شہریت قانون پر خواتین مظاہرین کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں

0

اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو مختلف طریقے سے پریشان کرنے، ان کے گھروں پر دباؤ ڈالنے اور ایف آئی آر کے باوجود خواتین نے گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کیا، اور
ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ متعدد اہم شخصیات اب تک وہاں پہنچ چکی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور
علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا، جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اسی کے ساتھ سنبھل میں خواتین کا
زبردست مظاہرہ ہورہاہے، اور روزا نہ سات آٹھ ہزار خواتین اس سیاہ قانون کے خلاف  رات دن مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی
پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے۔خواتین کا یہ مظاہرہ اترپردیش کے کئی شہروں میں پھیل رہا ہے۔ 
اس کے علاوہ مدھیہ پردیش بھی بڑا شاہین باغ بن چکا ہے۔ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس اور اندور میں خواتین بڑی تعداد میں مظاہرہ کررہی ہیں۔ اندور میں بھی خواتین کو پولیس
نے ہٹانے کی کوشش کی تھی لیکن پھر ہزاروں کی تعداد میں خواتین مظاہرہ گاہ پر پہنچ گئیں، اور اس طرح پولیس کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ اس کے علاوہ اندور اور مدھیہ پردیش میں کئی جگہ
خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ 
اس وقت پورا ملک شاہین باغ بن چکا ہے مجموعی طور پر اس وقت دو ڈھائی جگہوں پر خواتین کا مظاہرہ جاری رہے۔ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر
روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے۔ اور یہاں شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہارکی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ بہار میں
درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ ضلع گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے یہ دہلی کے بعد
دوسرا شاہین باغ ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور،
دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا
علاقے میں زبردست مظاہرے ہور ہے ہیں، اور بہت سے ہندو نوجوان نہ صرف اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے
رانی باغ خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے جس میں اہم لوگ خطاب کرنے پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بہار میں یہ مظاہرہ پنچایت کی سطح پر بھی ہورہا ہے۔ 
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم
پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شاہی عیدگاہ قریش نگر،حضرت نظام الدین،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون
نگر،پٹنہ’۔شانتی باغ گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مغلا خار انصارنگر نوادہ
بہار،۔مدھوبنی بہار،۔سیتامڑھی  بہار،۔سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ
مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی
بنگال،۔اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک  الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور
راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر
مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔اجمیر میں بھی خواتین کا احتجاج شروع ہوچکا ہے کوٹہ میں احتجاج جاری ہے اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے گھر کے باہر بھی مظاہرہ ہورہا ہے۔ اسی
کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔اس کے ساتھ مختلف علاقوں اور حصوں میں خواتین مظاہرہ
کررہی ہیں۔
 

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS