کناڈا اور چین : کبھی ہم میں تم میں قرار تھا۔۔۔

0

شاہنوازاحمدصدیقی

انڈونیشیا میں جی20-کی سربراہی کانفرنس میں اگرچہ روس کے سربراہ ولادیمیرپتن نے شرکت نہیں کی تھی مگر ان کے حلیف چین کے صدر شی جن پنگ نے بالکل جداگانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے تمام مغربی سربراہان سے ملاقات کی اور اپنے سخت ترین حریف امریکہ جس پر وہ تائیوان کے معاملہ پر زبردست ٹکراؤ کا سامنا کررہاہے، تک سے مذاکرات کرنا اور کشیدگی کو کم کرتادکھائی دیا مگر چین کے صدر شی جن پنگ غیرمتوقع طورپرکناڈا کے نرم گفتار وزیراعظم جسٹن ٹروڈو سے براہ راست بھڑتے ہوئے دکھائی دیے۔ اس واقعہ کی دومنٹ کی ویڈیو نے میڈیا اور سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا، چینی صدر نے انتہائی تلخ لہجہ اور زبان میں جسٹن ٹروڈو کو اس وقت کھری کھوٹی سنادی، جب کناڈائی وزیراعظم اپنے ملک کے امور میں مداخلت کا شکوہ چین کے میڈیا سے کررہے تھے، جس وقت وہ اپنے گھریلو سامعین کے سامنے چین کی دراز دستی یا دراندازی پر تبصرہ کررہے تھے تو اس وقت شی کا وہاں سے گزر ہوا اور انہوں نے ٹروڈو کی بات سن لی تھی۔
بین الاقوامی سطح پر اس واقعہ پر بہت تبصرے ہوئے۔ یوکرین کے تنازع میں اس واقعہ کو کافی اہمیت دی جارہی ہے اور کناڈا نے چین کے رویہ کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت تیزی کے ساتھ اپنی نئی حکمت عملی وضع کی ہے، جس کا مقصد ایسٹ ساؤتھ چائنا(East South China)میں اور اپنے جغرافیائی خطے میں چین کے سیکورٹی اور اقتصادی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
اس حکمت عملی کے مطابق کناڈا بحرالکاہل اور بحرہند کے سمندری اور قرب وجوار کے ممالک کے ساتھ فوجی، تجارتی و اقتصادی تعاون کوبڑھائے گا۔ چین کے اثرات کو محدود کرنے کی غرض سے بنائی گئی حکمت عملی میں وہ فوجی نگرانی خفیہ اطلاعات کی فراہمی اور سائبر سیکورٹی کے لیے اضافی 1.7بلین امریکی ڈالر خرچ کرے گا۔ ’بڑھتی ہوئی تخریبی عالمی طاقت‘ کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے کناڈا نے حال ہی میں 26صفحات پر مشتمل ایک دستاویز جاری کیا ہے۔ کناڈا جو کہ آزاد معیشت کی حکمت عملی پر عمل کرنے والاملک ہے۔ اپنے ملک میں چین کے تجارتی اداروں اور سرمایہ کاری کو لے کر بھی کافی محتاط ہوگیا ہے۔ کناڈا نے صاف کردیاہے کہ وہ غیرملکی مداخلت کے امکانات کو کم سے کم کرنے کے لیے اپنے ملک کے اند رخارجی سرمایہ کاری پر قانون کو مزید سخت بنائے گا۔ خیال رہے کہ کناڈا کے جواں سال وزیراعظم اگرچہ اپنے ملک میں روشن خیال اور اعتدال پسند لیڈر سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے کابینی رفقا میںاچھی غیرملکی نمائندگی ہے اور ان کی سیاسی پالیسی غیرملکی شہریوں کے لیے کافی لچک دار سمجھی جاتی ہے، اس غیرضروری لچک دار رویہ کی وجہ سے ہندوستان ناراض ہے، کیونکہ وہ ہندوستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والے علیحدگی پسند عناصر کو کافی چھوٹ دے چکے ہیں۔ خالصتان پرستوں کے ساتھ مراسم کی وجہ سے ہندوستان کی حکومت ان کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھے ہوئے ہے۔ اب چین کے ساتھ ان کا ٹکراؤ ایشیا اور ہندوستان کے ساتھ تلخیوں کے باوجود دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات اوسط ہیں۔
