بی جے پی رکن پارلیمنٹ کے بیٹے نے خود پر چلوائی گولی

0

گولی چلانے والے سالے کا پولیس کے سامنے اقرار جرم، کچھ لوگوں کو پھنسانے کیلئے انجام دیا گیا واقعہ
لکھنؤ: بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کے بیٹے آیوش پر منگل کی دیر رات مبینہ حملے کے معاملے میں بدھ کو نیا موڑ آ گیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے میں حراست میں لیے گئے آیوش کے سالے آدرش نے پوچھ گچھ میں بتایا کہ اس واقعہ کو کچھ لوگوں کو پھنسانے کے لیے جان بوجھ کر انجام دیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق آدرش نے گولی چلانے کی بات قبول کی ہے۔
پولیس کمشنر ڈی کے ٹھاکر نے بتایا کہ ’اب تک ہونے والی جانچ میں پایا گیا ہے کہ رکن پارلیمنٹ کوشل کشور کے بیٹے آیوش نے اپنے سالے آدرش سے خود پر گولی چلوائی تھی۔ آدرش نے کہا کہ اس نے آیوش کے کہنے پر ہی اس پر گولی چلائی تھی۔‘ اس سوال پر کہ آیوش کی جانب سے پویس کو ابھی کوئی تحریر ملی ہے یا نہیں اور کیا اس سلسلے میں معاملہ درج کیا جائے گا، ٹھاکر نے کہا کہ ’چونکہ کسی نے بھی معاملہ درج نہیں کرایا ہے اور واردات میں استعمال کیا گیا اسلحہ برآمد کیا جا چکا ہے، اس لیے ہم ایف آئی آر درج کرائیں گے۔‘اس سے قبل مڑیائوں تھانہ انچارج منوج کمار سنگھ نے بتایا تھا کہ ’موہن لال گنج سے بی جے پی رکن پارلیمنٹ کوشل کشورکے بیٹے آیوش (30) کو گولی ماری گئی۔ اس واقعہ میں آیوش معمولی طور پر زخمی ہو گیا تھا۔ یہ واقعہ 2-3 مارچ کی درمیانی رات سوا 2 بجے سیتا پور مارگ پر ہوا۔‘انہوں نے بتایا تھا کہ آیوش کو ٹراما سینٹر میں بھرتی کرایا گیا تھا جہاں علاج کے بعد انہیں صبح ہی چھٹی دے دی گئی۔ اس معاملے میں آیوش کے سالے آدرش کو حراست میں لیا گیا ہے۔
سنگھ نے بتایاکہ ’آدرش نے آیوش کو گولی مارنے کا جرم قبول کر لیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کچھ لوگوں کو پھنسانے کے لیے اس واردات کو انجام دیا گیا تھا۔‘ سنگھ نے کہا کہ پکڑے گئے ملزم سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ دریں اثنا رکن پارلیمنٹ کوشل کشور نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ’ٹراما سینٹر میں میرے بیٹے نے مجھے کسی کا نام نہیں بتایا۔ اس نے یہ ضرور بتایا تھا کہ وہ اپنے سالے کے ساتھ گھر سے باہر نکلا تھا، تبھی یہ واقعہ پیش آیا۔‘انہوں نے کہا کہ’آیوش اور اس کا سالہ آدرش جو بھی کہہ رہے ہیں، اسے وہ ہی بہتر جانتے ہوں گے۔ ان کی کسی سے رنجش نہیں تھی۔ نہ جانے وہ کسی کو کیوں پھنسانا چاہیں گے۔‘

آپ کے تاثرات
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
0
+1
1

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here