بلوم برگ کی طرف سے واشنگٹن پوسٹ خریدنے کی کوشش

0

واشنگٹن(ایجنسیاں)
ارب پتی کاروباری شخصیت اور بلوم برگ ایل پی کے مالک مائیکل بلوم برگ کی کوشش ہے کہ وہ وال سٹریٹ جرنل کے مالک ادارے ڈاو جونز یا واشنگٹن پوسٹ میں سے کسی ایک کو خرید لیں۔یہ خبر جمعہ کے روز ایک ویب سائٹ نے دی ہے۔ تاہم وی سائٹ نے اپنے ذرائع کو خفیہ رکھتے ہوئے انہیں اس معاملے سے بہت جڑا ہوا قرار دیا ہے۔اس طرح کے انضمام کے نتیجے میں مالی اعداد و شمار کے علاوہ بڑے ابلاغی ادارے پر دسترس ہو سکے گی۔ مائیکل بلوم برگ جو کہ دنیا کے باہرویں بڑے مالدار شخص ہیں بلوم برگ کے کئی ٹرمینلز کی فروخت کی اجازت دے سکتے ہیں۔ جوکہ ان کے لئے آمدنی کا اہم ذریعہ ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق مائیکل بلوم برگ دیکھتے ہیں کہ نیوز کارپوریشن جو ڈاو جونز کی بھی مالک ہے کہ بھی بہترین خیال ہے مگر ایمازون کے مالک نے واشنگٹن پوسٹ فروخت کرنے میں دلچسپی ظاہر کی تو وہ واشنگٹن پوسٹ کی خریداری کو ترجیح دیں گے۔ تاہم اس بارے میں بلوم برگ ایل پی ، واشنگٹن پوسٹ اور ڈاو جونز میں سے کسی نے بھی کوئی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔اس تناظر میں یہ اہم بات ہے کہ جب عالمی سطح پر ہر طرف مندی کا رجحان ہے تو نیوز کارپوریشن نے تین فیصد تک اپنے حصص کی قیمت میں اضافہ کیا ہے۔ماہ اکتوبر میں روپرٹ مرڈوک نے بھی ایک کوشش شروع کی تھی۔ تاکہ میڈیا کی اپنی سلطنت کو یکجا کر سکے۔ ان کی یہ کوشش نیوز کارپوریشن اور فاکس نیوز کے درمیان دس سال سے جاری علیحدگی کے بعد یکجائی پیدا کرنے کی کوشش ہے۔ایک تجزیہ کار کارگ ہبر کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اگر مرڈوک وال سٹریٹ جرنل فروخت کرتے ہیں تو یہ ان کے لئے حیران کن بات ہو گی۔ کیونکہ انہوں نے اپنے خاندان سے یہی کہا ہے کہ فروخت نہیں کریں گے۔ کیونکہ ، وال سٹریٹ جرنل ان کے خاندان کے لئے جائیدادوں میں سے ایک ٹرافی پراپرٹی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قیاس آرائیاں ان کوششوں کے بعد سامنے آئی ہیں جو وہ اپنی میڈیا ایمپائر کو یکجا کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ بلوم برگ ایل پی دنیا میں اپنی کاروبار اور مالی امور سے متعلق خبروں کی وجہ سے غیر معمولی شہرت رکھتا ہے۔