رسم و رواج اور جہیز: سماجی برائیوں کی جڑ

0

عبدالطیف ندوی
دارالعلوم نظامیہ فرنگی محل ،لکھنؤ

جہیز ایک ناسوربن چکا ہے جو ہمارے معاشرے میں کینسر کی طرح پھیل چکا ہے۔ اس لعنت نے لاکھوں بہنوں اور بیٹیوں کی زندگی کو جہنم بنا رکھا ہے۔ ان کی معصوم آنکھوں میں بسنے والے رنگین خواب چھین لیے ہیں، انہیں ناامیدی اور تاریکی میں دھکیل دیا ہے جہاں سے اْجالے کا سفر ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ ایک رسم ہے جس سے صرف غریب والدین زندہ درگور ہو رہے ہیں اور اس آس پر زندہ ہیں کہ کوئی فرشتہ صفت انسان اس لعنت سے پاک دو جوڑا کپڑوں میں ان کے لخت جگر کو قبول کر لے لیکن ہمارے معاشرے میں جو رسمیں رواج پا چکی ہیں اور وہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنے قدم مضبوطی سے جما لیتی ہیں ان سے چھٹکارا پانا ناممکن ہے۔ درحقیقت جہیز خالص ہندوستانی رسم ہے اور ہندو معاشرے میں تلک کے نام سے مشہور ہے جسے آج ہمارے مسلم معاشرے نے اپنا لیا ہے۔ اس لعنت نے موجودہ دور میں ایسے پھن پھیلا لیے ہیں کہ غریب گھروں میں پیدا ہونے والی لڑکیاں شادی سے محروم اپنی چار دیواری میں بیٹھی رہنے پر مجبور ہیں۔ جہیز ایک غلط اور فطرت کے خلاف رسم ہے۔ آج اس رسم نے جو برائی اختیار کر لی ہے، اس کی مثال ملنامشکل ہے۔معاشرے میں جہیز جیسی لعنت کو ختم کرنے کیلئے والدین کو بھی سختی سے عمل کرنا ہو گا۔ وہ عہد کریں کہ نہ جہیز دیں گے اور نہ لیں گے۔ لوگوں کو بھی بتایا جائے کہ جہیز مانگنا ہی جر م نہیں بلکہ اپنی حیثیت سے بڑھ کر تحائف کے نام پر جہیز دینا یا اپنی جائیداد وغیرہ فروخت کرکے جہیز کے مطالبات پورے کرنا ایک اخلاقی جرم ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہیز کے علاوہ بہت سی غیراسلامی رسمیں پائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے سماج میں زبردست بے چینی بڑھ رہی ہے۔ امراء کیلئے کوئی بات نہیں لیکن غریبوں کیلئے بیٹیاں مصیبت ثابت ہو رہی ہیں اور ہزاروں لڑکیاں اس لعنت کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔ جہیز کا لین دین غیراسلامی ہے۔ اس گھناؤنی غیراسلامی رسم کو ختم کرنے میں نوجوان اہم رول ادا کر سکتے ہیں۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب آج کی نسل جہیز کا لالچ اپنے دلوں سے نکال دے اور معاشرے میں اپنے اس مخلصانہ عمل سے انقلاب برپا کرے۔شادی کے موقع پر لڑکی والوں کی طرف سے لڑکے کو یااس کے گھروالوں کو نقداورسامان کی شکل میں جوکچھ دیاجاتاہے، اس کو جہیز کہاجاتاہے۔ یہ دراصل ہندوانہ رسم ہے، جو مسلم معاشرہ میں تحفہ کے نام سے برآئی ہے، کیوں کہ اپنی اولاد کو اوردیگررشتہ داروں کو خوشی کے موقع پر ہدایا وتحائف دینازمانہ قدیم سے چلاآرہاہے۔ مگرزمانہ کی رفتارکے ساتھ اس میں وہ اسباب وعوامل شامل ہوتے گئے، جس سے ایک پسندیدہ عمل شرعی نقطہ نظرسے ناپسندیدہ بن کررہ گیا۔ یقیناتحفہ کالین دین، آپس میں پیارومحبت، ہمدردی وغمگساری کے جذبہ کے تحت ہوتاہے، مگریہی تحفہ جب شرعی حدود کوپھلانگ کرآگے بڑھ جاتاہے، تومحبت کے بجائے نفرت کے بیج بونے لگتاہے، اتحاد کے بجائے اختلاف، باہمی تعاون کے بجائے لڑائی وجھگڑے اورفتنہ وفسادکاسبب بن جاتاہے۔ جہیز تحفہ کے نام سے ہمارے سماج کاایک لازمی حصہ بن گیاہے، جو دھیرے دھیرے ایک ناسوربنتاجارہاہے ۔اسی جہیز کانتیجہ ہے کہ جب بیٹی جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی ہے تو اسی وقت سے ماں باپ کاچین وسکون چھِن جاتاہے، نیندیں اڑجاتی ہیں ، ہروقت اورہرلمحہ انہیں اپنی بیٹی کی شادی کرانے کی فکردامن گیررہتی ہے، وہ یہی سوچتے ہیں کہ پتہ نہیں میری بیٹی کاکوئی رشتہ آئے گا یا نہیں؟ اگررشتہ آتاہے تو پتہ نہیں جہیز کی کتنی ڈیمانڈ ہوگی؟ اورکیاہم ان کی ڈیمانڈ کوپوراکرسکیں گے، اگرنہیں تو رشتہ منسوخ بھی ہوسکتاہے اوراگررشتہ ہوبھی گیاتوداماداوران کے گھروالوں کے لعن وطعن سے میری بیٹی نہیں بچ سکتی ہے، ممکن ہے کہ محض اس بناء پر میری نورنظرکو طلاق دے دی جائے اوراس کے ساتھ وہ رویہ اپنایاجائے کہ وہ از خودخلع لینے پر مجبورہوجائے یااپنی زندگی سے ہاتھ دھوبیٹھے، یہ ایسی فکر ہے جو ماں باپ کو چین سے سونے نہیں دیتی ہے۔جہیز دینا بری بات نہیں، والدین اپنی حیثیت و استطاعت کے مطابق جو اپنی بیٹی کو دے سکتے ہیں دیتے ہیں اور وہی لڑکے والوں کو قبول بھی کرنا چاہیے۔ جہیز کو لعنت اس لیے کہا جاتا ہے کہ اکثر لڑکے والے باقاعدہ جہیز کا مطالبہ کرتے تھے جو غیر اخلاقی، انتہائی نامناسب اور بہت بری بات ہے۔ بہت سے خاندان لڑکی والوں سے جہیز میں گاڑی، موٹرسائیکل یا قیمتی اشیاء کی ڈیمانڈ کرتے ہیں یہ جانتے ہوئے بھی کہ لڑکی والوں کی معاشی حیثیت کمزور ہے اور پھر رشتوں کی خاطر لڑکی کے بھائی یا والد لڑکے والوں کے مطالبات پورا کرنے کی کوششوں میں لگ جاتے ہیں۔ لڑکی کی پیدائش جو کہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خوش بختی کی علامت ہے۔ اس کو اس مطالبے نے بدبختی میں تبدیل کر دیا ہے۔
میرا لڑکیوں کو مشورہ ہے کہ جہاں سے جہیز کا مطالبہ ہو وہاں شادی نہ کریں، کیونکہ جو لوگ گاڑی، فریج، اے سی دیکھتے ہیں وہ لوگ رشتوں کی قدر نہیں کرتے اور نہ ہی ایسے لوگوں کے نزدیک رشتوں کی کوئی اہمیت ہوتی ہے۔ رشتہ وہی کریں جہاں آپ کی قدر ہو، ناکہ آپ کے جہیز کی۔میں حیران ہوں کہ ایک باپ اپنی بیٹی اپنے جگر کا ٹکڑا کسی کو سونپ رہا ہوتا ہے جو ایک باپ کی کل کائنات ہوتی ہے، اس کے باوجود لوگ اسے چیزوں میں تولتے ہیں۔ ایک باپ اپنی زندگی کی انمول دولت اپنی بیٹی تمہارے حوالے کر رہا ہے جو آگے چل کر تمہارا خاندان چلائے گی مگر تم اس کے باوجود گاڑی، فریج، موٹرسائیکل وغیرہ کو اہمیت دیتے ہو؟ افسوس ہے ایسے لوگوں پر اور ایسے لوگوں پر صرف افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔اگرجہیز کی لعنت کا خاتمہ ہو جائے اور شادیاں سستی ہوجائیں تو کئی نوجوان بچیوں کے چہرے ان گنت خدشات سے پاک ہوجائیں گے اور غریب والدین ان داخلی زنجیروں سے آزاد ہو کر اپنے فرائض کو باآسانی ادا کرسکیں گے۔بعض اوقات تو یہاں تک بھی دیکھا گیا ہے کہ جہیز کی آگ شادی کے بعد بھی بجھنے کا نام نہیں لیتی، لڑکی والے شادی کے بعد بھی طرح طرح کے مطالبے کرتے ہیں اور اگر ان کو پورا نہ کیا جائے تو لڑکی کو بار بار لعن طعن اور آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ یہاں تک کہ من مرضی کے مطابق جہیز نہ دینے کی صورت میں لڑکی کو اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑ جاتا ہے۔ دیہات میں تو اکثر و بیشتر دیکھا گیا ہے کہ لڑکی کو زندہ جلا دیا جاتا ہے۔ جہیز کے لین دین کے متعلق اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیتے ہیں تو جہیز کی رسم رقم سے ادا کی جاتی ہے جس میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو یقینا ایک غریب اور متوسط طبقے کے لیے بہت تکلیف دہ ہے، اس کے علاوہ باپ اپنی بیٹی کو زیورات بھی دیتا ہے۔ باقی کی رقم شادی کے بعد قسطوں میں ادا کی جاتی ہے جوکہ غریب طبقے کے لوگوں کے لیے بیحد تکلیف دہ ہوا کرتی ہے۔ آج ہمارا معاشرہ اس طرح کی کئی بیکار رسموں رواج کی برائیوں کی آماجگاہ بنتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے امن و سکون ، انسانیت آپسی الفت و محبت اور بھائی چارگی کی لازوال دولت رخصت ہوتی جا رہی ہے۔رب کی بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم تمام لوگوں کو شریعت مصطفیؐ پر زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