راجیہ سبھا میں ہاتھا پائی کا معاملہ: برسراقتدار اور اپوزیشن آمنے سامنے

0
The Economic Times

نئی دہلی (ایجنسیاں) : ہنگامہ کے سبب راجیہ سبھا کی کارروائی غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے ایک دن بعد یعنی جمعرات کو برسراقتداراور اپوزیشن کے درمیان الزام اور جوابی الزام کا دور شروع ہوگیاہے۔ اس درمیان خبر یہ بھی ہے کہ اب ایوان میں تعینات خاتون سیکورٹی اہلکار نے اپنی شکایت راجیہ سبھا سکریٹریٹ تک پہنچائی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ 2خاتون ارکان پارلیمنٹ نے انہیں پکڑ کر گھسیٹا تھا۔ اس درمیان اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے کسان مخالف زراعت کے 3 قوانین کی منسوخی اور کئی دیگر مسائل کے خلاف احتجاج کیا۔تقریباً 15اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ ہاؤس سے وجے چوک تک مارچ کیا۔ مارچ کی قیادت کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے کی۔ ڈی ایم کے لیڈر تروچی شیوا ، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے ، راشٹریہ جنتا دل کے منوج کمار جھا ، شیو سینا کے سنجے راؤت اور دیگر رہنما مارچ میں شامل ہوئے ۔مسٹر گاندھی نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران جمہوریت کا قتل کیا گیا۔ اپوزیشن جماعت پیگاسس جاسوسی اسکینڈل، کسانوں کے مسائل اور کئی دیگر مسائل پر بات کرنا چاہتی تھی، لیکن حکومت نے اس کی اجازت نہیں دی۔ اپوزیشن جماعت پیگاسس اسکینڈل پر جامع بحث چاہتی تھی، لیکن حکومت نے ایسا نہیں ہونے دیا۔مسٹر راؤت نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران اپوزیشن جماعتوں کے قائدین عوام کے مفاد کے بارے میں بات کرنا چاہتے تھے۔ یہ پارلیمنٹ کا اجلاس نہیں تھا، بلکہ اس دوران حکومت نے جمہوریت کا قتل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کل مارشل کے لباس میں کچھ نجی افراد نے راجیہ سبھا میں خواتین ارکان پارلیمنٹ پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایسا لگا جیسے مارشل لاء لگا دیا گیا ہو۔ ڈی ایم کے کے تروچی شیوا نے کہا کہ انہوں نے اپنے پارلیمانی کیریئر میں 2 دہائیوں میں مانسون سیشن جیسے واقعات کبھی نہیں دیکھے۔ اپوزیشن جنرل انشورنس بل پر تفصیلی بحث چاہتا تھا اور اسے تفصیلی جائزہ کیلئے سلیکٹ کمیٹی کو بھیجا جانا چاہیے تھا، لیکن اسے انتشار کے درمیان منظور کر لیا گیا۔نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے پرفل پٹیل نے کہا کہ یہ مانسون سیشن شرمناک سیشن تھا۔ ان کے لیڈر شرد پوار نے اپنی پارلیمانی زندگی میں ایسے شرمناک واقعات کبھی نہیں دیکھے تھے۔ جمہوریت میں اپوزیشن کی بہت اہمیت ہوتی ہے، لیکن حکومت نے ایوان چلانے میں تعاون نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر پوار کو کل کے واقعات سے بہت دکھ ہوا ہے۔آر جے ڈی کے منوج کمار جھا نے کہا کہ حکومت نے مانسون سیشن کے دوران جمہوریت کا قتل کیا ہے ۔ سماج وادی پارٹی کے ایک رکن اسمبلی نے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے جمہوریت کا قتل کیا ہے ۔ ان کی پارٹی اپوزیشن کے ساتھ ہے ۔ یہ ملک 135کروڑ لوگوں کا ہے ۔
دوسری جانب بی جے پی نے آج کانگریس اور اپوزیشن پارٹیوں پرالزام عائد کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں سڑک کو لے آئے اور ملک اور جمہوریت کو شرمسار کیا۔بی جے پی کے ترجمان سمبت پاترا نے یہاں کہا کہ یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ کانگریس اور دیگر اپوزیشن پارٹیوں نے پارلیمنٹ کے اندر سڑکوں پر احتجاج کی طرح برتاؤ کیا۔ اس سے نہ صرف ملک بلکہ جمہوریت کو بھی شرمندگی ہوئی ہے۔پاترا نے کہا کہ نہ صرف نائب صدر جمہوریہ ایم ونکیا نائیڈو، بلکہ جمہوریت بھی ایوان بالا میں ہونے والے واقعات پر روئی۔ اپوزیشن نے پورا سیشن برباد کر دیا اور یہ انتشار کا عروج ہے ۔وہیں راجیہ سبھا کے چیئرمین ایم وینکیا نائیڈو اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کا خیال ہے کہ اراکین پارلیمان کا غیر مہذب رویہ برداشت نہیں کیا جانا چاہیے اور اس پر مناسب کارروائی کی جانی چاہیے ۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS