بلڈوزرکی کارروائی سے جمہوریت کی شبیہ ہوئی خراب:ششی تھرور

0

نئی دہلی (ایجنسیاں) : کانگریس کے لیڈر ششی تھرور نے جہانگیر پوری تشدد کے بعد بلڈوزر کے ذریعہ کی گئی کارروائی کو غیر آئینی کہاہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی کارروائی کرکے حکومت ایک خاص کمیونٹی کو خاص پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے ششی تھرور نے کہا کہ میں حکومت کی طرف سے کی گئی اس کارروائی کو غلط سمجھتا ہوں۔ یہ بغیر کسی نوٹس اور آئینی عمل کے بغیر کسی کا گھر کیسے توڑ سکتا ہے۔ یہ کارروائی بغیر کسی تحقیقات کے کی گئی ہے۔ یہ غیر آئینی ہے۔ کسی کا گھر توڑنا ایک غیر انسانی فعل ہے۔اس کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے تھرور نے کہا کہ جمہوریت میں حکومت یکطرفہ طور پر کیسے کام کر سکتی ہے۔ برطانیہ کے وزیر اعظم ہندوستان میں ہیں۔ رائسینا ڈائیلاگ چل رہاہے جس میں 70 ممالک کے لوگ شرکت کریں گے۔ ایسے میں جب وہ آئیں گے تو اس پر بات ہوگی اور ہماری جمہوریت کی شبیہ کو دھچکا لگے گا۔
تھرور نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ تجاوزات کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، اس لیے حکومت کو ہر جگہ کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنی چاہیے تھیں۔ ملک کی3 ریاستوں اتر پردیش، مدھیہ پردیش اور دہلی میں بلڈوزر چل چکا ہے۔ مدھیہ پردیش میں اس نے پی ایم ہاؤس یوجناکے تحت بنے ایک غریب خاتون کا گھر بھی گرا دیا تھا۔ دہلی میں ڈی ڈی اے کے لائسنس ملے دکان کو توڑدیاگیا، یہ ہمارے شہریوں کے خلاف سراسر غنڈہ گردی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کرکے حکومت ایک خاص کمیونٹی کو پیغام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ اب اس ملک میں تمہاری حیثیت بدل گئی ہے۔