چینی اولمپکس کا بائیکاٹ

0

ڈاکٹر وید پرتاپ ویدک

ہندوستان چین کے دارالحکومت بیجنگ میں شروع ہونے والے اولمپک کھیلوں کا بائیکاٹ کرے گا۔ ہمارے سفارت کار نہ تو اس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کریں گے اور نہ ہی پروقار تقریب میں، کیونکہ چین نے ہندوستان کو بے عزت کرنے کی نئی چال چلی ہے۔ اس نے اولمپک کے افتتاحی جلوس میں اپنی فوج کے اس کمانڈر کو مشعل بردار بنایا ہے، جو گلوان وادی میں ہندوستان پر حملے کا ماسٹر مائنڈتھا۔ کی فاباؤ نامی اس کمانڈر نے گلوان-تصادم کے بعد ایک انٹرویو میں کافی شیخی بگھاری تھی اور 20ہندوستانی جوانوں کو مارنے کا سہرا اپنے سر باندھا تھا۔ چینی فوج نے اسے اس کی بہادری کے لیے اعزاز سے بھی نوازا تھا۔کیا ایسے شخص کو اولمپک گیمز کا ہیرو بنانا اس بات کی علامت نہیں ہے کہ چین چوری اور سینہ زوری پر آمادہ ہے؟ یہی نہیں، گزشتہ ماہ چینی فوجیوں نے سرحد کے ایک گاؤں سے ایک ہندوستانی نوجوان کو اغوا کرکے اس کی زبردست پٹائی کی اور ہندوستان کے احتجاج کرنے پر اسے واپس کردیا لیکن اسے نیم مردہ کرکے! چینیوں نے یہ سب حرکتیں تب کیں جب کہ ہندوستان نے نومبر 2021 میں ہند- روس- چین کی سہ رخی میٹنگ میں اولمپک گیمز کے استقبال کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ اپنی سرزمین پر قبضے اور اپنے فوجیوں کے قتل کے باوجود وہ چین کے ساتھ پرامن طریقے سے بات چیت کر رہا ہے۔ کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ چین اپنی داداگیری پر اُتارو ہوگیا ہے؟ اسے شاید یہ برا لگ رہا ہے کہ ہندوستان اور امریکہ ایک دوسرے کے اتنے نزدیک کیوں آ رہے ہیں۔ چینی اولمپک کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے کے لیے روس سے پوتن، پاکستان سے عمران خان اور پانچ وسطی ایشیائی جمہوریہ کے صدور بیجنگ پہنچ رہے ہیں۔ لیکن امریکہ، کناڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، بلجیم، ڈنمارک جیسے کئی ممالک نے ان کھیلوں کے سفارتی بائیکاٹ کا اعلان پہلے سے اس لیے کررکھا ہے کیونکہ چین میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ ایک امریکی سینیٹر نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ چین کی یہ حرکت شرمناک ہے کہ اس نے اولمپک کے جلوس میں ایسے مشعل بردار کو شامل کیا ہے جس نے اویغور مسلمانوں کا قتل عام کیا ہے اور ہندوستانی جوانوں کو بھی ہلاک کیا ہے۔ ہندوستان نے اولمپک کھیلوں کا یہ بائیکاٹ پہلی مرتبہ کیا ہے اورحکومت ان کھیلوں کو اب اپنے دوردرشن کے چینلوں پر بھی نہیں دکھائے گی۔ چین کی اس حرکت نے ہند-چین فوجی مذاکرات میں ایک نئی تلخی پیدا کردی ہے۔
(مضمون نگار ممتاز صحافی، سیاسی تجزیہ کاراور
افغان امور کے ماہر ہیں)
[email protected]