جموں و کشمیر پر عدالت کے سوالات

0

جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والی آئین کی دفعہ 370 منسوخ کیے جانے کے چار برس بعد ہی ملک کی عدالت عظمیٰ نے یہ سوال اٹھادیا ہے کہ کیا مرکز کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی ریاست کو مرکزی علاقہ یا کسی مرکزی علاقہ کو ریاست میں تبدیل کرسکتی ہے؟عدالت نے یہ سوال دفعہ370کی منسوخی کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کے دوران اٹھایا۔ چیف جسٹس آف انڈیا ڈی وائی چندرچوڑ کی سربراہی میں ایک آئینی بنچ اس معاملہ کی سماعت کررہی ہے، جس کا کہنا ہے کہ سابقہ ریاست ’مستقل طور پر مرکز کے زیر انتظام علاقہ‘ نہیں ہوسکتی ہے۔ان درخواستوں پر سماعت کا آج بارہواں دن تھا جب عدالت نے سالیسٹرجنرل سے یہ استفسار کیا کہ وہ قانون دکھائیں کہ انہیں ریاست کی تنظیم نو کا اختیار کہاں سے ملانیز صرف مرکز کے زیر انتظام ایک ہی علاقہ کیوں نہیں رہنے دیا؟ جموں و کشمیر اور لداخ کو دو کیوں بنایا؟ عدالت نے مرکزی حکومت سے کہا کہ وہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کیلئے ’ٹائم لائن‘ طے کرے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے جموں و کشمیر میں جمہوریت کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا۔یادرہے کہ جموں و کشمیر کو ہندوستان کی آئین کی دفعہ 370 کے تحت خصوصی حیثیت حاصل تھی لیکن 2019 میں انتخابات سے قبل مودی حکومت نے اس درجہ کو ختم کر تے ہوئے جموں اور کشمیر کو دو مرکز کے زیر انتظام علاقوں – جموں و کشمیر اور لداخ میں تقسیم کیاتھا، اس وقت حکومت نے کہا تھا کہ جب حالات معمول پر آئیں گے تو ریاست کا درجہ بحال کیا جائے گا۔سپریم کورٹ کی آئینی بنچ نے جموں و کشمیر میں قومی سلامتی کے خدشات کو تسلیم کیا تاہم خطے میں جمہوریت کو واپس لانے کی اہمیت کو یاد دلایا۔ چیف جسٹس نے سالیسٹر جنرل سے براہ راست سوال بھی کردیا کہ حکومت جموں و کشمیر میں انتخاب کب کرارہی ہے ؟
جموں و کشمیر ہندوستان کیلئے ہمیشہ سے ہی ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ راجہ ہری سنگھ کے ذریعہ1847میں انگریزوں سے خریدنے کے بعدسے آج تک یہ پورا خطہ بدامنی اور سیاسی ابتری کا شکار رہا ہے۔ اس کا آغاز مہاراجہ ہری سنگھ کی متعصبانہ پالیسوں سے ہوا تھا اور نتیجہ میں ریاست کی پہلی سیاسی جماعت نیشنل کانفرنس وجود میں آئی تھی۔تقسیم ہند کے بعد سے صورتحال انتہائی سنگین ہوئی۔شیخ عبداللہ کی کوششوں سے اس ریاست کیلئے دفعہ 370 کے تحت خصوصی اختیارات تسلیم کیے گئے، دہلی معاہدہ ہوا، جموں و کشمیر کیلئے علیحدہ آئین منظور کیاگیا، لیکن متعصبانہ پالیسیوں کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہواجس کے نتیجہ میں1990سے مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئیں اور پھر تشدداور ملی ٹینسی کا آغاز ہوا،جس کو بنیاد بناکر مرکزکی مودی حکومت نے اچانک دفعہ370منسوخ کردی اور یہ دعویٰ کیا کہ اس سے ریاست میں صورتحال کو بہتر بنانے اور امن بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ لیکن آج چاربرس گزر گئے ہیں، صورتحال میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی کہیں نظرنہیں آرہی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ملی ٹینسی کے واقعات تیزی سے کم ہوئے ہیں لیکن اعداد و شمار سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔ 5اگست 2019کو اس ریاست کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سے اب تک 138بم دھماکے ہوئے، 654دہشت گردی کے واقعات،118عام شہریوں کی ہلاکت اور127سیکورٹی عملہ کی موت ہوچکی ہے۔یہ درست ہے کہ ان واقعات کا تناسب پہلے کی نسبت15فیصد کم ہے لیکن 4برسوں میں دہشت گردی ختم کرکے امن بحالی کا ہدف کافی دور نظر آرہا ہے۔ حکومت بھلے ہی اس کو کامیابی سمجھ رہی ہو لیکن یہ صریحاً ناکامی ہے۔ جموں و کشمیر کی پیچیدہ اور سنگین صورتحال کو ڈنڈے کے زور پر نہیں بدلا جاسکتا ہے۔ انتخابات کے مسلسل وعدے کے باوجود مرکزی حکومت اس سمت اب تک کوئی پیش رفت نہیں کرپائی ہے۔ گزشتہ پانچ برسوں سے جموں و کشمیر میں منتخب ادارے نہیں اور پالیسی سازی میں عوامی شرکت نہ ہونے کی وجہ سے افراتفری، بے چینی، عدم استحکام اور عدم اطمینان کی صورت حال ہے۔
اس پس منظر میں عدالت نے جو سوالات اٹھائے، وہ ملک کے ہرشہری کے ذہن میں اٹھتے ہیں، اب یہ حکومت کی لازمی ذمہ داری بن گئی ہے کہ وہ عدالت کے سوالات کو سنجیدگی سے لے اوران کے جوابات دے کہ مرکزی علاقہ کی مدت کتنی ہوگی؟ جموں و کشمیر کو دوبارہ ریاست کا درجہ دینے میں کیاموانع ہیں اورا نتخابات کیوں نہیں کرائے جارے ہیں؟ جمہوریت کے تحفظ و بقا کا دار و مدار انتخابات پر ہوتا ہے۔ انتخابات کا تسلسل جمہوری نظام حکومت میں عوام کو اپنی حصہ داری اور شراکت کا احساس کراتا ہے۔پانچ برس گزرچکے ہیں لیکن جموں و کشمیر میں انتخابات نہیں ہوئے، 5اگست2019سے قبل ایک سال تک اس ریاست میں صدر راج نافذ رہا اور اب چار برسوں سے مرکزکی براہ راست حکمرانی ہے، یہ کسی جمہوری ملک کیلئے مستحسن نہیں کہاجاسکتا ہے۔
[email protected]