طب یونانی کی شاندار تاریخ کے ابواب

0

ڈاکٹر اخلاق احمد
بی آئی ایم ایس ( دہلی)

دیسی طریقہ علاج یا یوں کہیں کہ یونانی وآیورویدک طریقہ علاجِ ایک بہترین طریقہ علاج ہے بہ شرطیکہ معالج فن طِب پر اپنی مضبوط گرفت رکھتا ہو۔
میدان طب یونانی میں ایسی بہت نامور شخصیات پیدا ہوئیں جنہوں نے اپنے دور طبابت میں اپنے علمی وعملی کارناموں سے طب کو وہ عرو ج بخشا جس کی مثال ملنی مشکل ہے۔ یہ ہی وجہ تھی کہ انگریزی دورِ حکومت میں رولٹ ایکٹ کا نفاذ کر دیا گیاتھا۔ جس کی رو سے ہندوستان کی بہت سی مصنوعات پر پابندی عائد ہو گئی تھی اور یہاں تک کہ کپڑا بھی مانچسٹر سے آنے لگاتھا۔ اسی ایکٹ کی آڑ لے کر ہندوستان میں چل رہی دیسی طبوں آیوروید اور یونانی پر بھی پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس درمیان انہوں نے ہندوستانی عوام میں اپنے انگریزی طریقہ علاج کو متعارف کروایا، جس کی پریکٹس اُس وقت چند انگریزی دوائوں پر ہی مشتمل تھی۔ حکیم اجمل خان صاحب نے آیوروید و یونانی کے اطباء کو اُن کی پریکٹس کا حق واپس دلانے کے لئے’’آل انڈیا آیورویدک و یونانی طبی کانفرنس‘‘ قائم کی۔ ملک کے مختلف شہروں میں اس تنظیم کے اجلاس منعقد ہوئے اور بالآخر ہندوستانی اطباء کو پریکٹس کرنے کاحق واپس ملا۔
لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ عوام کا یقین طب یونانی پر متزلزل ہو ا ہے جو کہ اب آہستہ آہستہ بحال ہو رہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہم عوام کے اس بڑھتے اعتماد کو کیسے بحال رکھتے ہیں۔
موجودہ دور میں معیاری مفرد و مرکب ادویات کے حصول میں بہت پریشانیاں ہیں دواخانوں کی تعداد میں نمایاں کمی آ رہی ہے۔ جگہ جگہ جو تازہ جڑی بوٹیاں جیسے گلو، کاسنی، مکوہ، گھیکوار اور نیم وغیرہ مل جایا کرتی تھیں وہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا اور اب مریض کی شفا یابی کا انحصار صرف یونانی مرکبات پر ہی رہ گیا ہے۔ میں دہلی کے تاریخی علاقہ مرکز طب بازار بلی ماران کاایک مختصر سا جائزہ پیش کرتا ہوں جس کے بعد آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ گزشتہ سالوں میں یونانی طریقۂ علاج زوال پذیر ہوا یا اُس نے ترقی کی؟

ایک دور تھا جب بلی ماران دہلی ، گلی قاسم جان دہلی اور لال کنواں دہلی وغیرہ مرکز طب ہوا کرتے تھے او ر یہاں ایک سے بڑھ کر ایک قابل طبیب اور ان کے دواخانے موجود تھے۔ مسجد فتح پوری دہلی کے باہر حکیم بھگت موتی رام کا مطب و دواخانہ تھا جہاں موتی جھارہ، خسرہ وغیرہ کے مریض جایا کرتے تھے۔ آگے فراش خانہ دہلی میں بھی حکیم سراج الدین اور لکھنوی حکیم صاحبان کے دواخانے موجود تھے۔ باہر مین بازار لال کنواں پر رودگران کے دونوں جانب ایک طرف حکیم اقبال صاحب کا ہمدم دواخانہ تھا تو دوسری طرف اوپر کمرہ پر حکیم شوقؔ دہلوی کامطب تھا۔ خاندانی طبیب حکیم عبدالجلیل صدیقی دواخانہ پُل بنگش میں مطب کیاکرتے تھے۔ رودگران سے آگے لال کنواں پر ہی حکیم غلام محمد کبریا عُرف بھورے میاں کا قائم کردہ ’’بڑا دواخانہ‘‘ تھا جہاں حکیم محمود سعید مطب کیا کرتے تھے۔ میں نے ’’بڑا دواخانہ‘‘ کا مشروب ’’شربت گل برگ‘‘ کئی مرتبہ پیا بہترین مسکن عطش شربت ہوا کرتا تھا۔ حکیم محمود سعید نے خرابی صحت کی بنا ء پر بڑا دواخانہ شمع( اُردو ماہنامہ) کے مالک حافظ محمد یوسف کو فروخت کر دیا اور پھر کچھ عرصہ بعد ہی ’’شمع (آیورویدک و یونانی) لیبارٹریز‘‘ قائم کی۔ جس کی یونانی مصنوعات اُس دور میں تمام دواخانوں سے بہتر او ر عمدہ تھیں اور اطباء کرام نے انہیں بہت پسند کیااور آج وہ بھی فروخت ہو چکی ہے اور اس جگہ پر مارکیٹ اور فلیٹس بن گئے ہیں اور اس طرح لال کنواں دہلی سے ہمدم دواخانہ، شمع لیباریٹریزوغیرہ ختم ہو چکے ہیں۔ اس کے بعدلال کنواں پر ہمدرد دواخانہ کا مطب قائم رہ گیا ہے۔ گلی قاسم جان میں اگر ہم داخل ہوں تو نیا محلہ میںپروفیسر حکیم محمد کبیر الدین کا دفتر المسیح ہوا کرتا تھا اورکبیر الدین کی تصانیف سے حلقۂ طب یونانی بخوبی واقف ہے اب یہ دفتر بھی ختم ہو گیا۔آگے حکیم محمد الیاس خاں کا قائم کردہ طبی تعلیم کے لئے جامعہ طبیہ قائم تھا جس میں شفاء الملک حکیم عبد الطیف فلسفی، حکیم عبدالجبار ، پروفیسرحکیم ظل الرحمن ، پروفیسر حکیم مظہر سبحان عثمانی وغیرہ قابل اساتذہ کی سرپرستی میں طب یونانی کی تعلیم چل رہی تھی اور فارغین جامعہ طبیہ نہایت اعلیٰ و جلیل القدر عہدوں پر فائز بھی رہے۔ میری معلومات کے مطابق حکیم عبدالحمید حکیم محمد الیاس خاں کے شاگرد رشید تھے۔ یہ جامعہ طبیہ بھی بند ہو گیا۔ اس کے باہر حکیم محمد الیاس خان کادوا خانہ نامی شفاء خانہ تھا وہ بھی ختم ہو گیا۔ آگے گلی مدرسہ عنایت اللہ میں حیدر آباد کے حکیم میر بصیر احمد کی رہائش و مطب تھا وہ بھی نہیںرہا۔ اسی گلی کے باہر پروفیسر حکیم محمد مظہر الدین اجملی کا دواخانہ مجلس اطباء بھی تھا جو اب ختم ہو گیا۔ اسی کے سامنے ہندوستانی دواخانہ دہلی حکومت کی نگرانی میں چل رہا ہے۔ اگرہم باہر نکلیں تو بلی ماران میں چاندنی چوک کی جانب قدیمی دواخانہ، شمسی دواخانہ موجود ہے جبکہ ان سے آگے حکیم نور احمد کا نورانی دواخانہ اور کبریا منزل کے باہر ایک سکھ حکیم کا گوجرال دواخانہ بھی ختم ہو چکا ہے۔
