چیف جسٹس از خود نوٹس لے کر واضح کریں کہ فیصلے کا کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا، تیستا ، آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار

0

نئی دہلی (ایجنسیاں) : سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات سے متعلق ایس آئی ٹی کی رپورٹ کے خلاف داخل درخواست کو خارج کر دیا۔ یہ عرضی کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری نے داخل کی تھی۔ سپریم کورٹ کی جانب سے عرضی خارج کیے جانے کے بعد 300 سے زائد وکلاء اورایکٹوسٹوںنے چیف جسٹس آف انڈیا کو خط لکھا ہے۔ خط میں سی جے آئی سے کہا گیا ہے کہ وہ از خود نوٹس لے کرواضح کریں کہ ذکیہ جعفری کے فیصلے کا کوئی منفی اثرنہیں پڑے گا۔ واضح رہے کہ ذکیہ جعفری کی خارج کی گئی درخواست میں گجرات فسادات پر ایس آئی ٹی کی کلوزر رپورٹ کو چیلنج کیا گیا تھا۔ اس کلوزر رپورٹ میں گجرات کے اس وقت کے وزیر اعلی نریندر مودی سمیت 63 دیگر عہدیداروں کو کلین چٹ دی گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے رپورٹ کوصحیح مان۔وہیں چیف جسٹس کو لکھے خط میں وکلاء اورایکٹوسٹوں نے تیستا سیتلواڑ، سابق اے ڈی جی پی آر بی سری کمار اور سنجیو بھٹ کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ذکیہ جعفری کیس میں سپریم کورٹ کے 24 جون 2022 کے فیصلے کی بنیاد پر گرفتاری کا جواز پیشکیاجارہاہے۔ ہمیں اس پر اپنا درد بیان کرنا چاہیے۔مکتوبمیں کہا گیا ہے کہ کسی شخص کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے مناسب نوٹس دینا ہوتاہے ، جس کے بعد کارروائی شروع کی جاسکتی ہے۔ لیکن عدالت نے اس معاملے میں کسی کو جھوٹی گواہی اور توہین کا کوئی نوٹس جاری نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو کوئی وارننگ دی ہے، مکتوب میں کہا گیا ہے کہ جس طرح کی کارروائی کی گئی ہے ،اس سے ایسالگتا ہے کہ اگر درخواست گزار یا گواہ عدالت جائے تو درخواست مسترد ہونے کی صورت میں اسے جیل جانے کا خطرہ بنارہے گا۔ خط میں ایمرجنسی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی کے دوران بھی سپریم کورٹ نے ایسے لوگوں کو جیل نہیں بھیجا تھا، جنہوں نے قانونی طریقہ کار پر عمل کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔واضح رہے کہ اس خط میں سینئر ایڈووکیٹ اندرا جے سنگھ، ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے، انس تنویر، فضیل احمد ایوبی کے ساتھ سینئر ایڈووکیٹ چندر ادے سنگھ، آنند گروور، آونی بنسل اور ہندوستانی مورخ رام چندر گوہا سمیت کئی دوسرے لوگوں کے دستخط ہیں۔