آئین ایک جملہ نہیں ہے

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

نائب صدر جمہوریہ جگدیپ دھن کھڑ کے بیان پر ہمارے اپوزیشن لیڈر بری طرح بپھر گئے ہیں۔ کانگریس لیڈر انہیں بی جے پی حکومت کا بھونپو بتارہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انہیں نائب صدر کا عہدہ ممتا کی مخالفت کے نتیجے میں حاصل ہوا ہے اور کچھ اپوزیشن لیڈر انہیں ایمرجنسی کی ماں اندرا گاندھی کا وارث قرار دے رہے ہیں۔ جس طرح اندرا گاندھی نے1975میں سپریم کورٹ کے وقار کو تہس نہس کیا تھا، ویسا ہی الزام دھن کھڑ پر عائد کیا جا رہا ہے۔ ایسے الزامات لگانے والے یہ بتائیں کہ اندراگاندھی کی طرح دھن کھڑ کو کیا کسی عدالت نے کٹہرے میں کھڑا کردیا ہے؟ وہ اپنا کوئی مقدمہ تو سپریم کورٹ میں نہیں لڑ رہے ہیں۔ وہ خود ایک باصلاحیت وکیل رہے ہیں۔ وہ ایک صاف گو مقرر بھی ہیں۔ انہوں نے اگر پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس میں پارلیمنٹ کی بالادستی پر اپنے دوٹوک خیالات کا اظہار کردیا تو یہ ان کا حق ہے۔ اگر وہ غلط ہیں تو آپ اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے مضبوط دلائل کیوں نہیں دیتے؟ آپ دلائل پیش کرنے کے بجائے الفاظ کی تلوار کیوں چلارہے ہیں؟ آئین کے تقدس اور منظوری پر دھن کھڑ نے کوئی سوالیہ نشان نہیں لگایا ہے۔ انہوں نے جو بنیادی سوال اٹھایا ہے وہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ سپریم ہے یا پارلیمنٹ سپریم ہے؟ ملک کی تمام عدالتوں میں تو سپریم کورٹ اعلیٰ ترین ہے۔ اس میں کسی کو کوئی شک نہیں ہے۔ لیکن وہ پارلیمنٹ سے بھی اونچا کیسے ہو گیا؟ پارلیمنٹ چاہے تو ایک ہی جھٹکے میں تمام ججوں کو مواخذہ کر کے عہدہ سے برطرف کرسکتی ہے۔ آئین نے ہی اسے یہ حق دیا ہوا ہے۔ جہاں تک آئین کے ’بنیادی ڈھانچے‘کا سوال ہے، کس سیکشن میں اسے انمٹ، ٹھوس اور ناقابل تغیر لکھا ہے؟ مسٹر وسنت ساٹھے اور میں نے تو تقریباً 30سال پہلے ملک میں صدر راج لانے کی مہم بھی شروع کی تھی۔ میں تو آج کل انتخابی نظام کا متبادل تلاش کر رہا ہوں۔ آپ بنیادی ڈھانچے پر آنسو بہا رہے ہیں، پارلیمنٹ چاہے تو پورے آئین کو منسوخ کر کے نیا آئین بنا سکتی ہے۔ کیا ہمارا آئین سپریم کورٹ نے بنا کر پارلیمنٹ کے حوالے کیا ہے؟ سپریم کورٹ تو اپنی عدالتوں کے اور اپنے ہی کئی فیصلوں کو منسوخ کرتا رہتا ہے۔ اس کے اپنے فیصلوں میں تمام ججوں کا اتفاق نہیں ہوتا ہے۔ ’بنیادی ڈھانچہ‘ کے فیصلے میں بھی سات جج ایک طرف اور چھ جج دوسری طرف تھے۔ ہندوستانی آئین کا بنیادی ڈھانچہ کیا ہے، اسے صرف عدالت کو طے کرنے کا حق کس نے دیا ہے؟ اگر پارلیمنٹ چاہے تو وہ ایک دم نیا آئین لاسکتی ہے، جیسا کہ ہمارے بہت سے پڑوسی ممالک میں ہوا ہے۔ ہٹلر کی موت کے بعد جرمنی نے ڈر کے مارے جو التزام اپنے آئین کے لیے کیا تھا، اس کی آنکھیں بند کرکے نقل ہمارے لیڈر اور جج کیوں کریں؟ ہمارے ملک میں ہٹلری چل ہی نہیں سکتی اور ہمارا آئین اتنا لچیلا ہے کہ گزشتہ سات دہائیوں میں اس میں تقریباً سواسو ترامیم کی جا چکی ہیں۔ اسی لیے اتنے اتار چڑھاؤ کے باوجود وہ ابھی تک برقرار ہے لیکن آئین آئین ہے، کوئی جملہ نہیں ہے۔
(مضمون نگار ہندوستان کی خارجہ پالیسی کونسل کے چیئرمین ہیں)
[email protected]