مبشر کی بہادری

0

روبینہ ناز
عاشر ایک دبلا پتلا مگر پھرتیلا لڑکا تھا۔ گھر، اسکول،کھیل کے میدان میں ہر جگہ نمایاں رہتا تھا۔سب اسے سراہتے، اسے اہمیت اور محبت دیتے۔ہوتے ہوتے عاشر ڈینگیں بھی مارنے لگا تھا جبکہ اس سے دو برس بڑا اس کا بھائی مبشر پولیو کی وجہ سے ہر کام میں اس سے پیچھے رہتا تھا۔
سب مبشر کا مذاق اُڑاتے اور معذوری کی وجہ سے اسے کند ذہن اور ڈر پوک سمجھتے۔
کھیل کے میدان میں اس کی پولیو زدہ ٹانگیں دیکھ کر کوئی بھی اسے اپنی ٹیم میں شامل نہ کرتا اور وہ صرف تالیاں بجانے والوں میں بیٹھا سوچتا رہتا کہ میں ان سب کو کیسے یقین دلاؤں کہ میں کند ذہن اور ڈر پوک نہیں ہوں بلکہ مجھ میں بھی بہت کچھ کرنے کی ہمت اور لگن موجود ہے۔
ایک دن اس کے ابو اپنے آفس کے کام سے دوسرے شہر گئے ہوئے تھے،گھر پر دونوں بھائی اپنی امی کے ساتھ اکیلے تھے، اسی رات کو ان کے گھر ایک چور آگیا جس نے چاقو کی نوک پر ان کی امی سے گھر کی چابیاں مانگ لیں۔
عاشر ڈر کے مارے اپنی امی کے پیچھے چھپ گیا اور امی نے گھر کی چابیاں چور کے حوالے کر دیں۔
چور جیسے ہی چابیاں اٹھانے کے لیے زمین پر جھکا تو مبشر نے پیچھے سے اپنی لاٹھی اس کے سر پر ماری ، اس اچانک حملہ سے چور کے ہاتھ سے چاقو گر گیا۔ عاشر،مبشر اور ان کی امی بھاگ کر باہر نکلے اور دروازہ باہر سے بند کر دیا۔چنانچہ کچھ ہی دیر میں پولیس نے چور کو پکڑ لیا اور علاقے کے لوگوں نے مبشر کی بہت تعریف بھی کی اور پولیس انسپکٹر فیصل حق نے اسے بہادری کا سرٹیفکیٹ بھی دیا۔rvr