اردو کے ساتھ مجرمانہ سلوک

0

عبدالماجد نظامی

اردو زبان صدیوں سے اس ملک کی تاریخ، تہذیب اور روایت کی امین اور محافظ رہی ہے۔ یہ زبان اسی سرزمین پر پیدا ہوئی، اسی کی وسیع فضا میں پروان چڑھی اور یہیں اس کی ترقی کے تمام مدارج طے ہوئے۔ کبھی اس کو برج بھاشا تو کبھی دہلوی تو کبھی دکنی و ہندوی و ہندوستانی جیسے نام دیے گئے لیکن جب یہ اپنی ارتقاء کی آخری منزل تک پہنچی تو اس کے لیے اردو جیسا خوبصورت نام تجویز کیا گیا اور اسی سے اب وہ چہار دانگ عالم میں مشہور ہے۔ اردو ہمیشہ سے اپنی وسعت کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں اور تہذیبوں سے استفادہ کرنے اور دوسری زبانوں کے الفاظ کو اپنے دامن میں سمیٹ کر اسے اپنے رنگ میں ڈھال لینے کی دلچسپ تاریخ رکھتی ہے۔ یہ کبھی اس ملک میں بسنے والے ہندو، مسلمان اور سکھ سب کی زبان یکساں طور پر سمجھی جاتی تھی۔ تمام اہل علم و فن اس زبان میں طبع آزمائی کو اپنے لیے باعث عز و ناز اور سراپا افتخار سمجھتے تھے۔ میرؔ و دردؔ ہوں یا غالبؔ و اقبالؔ سب کی نظر میں اپنی عظمت کے لیے یہ معروف رہی ہے، یہ تو سبھی جانتے ہیں لیکن یہ بھی اس کا امتیاز ہے کہ نسیمؔ و چکبستؔ و فراقؔ کی آنکھوں کا نور بھی اردو زبان ہی رہی ہے۔ اردو کی جو اہمیت بحیثیت زبان و ثقافت رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ بابائے قوم مہاتما گاندھی بھی اس حد تک اردو لکھنا پڑھنا جانتے تھے کہ اپنے احباب کے ساتھ اردو میں مراسلوں کا تبادلہ کرسکیں۔ گویا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو ہماری تہذیب و تمدن کی ایسی علامت رہی ہے جس کا جلوہ شرفاء و علماء سے لے کر عدالت و کچہری اور عام مجلسوں تک میں یکساں طور سے نظر آتا رہا ہے۔ اردو بولنا اور لکھنا کبھی علم و معرفت کا معیار قرار پاتا تھا۔ آج یہ جگہ انگریزی زبان نے لے لی ہے۔ یہ اس ملک کی بد قسمتی ہی کہلائے گی کہ جب اس کی تقسیم1947میں ہوئی تو صرف سرحد کی لکیریں کھینچ کر زمین اور ندی نالے ہی بانٹے نہیں گئے بلکہ دھڑکتے انسانی دل اور مشترک تہذیب و ثقافت کے بھی دو ٹکڑے ہوگئے۔ اردو پاکستان کی قومی زبان قرار پائی جس کا رسم الخط نستعلیق ہے جبکہ ہندی زبان کو جسے ہندوستان میں دیوناگری رسم الخط میں لکھا جاتا ہے، اس کو یہاں سرکاری حمایت میسر آگئی۔ یہ پہلا موقع تھا جب اردو کو ایک اجنبی زبان کی طرح دیکھا جانے لگا۔ اسکولوں کے نصابوں میں اگر شامل بھی کی گئی تو اردو کتابوں کی فراہمی اور ماہر اساتذہ کی بحالی پر توجہ نہیں دی گئی۔ کوشش ہمیشہ کی گئی کہ سیکولر سبجیکٹس کے ساتھ اردو کو پڑھانے کے بجائے اسے صرف ایک خاص طبقہ کی زبان کے طور پر محدود کر دیا گیا۔ ہندوستان کی تقسیم کے بعد ملکی سیاست کا جو خاکہ تیار ہوا، اس میں اردو کو وہ مقام کبھی ملا ہی نہیں جس کی وہ حق دار تھی۔ ہندوتو کی سیاست کے زور پکڑنے کے بعد تو یہ معاملہ مزید سنگین ہوگیا۔ پالیسی سازوں کی توجہ اس پر خاص طور سے مرکوز رہنے لگی کہ اس کے پر کتر دیے جائیں تاکہ وہ اپنی پرواز میں زیادہ اونچائی تک نہ جا سکے۔ اردو کے ساتھ گویا معاندانہ رویہ اپنانا ایک خاص آئیڈیالوجی کا مقصد بن گیا۔ اس کا سلسلہ گرچہ بہت طویل ہے اور اس کی تاریخ بھی بہت قدیم، جس کا تذکرہ کرنا نہ تو اس مختصر مضمون میں ممکن ہے اور نہ ہی مطلوب۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کی تاریخ پر ہی اگر نظر ڈالیں تو صاف پتہ چل جائے گا کہ اردو کو زندگی اور سماج کے دائرہ سے کاٹنے کی کیسی منظم کوششیں جاری رکھی گئی ہیں۔ آخر اردو کے تئیں روا رکھے جانے والے معاندانہ رویہ کا ہی تو یہ بھی ایک پہلو تھا کہ2017میں یوپی کے اندر مسلم ممبران اسمبلی کو اردو میں حلف لینے کی اجازت تک نہیں دی گئی جب کہ وہ عوام کے ذریعے منتخب ہوکر آئے تھے۔ اس کے برعکس سنسکرت اور ہندی میں حلف لینے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ اس کو میڈیا میں سراہا گیا۔ اسی طرح پالیسی کی سطح پر اردو کو ایک خاص مذہبی طبقہ سے جوڑنے اور وہیں تک اس کا دائرہ محدود رکھنے کی کوشش کا ایک دوسرا پہلو2020کے آغاز میں تب سامنے آیا جب اقلیتی امور کے وزیر نے یہ مشورہ پیش کر دیا کہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کو وزارت تعلیم سے ہٹاکر اقلیتی امور کی وزارت میں منتقل کر دیا جائے۔ وزیر موصوف کی دلیل یہ تھی کہ اقلیتی امور کی وزارت اردو کا زیادہ بہتر دھیان رکھے گی۔ اس کے بعد وزارت عظمیٰ کے دفتر سے یہ خبر آئی کہ اس مسئلہ پر غور کیا جا رہا ہے کہ وزیر موصوف کے مشورہ کو نافذ کر دیا جائے۔ اس موقع پر انگریزی اخبار ’دی ٹیلیگراف‘ نے زور دار اداریہ لکھا تھا اور اس کے پیچھے کارفرما ذہنیت کی پول کھول کر رکھ دی تھی۔ اداریہ میں بجا طور پر کہا گیا تھا کہ اس اقدام کا مقصد بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اردو زبان کی اہمیت کو گھٹا کر اس کو بس اقلیتی طبقہ کی زبان بنا دینے پر سارا زور صرف کیا جا رہا ہے اور اسی لیے اردو کو شیڈولڈ زبانوں کی فہرست سے نکالنا چاہتے ہیں۔ اداریہ نے واضح کیا کہ اس بدلاؤ کے پیچھے جو فکر کارفرما ہے وہ غلط فہمی پر مبنی ہے۔ سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے اور اسی لیے وزارت تعلیم کے اصل دھارے سے نکال کر اقلیتی امور کی وزارت میں منتقل کرکے یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اردو بولنے والوں کو ان کی اصل جگہ پر پہنچا دیا گیا ہے۔ یہ پیغام گرچہ واضح الفاظ میں نہیں دیا جا رہا ہے لیکن بلاواسطہ طور پر اردو بولنے والوں سے یہی کہا جا رہا ہے کہ آپ کی زبان کبھی قومی حیثیت اختیار نہیں کرسکتی ہے اور اس کا صرف اقلیتی وجود برداشت کیا جاسکتا ہے۔ یہ سب کچھ اردو کے ساتھ چلتا رہا لیکن اس کے باوجود اردو پروان چڑھتی رہی اور اس کے ساتھ اعتناء کرنے والے ہزاروں دیوانے اس کو سنبھالتے، بڑھاتے اور سنوارتے رہے ہیں۔ سرکاری دائروں میں جب جب اس کے ساتھ بے اعتنائی برتی گئی تب تب عام اہل علم و فن کے حلقوں میں اس کو ایسی پذیرائی نصیب ہوئی کہ اس کو کبھی زوال کا منھ نہیں دیکھنا پڑا۔ البتہ اب ایسی مثالیں سامنے آنے لگی ہیں کہ جن طبقوں نے اردو کے ساتھ روایتی طور سے اپنا تعلق ظاہر کیا ہے اور اس کو سینہ سے لگاکر اس مشترک تہذیبی اثاثہ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے جس سے اس ملک کی اساس قائم ہے، اب وہ طبقے بھی اپنی روز مرہ کی زندگی میں اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم پر اردو کے بجائے ہندی کو ترجیح دینے لگے ہیں۔ وہی خط نستعلیق یا فارسی رسم الخط جو اردو کا امتیازی وصف رہا ہے اور جس کو بدل کر دیوناگری کرنے کے لیے اردو مخالف طاقتوں نے لگاتار تحریکیں چلائی ہیں اور آج بھی اس پر زور دینے سے نہیں کتراتیں، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ان تحریکوں سے ایسے لوگ بھی متاثر ہونے لگے ہیں جن کی بنیاد اردو سے قائم ہے۔ شاید ہم جس عہد میں جی رہے ہیں اس کی عکاسی زندگی اور سماج کے ہر دائرہ میں ہو رہی ہے۔ اب وہ مضبوط کیرکٹر کے لوگ معدوم ہوتے جا رہے ہیں جو اصولوں کی حفاظت کرنے کے لیے معروف تھے اور جن کی فکری صلابت اور عملی جدوجہد کی بدولت تہذیب و تمدن کی عمارتیں قائم رہی ہیں اور نسلوں کی آبیاری کا ہنر دنیا نے جن سے سیکھا ہے۔ یہ بات بہت خطرناک معلوم ہوتی ہے کہ اردو کے ساتھ بے اعتنائی کے جرم میں ان طبقوں، شخصیات اور اداروں کا نام بھی شامل ہوجائے جن سے یہ امید وابستہ ہے کہ وہ ہر حال میں اس تاریخ اور روایت کے محافظ ہوں گے جن کو ختم کرنے کے درپے سرکاری مشینری برسوں سے رہی ہے۔
آج کل سوشل میڈیا پر ایک ٹرینڈ سا بن گیا ہے کہ خالص اردو والے علماء حضرات بھی یاجو لوگ اُردو کے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے تھے اور کل تک اُردو نہ لکھنے والوں کو تنقید کا نشانہ بناتے نہ تھکتے تھے وہ بھی اب ہندی میں دھڑلے سے لکھ رہے ہیں، اگر اس طرزعمل کو فوری بدلا نہیں گیا تو پھر کسی باہری سازش یا اُردو مخالف سرکاری پالیسی کی مزید ضرورت نہیں رہ جائے گی بلکہ ہم اہل اُردو ہی ازخود اُردو کا جنازہ اٹھائے ہوں گے۔
ہمیں یہ کوشش کرنی ہوگی کہ آئندہ نسل تک اردو زبان و تہذیب کا اثاثہ اسی تازگی کے ساتھ منتقل ہو جس تازگی کے ساتھ ہمارے اسلاف نے اس کو ہمارے حوالہ کیا تھا۔ اگر ہم اس ذمہ داری کی تکمیل میں ناکام ہو جاتے ہیں تو یہ ایک ناقابل معافی جرم قرار پائے گا اور اس کے نتائج بہت دور رس ہوں گے۔
(مضمون نگار روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر ہیں)
[email protected]il.com