مدھیہ پردیش میں سیاست کے بدلتے رنگ ڈھنگ

0

پارلیمنٹ کا رواں خصوصی پارلیمانی اجلاس عام انتخابات2024 اور چار ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نقطۂ نظر سے کافی اہمیت کاحامل ہے۔ ہندی بولنے والی دو ریاستوں مدھیہ پردیش اور راجستھان میں منظر نامہ واضح ہوتا جار ہاہے ، راجستھان میں کانگریس کی مدھیہ پردیش میں بی جے پی کی حکومت ہے اور مرکز کی سرکار نے پورے زور وشور کے ساتھ وہاں پر انتخابات کی تیاریاں شروع کردی ہیں۔ اگرچہ بی جے پی میں سخت اختلافات ہیں اور پارٹی کم از کم تین خیموں میں بنٹی ہوئی ہے، جبکہ تاحال صورت حال کانگریس کے لیے مناسب دکھائی دے رہی ہے۔
پارٹی کے اندر اتحاد ہے و دگوجے سنگھ اور کمل ناتھ کے آپس کی ساجھیداری میں پارٹی انتخابات کی تیاریاں کررہی ہیں ، اسی دوران کئی خبریں ایسی آرہی ہیں کہ ایسا لگتاہے کہ کانگریس سے بی جے پی میں جانے والے جیوتی رادتیہ سندھیا پارٹی میں گھبراہٹ محسوس کررہے ہیں ، وہ 22ممبر اسمبلی جو ان کے ساتھ بی جے پی میں گئے تھے اوران کے جانے کی وجہ سے کمل ناتھ سرکار گر گئی تھی۔ آہستہ آہستہ اپنی پرانی پارٹی میں واپس آنے کی کوشش کررہے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی کے کئی اہم لیڈر جو واجپئی اور اڈوانی کے دور میں مدھیہ پردیش میں بی جے پی کو کھڑا کرنے والے تھے، اپنے آپ کو اس خانہ جنگی میں حاشیہ پر محسوس کررہے ہیں۔ پچھلے دنوں سابق اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن نے راہل گاندھی کی تعریف کرکے یہ ظاہر کردیا کہ پارٹی کے اندر بڑے پیمانے پر ناراضگی ہے اور کسی وقت بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ پارلیمنٹ کے رواں خصوصی اجلاس کے دوران جس وقت ملک کی اعلیٰ ترین قیادت موجود تھیں، اس وقت سندھیا نے ایک گگولی پھینک کر بی جے پی کو دفاعی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے، جس وقت پرانے پارلیمنٹ ہائوس کے سینٹرل ہال میں شاندار تاریخی پروگرام جس میں پارلیمنٹ کے تاریخ کو یاد کیا جا رہاتھا، اس وقت سندھیا نے ایوان اقتدار کی صفوں سے اٹھ کر سونیا گاندھی کے قریب میں بیٹھ کر اور مختصر مذاکرہ کرکے تمام سیاسی پنڈتوں کو انگشت بدنداں کردیا۔
سونیا گاندھی جب اپنی نشست پر اکیلے بیٹھی تھیں تو انہوںنے سندھیا سے بات چیت شروع کردی۔ خیال رہے کہ پچھلے دنوں سونیا گاندھی جب مدھیہ پردیش میں جلسوں کو خطاب کررہی تھیں تو انہوںنے سب پر نکتہ چینی کی، مگر ان کے زبان سے سندھیا کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں نکلا۔ سیاسی حلقوں میں اس بات کو محسوس کیا گیا اور ریاست کے کئی اخبارات میں اس پر چرچہ شروع ہوئی۔ یہ چرچہ اس وقت شروع ہورہی تھی جب مدھیہ پردیش میں سندھیا خیمے سے تعلق رکھنے والے کئی بڑے بڑے نام واپس اپنی پرانی تنظیم کانگریس کی طرف جارہے تھے۔ بعض حلقوں میں یہ بھی کہا گیا کہ سندھیا کے وفاداروں کا اتنے بڑے پیمانے پر بی جے پی کو چھوڑنا بڑا معنی خیز ہے۔ مبصرین اس انخلا کے پس پشت سندھیا کی رضا مندی قرار دے رہے تھے۔
مدھیہ پردیش بی جے پی میں اس وقت کئی گروہ بنے ہوئے ہیں،ان کو تین زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ شیوراج بھاجپا، مہاراج بھاجپا اور ناراض بھاجپا ۔ یہ صورت حال بی جے پی کے لیے بڑی پریشان کن ہے۔ بی جے پی قیادت پہلے ہی اعلان کرچکی ہے کہ اسمبلی کا الیکشن شیوراج سنگھ چوہان کی قیادت میں لڑا جائے گا۔
شیوراج سنگھ چوہان تقریباً 18سال سے ریاست کے اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہیں۔ ریاست کے دیگر بی جے پی لیڈروں میں اس بات کو لے کر کافی ملال ہے۔ کئی لیڈر اس صور تحال میں اپنے آپ کو حاشیہ پر محسوس کررہے ہیں اور حالات کو بدلنے کے لیے ان کے اندر کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان کے خلاف ناراض طبقہ روز بروز مضبوط ہوتا جارہاہے، جبکہ سندھیا خاندان کی وفادار بی جے پی قیادت جو کہ کچھ ماہ قبل ہی پارٹی میں آئی ہے اپنے آپ کو الگ تھلگ محسوس کررہی ہے۔ یہ ناراض وہ ممبران اسمبلی ہیں جو سندھیا کے ساتھ جیتے تھے اور انہوںنے بی جے پی کے کئی لیڈروں کو ہرایا تھا۔ آج انہیں لیڈروں کو اقتدار میں دیکھ کر جن کے خلاف انہوںنے الیکشن لڑا تھا ان بھاجپائیوں میں کافی بے چینی ہے۔ یہ بے یارو مددگار گروپ کافی و متنفر اور منحرف دکھائی دے رہا ہے۔ یہ صورتحال بی جے پی کی مرکزی قیادت کو بے چین کیے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی کے اعلیٰ لیڈر اور خود وزیراعظم نریند مودی لگاتار مدھیہ پردیش جارہے ہیں ۔ ادھر بی جے پی کی پرانی لیڈر اوما بھارتی کے بیانات نے بھی پارٹی کے اندر تلاطم پیدا کردیا ہے۔ شیوراج سنگھ چوہان ، اوما بھارتی کو بے دخل کرکے مدھیہ پردیش میں قائدانہ رول میں آئے تھے۔ اب جبکہ حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں اور اب ریاستی یونٹ کو صرف وزیراعظم کی کرشمائی شخصیات کا ہی سہارا ہے۔
ایسے حالات میں جیوتی رادتیہ سندھیا کے لیے مشکلات بڑھتی جارہی ہیں۔ سونیا گاندھی کے قریب بیٹھ کر تعطل ختم کرنے اور برف پنگھلانے جیسے اہم ایشوز کا خدشہ پیدا کرکے سندھیا نے مدھیہ پردیش کی بی جے پی میں کھلبلی پیدا کردی ہے، کیونکہ عین انتخابات کے وقت سندھیا کا پارٹی بدلنا ریاست میں بی جے پی کو بہت سخت صورت حال سے دوچار کرسکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایسے حالات میں بی جے پی کس طرح اس چیلنج کا مقابلہ کرتی ہے۔

سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔ Click 👉 https://bit.ly/followRRS