روٹی، کپڑا اور مکان کے بعد علاج بھی مہنگا:ورون گاندھی

0
image:indiatoday

نئی دہلی (ایجنسیاں) : ہندوستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی سے عوام پریشان ہیں۔ اس مہنگائی کی وجہ سے کچھ بی جے پی لیڈران اکثر اپنی ہی حکومت کے خلاف بولتے ہوئے نظر آ جاتے ہیں۔ بی جے پی رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی ایسے ہی لیڈروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ اکثر مرکز کی مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ ایک بار پھر انھوں نے مہنگائی کو لے کر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس مرتبہ انھوں نے بڑھتی مہنگائی کے درمیان ضروری دوائیوں کی قیمتیں بڑھنے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ورون گاندھی نے کہا ہے کہ 800 انتہائی اہم اور عام استعمال


والی دوائیوں کی قیمتوں میں اضافہ کے بعد اب اسپتالوں میں علاج بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ روٹی مہنگی، کپڑا مہنگا، مکان مہنگا اور اب علاج مہنگا ہوا۔ صحت اور تعلیم تو بنیادی ضرورتیں ہیں۔ مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عام آدمی کو راحت کب ملے گی؟ خود احتسابی کی ضرورت ہے۔ واضح ر ہے کہ ایک دن پہلے ہی ورون گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ مستقل ملازمتوں کی جگہ پر غیر مستقل ملازمتوں کا چلن، معاشی محاذ پر ہماری ناکامی کی داستان ہیں۔ رکن پارلیمنٹ نے ایک اخبار کے پورٹل کی خبر کو اَپ لوڈ کرتے ہوئے یہ تبصرہ کیا تھا۔ اس خبر میں بتایا گیا کہ بائجوس نامی فرم نے اپنے 2500 ملازمین کو نکال دیا۔ اس پر ورون گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا تھا کہ چھنٹنی میں بے روزگار ہوئے لوگوں کے بارے میں تصور کیجیے۔ والدین کا علاج، گھر کی ای ایم آئی، بچوں کی فیس… ان کی زندگی ایک جھٹکے میں برباد کر دی گئی ہے۔