تھوڑا اور بلی ماران میں گھومیں تو گلی قاسم جان کے سامنے شریف منزل ہے جو کہ حکیم محمد اجمل خاں کے جدِّامجد حکیم محمد شریف خاں کے نام کی نسبت سے ہے۔ شریف منزل میں ہی حکیم محمد اجمل خاں کی پیدائش ہوئی تھی اور یہاں خاندانی شریفی کے اطباء کرام کی رہائش اور مطب تھے اور اب اسی شریف منزل میں کمرشیل مارکیٹ بن گئی ہے۔ شریف منزل کے باہر حکیم اجمل خاں کے بھتیجے حکیم محمد ظفر خاں کا ہند دواخانہ تھا۔اوپر کمروں پر دائیاں رہا کرتی تھیں۔ بلیماران کے ہی کٹرہ عالم بیگ میں حکیم محمد عاقل خاںتھے جو کہ دہلی کے مشہور اطباء کرام میں شمار کئے جاتے تھے۔ تھوڑا آگے شفاء الملک حکیم عبدالرشید خاں کا گھر اور مطب تھا ان کا بھی تعلق خاندان شریفی سے تھا۔ ان کے دو صاحبزادے حکیم عبدالرحیم اور ڈاکٹر عبدالعلیم بھی بلی ماران میں مطب کرتے تھے جو کہ اب نہیں رہے۔بارہ دری بلیماران میں حکیم اجمل خاںکے شاگرد رشید حکیم ذکی احمد خاںاور میرے والدحکیم نور احمدبھی سکونت پذیر تھے اور یہیں پر مطب کیا کرتے تھے۔ اگر میں یہاں دہلی کے اور دوسرے علاقوں کا ذکر کروں جو کہ میرے چشم دید ہیں تو یہ عبارت بہت طویل ہو جائے گی۔کیونکہ ابھی بہت کچھ باقی ہے لیکن اُن کا تذکرہ بھی لاحاصل ہے۔
میرا مقصد تو یہ موازنہ کرنا ہے کہ طب یونانی روبہ زوال ہوئی یا عروج پر پہنچی۔ بلی ماران دہلی کو مرکز طب دہلی کی حیثیت حاصل تھی۔ جتنے حکیموں اور دواخانوں کا ذکر کیا ہے وہ سب ختم ہو گئے جب کہ دہلی کے اور علاقوں سے بھی اطباء کے مطب و دواخانے اسی طرح ختم ہو چکے ہیںاور ان کو بحیثیت دوا خانہ یا مطب اُن کی سابقہ شکل میں بحال نہیں کیا جا سکا۔بلکہ وہاں پر دوسری تجارتی سرگرمیوں کی شروعات ہو گئی ہیں۔
یونانی طریقہ علاج کو بڑھاوا دینے کے لئے ہمیں ڈھنگ سے کمر بستہ ہونا پڑے گا یونانی طریقہ علاج کا رونا تو آئے دن ہم سنتے ہیں ، لیکن عملی طور سے نام مٹتا ہی جا رہا ہے ذی شعور عوام کاایک طبقہ یونانی طریقہ علاج کی طرف مائل ضرور ہے لیکن نہ معلوم کیوں وہ یونانی طریقہ علاج سے بہت جلدمایوس ہو جاتے ہیں۔ کچھ فی صد لوگوں کو کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے یونانی طریقۂ علاج پراپنا اظہار اطمینان کیا ہو۔
مضمون کا مقصد سنجیدہ طریقہ سے طب یونانی کی بگڑتی حالت پر غور کرنا اور اس کے احیاء کے لئے کن مؤثراقدامات کی ضرورت ہے اور انہیں بروئے کار لانا ہے۔ ماشاء اللہ طب یونانی کی خیر خواہی کا دم بھرنے والی بہت سی تنظیمیںدیکھنے میں آتی ہیں جوکہ اگر سنجیدہ کوشش کریں تو طب یونانی کو ضرور ضرور اس کا کھویا ہوا وقار اور عزت مل سکتی ہے۔نہ معلوم خواجہ حیدر علی آتشؔنے کس موقعہ کے لئے یہ شعر کہا تھا:
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو صرف اک قطرۂ خوں نکلا
٭٭٭

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS