پنجاب پولیس کیجریوال کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے: بی جے پی

0

نئی دہلی: (یو این آئی) بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے پارٹی کے رہنما تیجندر پال سنگھ بگا کی پنجاب پولیس کے ذریعہ گرفتاری پر آج سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب پولیس عام آدمی پارٹی کے رہنما اروند کیجریوال کے آلہ کار کے طور پر استعمال ہورہی ہے اور بی جے پی اس سے ڈرنے والی نہیں ہے۔
بی جے پی کے دہلی ریاستی صدر آدیش گپتا، پارٹی کے قومی سکریٹری آر پی سنگھ اور پارٹی لیڈر منجندر جیت سنگھ سرسہ نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس میں یہ الزام لگایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر بگا کو پنجاب پولیس نے اغوا کیا اور کہا کہ پنجاب پولیس مسٹر بگا کو غیر قانونی طور پر صبح کے وقت زبردستی لے گئی اور ان کو پگڑی تک نہیں پہننے دی۔انہوں نے کہا کہ مسٹر بگا نے پنجاب انتخابات سے پہلے مسٹر کیجریوال سے سیاسی سوالات پوچھے تھے۔ اس لیے یہ کارروائی کی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وزیر اعلیٰ سے سوال کرنا جرم ہے؟ اگر دہلی پولیس ایسے آمر کے ماتحت ہوتی تو پتہ نہیں کیا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر کیجریوال کہتے تھے کہ وہ سیاست کو بدلنے کے لیے سیاست میں آئے ہیں، لیکن سیاست نے انہیں بدل دیا ہے۔
گپتا نے کہا کہ کیجریوال پنجاب پولیس کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور پنجاب پولیس مسٹر کیجریوال کے ہتھیار کے طور پر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے بگا کے والد کے ساتھ پنجاب پولیس کے ذریعہ کئے گئے ناروا سلوک کی مذمت کی اور کہا کہ بی جے پی اس سے خوفزدہ نہیں ہے۔ بی جے پی نے ایمرجنسی کا سامنا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسٹر کیجریوال اور عام آدمی پارٹی سے سوال پوچھتے رہیں گے اور ان کی غنڈہ گردی کا گلی گلی جواب دیں گے۔
واضح رہے کہ پنجاب پولیس کے دس سے زائد اہلکاروں کی ٹیم نے جمعہ کی صبح بی جے پی لیڈر بگا کو دہلی کے وزیر اعلی مسٹر کیجریوال کو مبینہ طور پر دھمکی دینے کے الزام میں ان کی مغربی دہلی کی رہائش گاہ سے گرفتار کیا اور وہ پنجاب روانہ ہو گئے۔ واقعہ کی خبر پھیلتے ہی معاملے نے سیاسی زور پکڑ لیا۔ بتایا گیا ہے کہ پنجاب پولیس کی یہ کارروائی قواعد کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے دہلی پولیس کو بتائے بغیر نامناسب کارروائی کی ہے۔ اسی وجہ سے دہلی پولیس نے دہلی کے جنک پوری پولیس اسٹیشن میں پنجاب پولیس کی ٹیم کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کیا ہے جس نے مسٹر بگا کو حراست میں لیا تھا۔
یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بگا کو لے جانے والے پنجاب پولیس کے قافلے کو ہریانہ پولیس نے کروکشیتر میں روک دیا ہے۔ وہیں ہریانہ پولس کی کرائم برانچ کی ٹیم پنجاب پولیس کی ٹیم سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ بگا کو پانچ نوٹس بھیجے گئے لیکن وہ ان کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ اس لیے اسے گرفتار کرنا پڑا۔ سمجھا جاتا ہے کہ دہلی پولیس کی اطلاع پر ہریانہ پولیس نے یہ کارروائی کی ہے۔