,616 تقریباً 10فیصد ہے۔ ایسے میں تیسری لہر سے نمٹنے کے لیے حکومت کی طرف دیکھنے کے بجائے عوام کو خود ہی اپنا بچائو کرنا ہوگا۔ وزارت صحت نے بھی ماسک لگانے کا مشورہ دیتے ہوئے اپنے ہاتھ کھڑے کردیے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عوام اپنے طور پر اس بیماری سے بچائو کے لیے ہرتدبیر اختیار کریں اور احتیا ط کا دامن قطعی نہ چھوڑیں۔
[email protected]

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1
+1
0
+1
0

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here