جی20-سربراہ کانفرنس پر چینی صدر کے ساتھ براہ راست ٹکراؤنے کناڈا کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ اب تک وہ پرانے اور روایتی حلیفوں یوروپ اور امریکہ پر توجہ مرکوز کرتا رہاہے۔ اس کے باوجود امریکہ کے بعد چین اسی کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی اور اقتصادی تعاون کے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے کناڈا اس کا متبادل جلد تلاش کرلے گا، اس کا امکان نہیں ہے۔ اسی سال ستمبر تک کی بارہ ماہ کی مدت کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان 25.8بلین کنیڈیائی ڈالر کی تجارت ہوئی ہے جو کناڈا کی مجموعی تجارت کا8.6فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایشیائی خطے کے مذکورہ بالا پانچوں ممالک کی کناڈا کی مجموعی تجارت کا صرف7فیصد ہے۔ کناڈا ان نزاکتوں کو سمجھتا ہے مگر جی20-سرابرہ اجلاس سے قبل ہی دونوں ملک میں تلخیوں کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ کناڈا ایک چینی کمپنیHuawei technologiesکے چیف فائنانشیل امرپینگوونزوکو گرفتار کرکے امریکہ بھیج چکا ہے۔ اس پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے دوکناڈائی مائیکل کوپنگ Macheal Kovring) اور مائیکل اسپیور(Micheal Spavor) کو چین نے اپنی حراست میں لے لیا تھا۔
ان دونوں واقعات کا اثر کناڈا اور چین کی تجارت پرپڑا ہے اورگزشتہ تقریباً تین سال بشمول کووڈ19کی وبا کے اثرات نے تجارتی تعاون کوکم کیا، رہی سہی کسر دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ ٹکراؤ پوری کردے گا۔
اس خطے میں امریکہ اور ناٹو ممالک چین کے حریف ممالک کے ساتھ فوجی اور اقتصادی تعاون کو مضبوط کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ ان ممالک کا فوکس جنوبی کوریا، جاپان، سنگاپور اور تائیوان ہے۔ دیگر ملکوں کی طرح کناڈا بھی اپنی دفاعی حکمت عملی اقتصادی حکمت عملی کے ساتھ ملا کر چل رہاہے۔ ایشیا میں بنیادی ڈھانچہ میں1.7امریکی ڈالر کے علاوہ مزید 750ملین کنیڈیائی ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا۔ فضائی تحفظ کے لیے امریکی ایرو اسپیس ڈیفنس کمانڈ (American Aerospace Defence Commmand)کے ساتھ تعاون اور تال میل ہے جس کے ذریعہ کناڈا آریٹک(Arcitic)اور اٹلانٹک (Atlantic) مفادات کو یقینی بنائے ہوئے ہے۔ کناڈا کی وزیرخارجہ میلانی جولی نے اپنے ملک کی خارجہ، دفاعی اورتجارتی حکمت عملی پر گفتگو کرتے ہوئے بار بار ہندوستان کا نام لیا، کناڈا اور امریکہ کو بھی اندازہ ہے کہ خطے میں چین کے بڑھتے اثر ورسوخ کو کنٹرول کرنے کے لیے ہندوستان کی اہمیت ہے۔ ہندوستان بھی چین کے اثرات کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے ہر موسم کے دوست چین اور جنوبی کوریا پر کافی بھروسہ کرتا ہے اور اگر اس کے اثرات کو کنٹرول کرنا ہے تو ہندوستان کو نظراندازکرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔n